پی جا ایام کی تلخی کو ۔۔۔ نسرین غوری

ہم خیر سے ایک عدد بھتیجی کی پھپھو ہیں۔ جو ماشاء اللہ اب آٹھ سال کی ہورہی ہے، اور اٹھان ایسی ہے کہ دس سال کی لگتی ہے۔ گو کہ عمومی طور پر بچیوں کو پیریڈز 12 سے 14 سال کی عمر سے اسٹارٹ ہوتے ہیں لیکن ایسے واقعات بھی ہیں کہ آٹھ سال تک کی بچیوں کو بھی پیریڈزاسٹارٹ ہوجاتے ہیں۔ لازمی نہیں کہ اسے بھی اتنی جلدی پیریڈز اسٹارٹ ہوں لیکن اسے دیکھ کر ہمیں خیال آیا کہ جلد یا بدیر وقت آنے والا ہے کہ اسے پیریڈزکے بارے میں کچھ آگاہی دی جائے۔ لیکن اس سے پہلے آگاہی دینے والے کو خود بھی تو کچھ علم ہو۔

ہم نہیں جانتے کہ اس موضوع پر کسی بچی کو آگاہی دینے کی صحیح عمر کیا ہے۔ کیا معلومات دی جائیں، کن الفاظ میں دی جائیں اور دے کون۔ کیونکہ ہمیں تو خود بھی کسی قسم کی کوئی معلومات یا بریفنگ نہیں ملی تھی۔ بس اچانک افتاد پڑی تھی۔ اس زمانے میں ایسا کوئی رواج ہی نہیں تھا۔ نہ ہماری اماں کو ایسی کوئی بریفنگ ملی ہوگی نہ انہوں نے ہمیں دی۔ ہمیں کچھ کچھ اندازہ تو تھا۔

اور یہ اندازہ کیوں تھا کہ اس زمانے میں عموماً گھروں میں ایک ہی بیت الخلاء یا واش روم ہوا کرتا تھا۔ اور وہ بھی بکٹ Bucket والا۔ ایک عدد بھنگی یا جمعدار صبح سویرے بکٹ خالی کر جایا کرتا تھا۔ پھر دن بھر اسی بکٹ میں سب کا اور ہر قسم کا “سامان” جمع ہوا کرتا تھا اگلی صبح تک۔ تو ہم بچوں کو اس “سامان” میں کبھی کبھی نارمل سازو سامان کے علاوہ خصوصی سامان بھی نظر آجاتا تھا۔ جو پہلے تو بالکل بھی سمجھ نہیں آتا تھا۔ لیکن بعد میں کچھ کچھ اندازہ ہوا کہ کچھ نہ کچھ تو گڑ بڑ ہے۔ برا ہو ترقی کا کہ ہمارا زمانہ آنے تک بکٹ سسٹم ختم ہوکر ڈبیلو سی اور فلش سسٹم آگیا اور ساتھ ہی ایک عدد ڈسٹ بن یا کچرے کا ڈبہ واش روم کے باہر پوسٹ کردیا گیا۔ جس کے باعث کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اس کی تفصیل آگے آتی ہے۔

تو بات ہورہی تھی کہ ہمیں پہلے سے کوئی بریفنگ نہیں دی گئی تھی۔ ہمیں ٹھیک سے نہیں یاد کہ اچانک افتاد کب پڑی تھی شاید ہم چھٹی کلاس میں تھے۔ ہماری شلوار پر دھبے نوٹ کر کے ہمیں بس ایک عدد پرانی، شاید ابا کی انڈر گارمنٹ دے کر اور کپڑے کا سینٹری پیڈ استعمال کرنے کا کہہ کر فارغ کردیا گیا۔ نہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا تھا یا کیا ہورہا تھا۔ اور یہ مستقل ہونے والا تھا۔ آئندہ کیا پیٹرن ہوگا۔ ہمیں کیا احتیاطی تدابیر کرنی ہونگی۔ کن باتوں کا خیال کرنا ہوگا۔ یہ بات پتا نہیں کیسے ہمارے علم میں تھی کہ اب یہ “مصیبت” ہر ماہ ہمارے سر پڑ گئی ہے شاید زندگی بھر کے لیے۔

بغیر کسی بریفنگ کے ابتدائی سالوں میں معاملہ ٹرائل اینڈ ایرر کی بنیاد پر چلتا رہا۔ تاریخ یاد نہیں رہتی تھی اور کسی نے بتایا بھی نہیں تھا کہ تاریخ یاد رکھنی چاہیے اس لیے کئی بار اسکول میں کپڑے خراب ہوجاتے۔ کوئی ساتھ بیٹھی دوست بتاتی کہ تمہارے کپڑے خراب ہوگئے ہیں۔ جنہیں چھٹی میں بڑے سے دوپٹے سے پیچھے سے ڈھک کر گھر واپس آتے اپنی دانست میں یہ سمجھتے ہوئے کہ کسی کو کچھ نظر نہیں آیا ہوگا۔ سرکاری اسکول میں تو واش روم تک نہیں تھا باقی انتظامات کا آپ خود اندازہ لگا لیں کہ کس معیار کے ہوتے ہونگے۔

اس وقت ریڈی میڈ سینیٹری پیڈز کا رواج نہیں تھا۔ گھروں میں پرانے استعمال شدہ کپڑوں کو تہہ لگا کر بطور سینٹری پیڈز استعمال کیا جاتا تھا۔ اب ایک تو یہ مسئلہ کہ جی کتنی موٹی تہہ لگائی جائے، پھر ہر قسم کے کپڑے کی جذب کرنے کی صلاحیت الگ الگ ہوتی تھی، کپڑا موجودہ سینٹری پیڈز کی طرح شرافت سے ایک جگہ ٹک کے بھی نہیں بیٹھتا تھا۔ لہٰذہ کتنی بھی احتیاط کرلو لیکیج ہوہی جاتی تھی۔ نتیجہ شرمندگی اور پریشانی۔ اور اگر گھر میں ایک سے زائد ایسی خواتین ہوں تو استعمال شدہ کپڑے کے لیے آپس میں چھوٹی موٹی چپقلش بھی ہوجاتی تھی۔

سب سے بڑا مسئلہ اس پیڈ کو واش روم تک خفیہ طور پر لے جانا اور استعمال شدہ پیڈ کو کچرا برد کرنا ہوتا تھا۔ ہماری خرابی قسمت سے اسٹور اور واش روم ایک دوسرے سے 180 ڈگری کی دوری پر واقع تھے۔ اب کبھی درمیان میں بھائی کھیل رہا ہے، کبھی ابا چارپائی پر دراز اخبار پڑھ رہے ہیں، موٹر سائیکل کی مرمت میں یا کسی اور کام میں مصروف ہیں۔ کرلو جو کرنا ہے۔ کیونکہ پیریڈز ہونا اس زمانے میں انتہائی شرم کی بات بلکہ شرم ناک بات ہوا کرتی تھی، جس بچی کو پیریڈز ہوتے وہ بے چاری اس دوران پریشان اور شرمندہ شرمندہ پھرا کرتی تھی۔ کسی ایسی سیٹ پر بیٹھنے سے احتیاط کرتی تھی جہاں دھبہ لگنے کا خطرہ ہو۔ سارا وقت بس الرٹ پر لگی رہتی تھی۔ ایسے میں استعمال شدہ پیڈ کو ٹھکانے لگانا کس قدر جان جوکھوں کا کام ہوتا تھا کسی مرد کو اندازہ بھی نہیں ہوسکتا۔ کسی کی بھی نظروں میں آئے بغیر، گھر کے مردوں کے گھر سے باہر جانے یا ادھر ادھر ہونے کے انتظار میں بندہ بیٹھا بیٹھا سوکھ ہی جائے۔ اسٹور سے واش روم تک کا فاصلہ ان دنوں سب سے طویل اور مشکل ترین ٹریکنگ ہوا کرتی تھی۔

نماز کے معاملے میں ہم اللہ معاف کرے زرداری کے ہی ارد گرد ہیں شروع سے۔ لیکن رمضان کے روزے پورے رکھتے ہیں اور ساتھ نماز کا اہتمام بھی۔ اب رمضان میں پیریڈز کا پردہ رکھنے کے لیے صبح سحری میں بھی اٹھتے، سارے دن بھوکے پیاسے بھی رہتے، نماز کے وقت وضو کر کے ادھر ادھر ہوجاتے لیکن ایک کمرے کے گھر میں ادھر ادھر ہوجانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا۔ وہ تو شکر ہے کہ ابو سحری کے نکلے ٹیوشنز پڑھا کر افطار سے ذرا پہلے واپس آتےتھے۔ لیکن بھائی کی موجودگی میں کسر نکل جاتی تھی۔ گرمیوں کی چھٹی میں تو دادا بھی بہاولپور سے ہمارے گھر آجاتے۔ یک نہ شد تین تین شد۔

کسی نے یہ بھی نہ بتایا تھا کہ اگر پیریڈز میں کوئی کمی بیشی یا تکلیف ہو تو کیا کیا جائے۔ اگر کوئی پریشانی کی بات ہو تو اس صورت میں کس سے بات کی جائے۔ امیاں اس زمانے میں بچیوں کو اتنا فری نہیں کرتی تھیں کہ فری ہوکر ان سے کچھ ڈسکس کیا جاسکے۔ شروع میں تو کوئی تکلیف نہ تھی لیکن کچھ ماہ و سال گزرنے کے بعد پیریڈز کے ساتھ ایسی شدید تکلیف ہوتی کہ اللہ کی پناہ۔ کسی طور سکون نہ آتا۔ ہم باقاعدہ آنسووں اور چیخوں کے ساتھ روتے، پیٹ اور ٹانگوں میں درد کی شکایت کرتے لیکن اپنے ابو کو جو ہومیو پتھک ڈاکٹر ہیں منہ سے نہ کہہ سکتے کہ درد کیوں ہورہا ہے۔ کبھی کبھی امی کو خیال آجاتا تو وہ پوچھ لیتیں کہ درد کہیں پیریڈز کا تو نہیں۔ پھر اس کے مطابق دوا لے کر دیتیں، لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہوگا۔

پیریڈز اس زمانے میں اتنی شرم بلکہ شرمندگی کی بات ہوتی تھی کہ کوشش ہوتی تھی کہ کسی کو خبر نہ ہو۔ اور خبر پھر بھی ہوکر رہتی تھی۔ مزید طرہ یہ کہ جی آپ ناپاک ہیں۔ گھر میں آپ کسی نذر نیاز کی تیاری سے دور ہی رہیں۔ وہ جو نماز روزہ اور باقی پابندیوں سے بچ بچا جاتے وہ یہاں پکڑے جاتے۔ لیکن نذر نیاز والی پابندی اچھی تھی بندہ کام سے بچ جاتا تھا۔ مزید یہ کہ پیریڈز کے دوران آپ مہندی نہیں لگا سکتے، کیوں جی؟ کیونکہ آپ ناپاک ہیں۔ یہ پابندی تو ہم نے کبھی نہیں مانی ہم تو ہاتھ چھوڑ پیروں میں اور سر میں بھی مہندی لگا لیتے۔

ایک اور پابندی یہ تھی کہ جی آپ 7 دن سے پہلے نہا نہیں سکتے۔ یعنی پیریڈز کے درمیان کے دنوں میں۔ اب کراچی کی گرمی کا اندازہ کریں اور نہانے پر پابندی کو تصور میں لائیں، بندہ سڑ نہ جائے سات دنوں میں۔ اللہ بھلا کرے گائینی کی ٹیچر کا جنہوں نے ڈی ایچ ایم ایس فائنل ائیر میں ان تمام غیر سائنسی روایات اور تصورات کا قلع قمع کرنے میں مدد دی، اب اماں شور مچاتی رہتیں لیکن ہم آرام سے درمیان میں نہا لیتے۔

ہومیوپیتھک ڈاکٹربننے اور چھ سات سال پریکٹس کرنے کے بعد تو جو ہم میں رہی سہی شرم تھی وہ بھی نکل گئی۔ سب سے پہلے ہم نے کپڑوں کے سینٹری پیڈز سے جان چھڑائی۔ اب ہم بڑے مزے سے پرچی پر سینڑی پیڈز کا برانڈ اور ٹائپ لکھ کر ابا کے حوالے کردیتے کہ ہمیں یہ چاہئیں۔

پیریڈز سے جڑی ان ساری پریشانیوں، شرم، شرمندگی اور پابندیوں نے پیریڈزکو ایک ناگوار اور ناپسندیدہ حقیقت میں تبدیل کردیا جو اب تک ناگوار ہی ہے۔ عید، بقر عید، کسی عزیز یا دوست کی شادی یا کوئی پکنک یا ٹریکنگ کی تاریخیں اگر پیریڈز کی تاریخوں میں آرہے ہوں تو ایک ناگواری اور عدم آرام کا احساس ہوتا ہے۔ کوشش رہتی ہے کہ ان دنوں میں کوئی بیرون خانہ سرگرمی نہ ہو۔ لیکن دفتر تو جانا ہی پڑتا ہے۔

پیریڈز سے جڑی شرم کا اندازہ اس بات سے کریں کہ بچیوں کو بریفنگ کے سلسلے میں فیس بک پر ایک لیڈیز اونلی گروپ میں پوسٹ کی کہ بچیوں کو کس عمر سے پیریڈز کے بارے میں بریف کیا جائے اور کیا بریف کیا جائے تو وہاں سناٹا چھایا رہا۔ خواتین خواتین سے بھی اس موضوع پر بات کرنے سے کتراتی ہیں۔ ایک اور بہت سلجھی ہوئی خاتون سے اس موضوع پر لکھنے کی درخواست کی تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ لکھیں گی لیکن اپنی وال پر پوسٹ کرنے سے قاصر ہونگی البتہ ایک لیڈیز اونلی گروپ میں شئیر کردیں گی۔ پھر ہمیں خیال آیا کہ پہلے خواتین سے اپنے تجربات پوچھے جائیں کہ ان پر اس ضمن میں کیا کچھ گزری۔ انفرادی پرسنل میسجز کر کر کے معلوم ہوا کہ

“اک ہم ہی نہیں تنہا”

بہر حال ہم بچیوں کو کب اس ضمن میں بریف کیا جائے اور کیا اور کیسے بریف کیا جائے پر مواد جمع کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ یہ پہلا کالم یا پہلا قدم صرف اور صرف اس موضوع پر سے شرمندگی کی دھول اتارنے کی غرض سے لکھا گیا ہے۔ کہ یہ انسانی زندگی کا ایک نارمل لازمہ ہے۔ جس سے جڑی پریشانیوں اور الجھنوں سے ہر خاتون کو گزرنا پڑتا ہے۔ ہم کب تک اس موضوع پر شرم اور شرمندگی کا پردہ ڈالے رکھیں گے۔ اور نارمل انسانوں کی طرح اس پر بات نہیں کریں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”پی جا ایام کی تلخی کو ۔۔۔ نسرین غوری

    1. سلام ساری خواتین کی ہمت کو جو ان ساری ڈسٹربنگ سچویشن کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہیں۔ خواہ گھریلو ذمہ داریاں ہوں یا دفتری ۔ مزید سلام ان خواتین کو جو ماں بننے کے تکلیف دہ مراحل سے بھی گزرتی ہیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *