ڈونلڈ جے ٹرمپ اور شکست خوردہ مخالفین

امریکی الیکشن میں رپبلکن امید وار ڈونلڈ جے ٹرمپ نے میدان مار لیا ہے اور وہ واضع اکثریت سے کامیاب ہو کے امریکہ کے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ اچنبھے کی بات ہو سکتی ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر امریکی عوام کی سوچ اور حالیہ چند برسوں میں ان میں پنپنے والے ایگریشن کا، اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو سب حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۔ کئی لوگوں کی طرح میرے نزدیک بھی فتح ڈونلڈ جے ٹرمپ کی ہونا یقینی تھی اور اس کی وجہ بھی میں عرض کر چکا ہوں ۔ اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ بہت سے امریکی جو اس الیکشن کے نتائج سے خوش نہیں ہیں، انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے سڑکوں کی راہ لی ہے، جب کے ان کا تعلق پی ٹی آئی سے بھی نہیں ہے ۔

ہار اور جیت دو ایسی حقیقتیں ہیں جو بیک وقت ساتھ چلتی ہیں۔ جب بھی کوئی کام شروع کیا جائے تو اسکے اختتام پر یہ دونوں ایک یونیورسل سچائی کے طور پر سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک حتمی طور پر غالب آ جاتا ہے، اتنی سادہ سی بات ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جیت کتنی بھی مایوس کن کیوں نا ہو یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ڈونلڈ جے ٹرمپ واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اب ہیلری کے ووٹر کس بات کا غصہ نکال رہے ہیں یہ سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اکثریت امریکی عوام تو اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے پراپیگنڈا کو رد کرتے ہوئے اگلا صدر چن لیا ہے۔ ہیلری اور اوباما، جن کو سب سے زیادہ فرق پڑا ہے، وہ بھی ڈونلڈ جے ٹرمپ کو صدر تسلیم کر چکے ہیں اور اس بات کا خیرمقدم کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اب ڈونلڈ جے ٹرمپ کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کو کس خوش اسلوبی سے انجام تک پہنچاتے ہیں۔

بہت سے لوگ جو باریک بینی سے حالات کا جائزہ لے رہے تھے وہ یہ بات پہلے سے ہی جانتے تھے کہ کچھ باتیں جو ڈونلڈ جے ٹرمپ ابھی کر رہا ہے، ان میں سے بہت سی باتیں صدر بننے کے بعد اس کو یاد بھی نہیں ہوں گی۔ اگر ہوں گی بھی تو ان پر عمل درآمد بہت ہی محتلف انداز میں ہو گا اور ایسا ہی کچھ دیکھنے میں بھی آیا ہے۔ سب سے پہلے تو ڈونلڈ جے ٹرمپ کی اپنی ویب سائٹ سے مسلمانوں کو وطن بدر والا مواد ھٹا دیا گیا اور اس نے واضح کیا ہے کہ میری جنگ مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ ان غیر قانونی لوگوں سے ہے جو سالوں سے ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کا کوئی ٹریک ریکارڈ تو ہوتا نہیں ہے، سو جرائم میں ملوث اور پیش پیش ہوتے ہیں۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے ڈونلڈ جے ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں بیان دیا تھا کہ وہ اباما کیئر کو ختم کر دیں گے۔ مگر اب ان کا تازہ موقف سامنے آیا ہے کہ اس میں کچھ باتیں بہت اچھی بھی ہیں لہذا ان کو ایسے ہی چلتا رہنے دیں گے۔ خیال یہ ہی ہے اور امید بھی کہ دفتر سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ جے ٹرمپ کی سوچ میں مزید تبدیلی آئیگی جو کے مثبت ہو گی۔

جو لوگ بلا جواز احتجاج کر رہے ہیں ان کو چاہیے کہ اس چیز کو مستقل کے لیے روایت مت بنائیں۔ کل کو کوئی اور بھی جیتا تو سب ایسے ہی سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اسکو صدر مانیں سے انکار کر دیں گے۔ ڈونلڈ جے ٹرمپ صدر ہیں اور مخالفین اس بات کو تسلیم کریں کہ اگر نہیں بھی کرتے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
ایک برطانوی شہری جو امریکہ میں بہت مقبول صحافی ہیں، پیئر مورگن، انہوں نے اپنے میل آن لائن کے کالم میں لکھا ہے کہ ان مظاہروں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے ووٹ ہی نہیں ڈالا اور کچھ ایسے بھی نمونے ہیں جن کو اپنی ریاست کے گورنر کے نام کا بھی علم نہ ہو گا۔ ان مظاہروں اور احتجاج کی ایک منطق یہ بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ شاید یہ مظاہرے اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ یہ سب جو الیکشن میں ہوا، ایسے نہیں ہونا تھا۔ میڈیا نے تصویر ہی کچھ اور دیکھائی تھی، تجزیہ کاروں نے کچھ اور ہی اندازےلگاے تھے، اور اب جب اسکے برعکس ہوا ہے تو یہ کچھ لوگوں سے ہضم نہیں ہو رہا۔ لیکن الیکشن کی شفافیت پر کسی کو کسی قسم کا کوئی رتی برابر بھی شبہ نہیں ہے سو اس لیے اس احتجاج کا کوئی “ریزن ایبل گراونڈ” بنتا نہیں ہے۔

ویسے تو ہٹلر ایک قابل نفرت انسان ہے مگر اسکی ایک بات نہایت ہی عمدہ اور پلے باندھنے والی ہے۔ وہ کہتا تھا کہ اگر تم ہار جاو تو تمہیں وضاحت دینے کے لیے بھی وہاں موجود نہیں ہونا چاہیئے۔ کاش یہ بات ہیلری کے ووٹر کو بھی سمجھ آجائے اور وہ اگلی بار کا انتظار کریں۔ ویسے اس مقولے سے فائیدہ ہمارے پی۔ٹی۔آئی کے دوست بھی اٹھا سکتے ہیں۔

Avatar
نعیم اصغر تارڑ
لاگریجویٹ, سٹوڈنٹ آف فلاسفی آیٹ پنجاب یونیورسٹی, فری لینس جرنلسٹ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *