• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اعتدال اور میانہ روی کا فروغ، تعلیمی اداروں کا کردار اور عملی تجاویز

اعتدال اور میانہ روی کا فروغ، تعلیمی اداروں کا کردار اور عملی تجاویز

نومبر، 2016 کو آئی آڑ ڈی، اسلام آباد میں کانفرنس بعنوان ‘اعتدال اور میانہ روی کے فروغ میں تعلیمی اداروں کا کردار اور عملی تجاویز’ منعقد ہوئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر اور مدارس کی نمائندہ شخصیات، صحافی اور تھنک ٹینکس نے نے شرکت کی۔ سربراہ آئی آر ڈی، جناب ڈاکٹر حسن الامین صاحب نے استاد، نصاب اور تعلیمی ادارے پر حاضرین سے تجاویز طلب کیں۔ محترم رشاد بخاری صاحب نے اس فہرست میں ‘طالب علم’ کے اضافے کی سفارش کی کہ جدید نظریہ تعلیم اب طالب علم کو مرکزِ تعلیم ٹھہراتا ہے، جس کا رواج بد قسمتی سے ہمارے ہاں اب تک نہیں ہو سکا ہے۔

محترم ڈاکٹر حسن الامین کے یہ کہنے کے باوجود کہ انہیں عملی تجاویز درکار ہیں، عدم رواداری پر روایتی تقاریر نہیں، حاضرین کی طرف سے تجاویز سے زیادہ تقاریر ہی کی گئیں، جس میں عدم برداشت، تکفیریت، فرقہ بازی، وغیرہ کی مذمت قرآن و سنت کی روشنی میں بانداز احسن کی گئی۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ مسلکی پہچان پر مبنی مدارس قائم کر کے فرقہ واریت سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔فرقہ واریت کی تربیت اور آبیاری مدارس میں ہوتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ مدارس بھی، جدید عصری جامعات کی طرح مسلک کی پابندی سے آزاد ہو جائیں۔ نیز، اپنے مکتب فکر کی فقہی تعلیم کی بجائے مختلف مکاتبِ فقہ کا تقابلی مطالعہ کرایا جائے۔ فقہ جعفریہ کو بھی اس تقابلی مطالعہ میں شامل کیا جائے۔

حاضرین کی طرف سے کچھ اچھی تجاویز بھی سامنے آئیں، جن میں مختلف مسالک کے مدارس کے طلباء کا ایک دوسرے کے ہاں میل ملاقات، مشترکہ سمیمینارز کا انعقاد اور ایک ساتھ نماز پڑھنا وغیرہ شامل تھیں۔

سید اظہر حسین صاحب نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ کسی کمیونٹی کو اچھوت بنا دینا، اس سے نفرت کرنا اور اس کے بعد اس سے حب الوطنی کا تقاضا بھی کرنا بہت زیادتی ہے اور ایسی صورت میں حب الوطنی بنائے رکھنا بہت مشکل ہے۔ یعنی ہم تو ان پر زیادتی کرتے رہیں لیکن ان سے یہ مطالبہ رہے کہ وہ بدستور حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے رہیں۔ سماج سے نفرت کا کھیل اب ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ چاہے کسی کو کافر قرار دے ڈالیں، لیکن پاکستان کی سرحد سے ایک قدم باہر نکالتے ہی وہ پوری دنیا کے لیے مسلم ہو جاتا ہے۔ اس طرح ہم پوری دنیا میں اپنا مذاق بنا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا سماج شناخت کھو جانے کے خوف میں مبتلا ہے۔ اسی وجہ سے مثلاً کراچی میں مہاجر اور پشتون کو مقامی آبادی نے خود میں شامل نہیں کیا۔ یہی حال مسلک سے وابستگی کا ہے۔ اپنے فرقے اور مکتب فکر کی پہچان کے ساتھ اپنی پہچان وابستہ کر لینے والے اس کے کھو جانے کے ڈر سے اپنے سے مختلف لوگوں کو برداشت نہیں کرتے۔ وہ یہ برداشت نہیں کرتے کہ ان کا بھائی بیٹا ان کے مسلک سے مختلف کوئی دوسرا مسلک یا نظریہ اختیار کر لے۔ حقیقت میں دیکھا جائے اور کوئی ہم سے مختلف عقیدہ یا نظریہ اختیار کر بھی لے تو کون سی قیامت آ جائے گی۔ ہمیں اس خود ساختہ خوف کے حصار سے نکل جانا چاہیے۔

ملکی سطح پر پاکستانی سماج کا ایک بڑا مسئلہ، جس سے عدم برداشت پیدا ہوتی ہے۔ یہی شناخت کھو جانے کا ڈر ہے۔ پاکستان کی تشکیل ہی ایک الگ پہچان پر اصرار کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ اس شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے جو جتن کیے جاتے ہیں ان میں ہندوستان سے نفرت کو نصاب کا حصہ بنا کر باقاعدہ طور پر سکھایا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں تقسیم کے مطالبے اور اس سے پیدا ہونے والے حالات میں دونوں اطراف سے انسانیت کو شرمندہ کر دینے والے جنون آمیز نفرت کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور یہ بھی سچ ہے کہ دونوں اطراف سے اب بھی اسی نفرت کا مظاہرہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا، لیکن تقسیم ہند کے اس دور کی نفرت کو نئی نسلوں کو منتقل کرنا دونوں ممالک کی بڑی غلطی ہے، جس سے آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ہم پاکستانی ہو کر بھی اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں۔ نجانے کب ہمارے لوگ شعور کی اس بلوغت کو پہنچیں گے۔

معروف تجزیہ نگار محترم عامر رانا نے کہا کہ اس کانفرنس میں جو کچھ کہا گیا وہ کچھ نیا نہیں تھا۔ اس قسم کی کانفرنسوں میں ہمیشہ یہی باتیں دہرائیں جاتی ہیں۔ لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ سوال یہ ہے کہ عملا کیسے ہم اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اس کے لے انہوں نے ایک نئے رخ سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دراصل ہم نے انسان کی آزاد سوچ کو پنپنے نہیں دیا۔ آپ طالب علم کو سوال کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ کہیں گے کہ ہم تو طالب علم کو سوال کی اجازت دیتے ہیں۔ تو میں کہوں گا کس قسم کے سوال کی اجازت دیتے ہیں؟ کیا آپ اسے ایسے سوال کی اجازت دیتے ہیں جو آپ کے مسلک یا اعتقادات یا روایت کی بنیاد ہلا دینے والا ہو۔ آپ طالب علم کو سوال کی اجاز ت بھی پابندیوں کے ساتھ دیتے ہیں۔ یہ درحقیقت سوال کی آزادی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے ہمارے تعلیمی ادارے علم پیدا نہیں کر رہے۔ ہم محض کتابوں کے حافظ اور ناقل پیدا کررہے ہیں یا پھر مسلک کے نمائندے۔ لیکن عالمی سطح پر پاکستان کے عصری اور دینی تعلیم کے دونوں طرح کے ادارے علم کی دنیا میں کوئی اضافہ نہیں کر رہے۔
اس پر مجھے جناب سمیع اللہ سعدی کامضمون یاد آیا جس میں انہوں نے دور جدید میں عالمی معیار کی فقہی خدمات کا تفصیلی تعارف پیش کیا تھا۔ اس میدان میں بھی کسی پاکستانی ادارے یا مدرسہ کا نام تک موجود نہ تھا۔ یونیورسٹیوں کاحال تو معلوم ہے ہی کہ اب تک دنیا کی صف اول کی 500 یونیورسٹیوں میں کسی پاکستانی یونیورسٹی کا نام شام نہیں ہو سکا۔
محترم عامر رانا نے زور دیا کہ اگر سوال کی اجازت دے دی جائے، اگر تعلیم کا مرکز جدید تعلیمی نظریات کے مطابق طالب علم کو بنا دیا جائے اور اپنا مسلک عقیدہ یا نظریہ اس پر ٹھونسا نہ جائے تو بہت ممکن ہے کہ ہماری دینی جامعات سے فرقہ واریت کی بجائے اعتدال اور میانہ روی کے حامل افراد پیدا ہونا شروع ہو جائیں اور یونیورسٹی سے بھی علم پھوٹنے لگے۔

راقم الحروف اپنی تجاویز لکھ کر لے گیا تھا۔ جو منتظمین کو پیش کردی گئیں۔ ہماری تجاویز کا خلاصہ یہ ہے:

12 سالہ وسیع البنیاد تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔ اس کے بغیر کسی بچے کو کسی خصوصی تعلیمی ادارے میں داخل کرنا اس کے اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ خدا نے ہر بچے کو مختلف ذہنی صلاحٰتوں اور رجحانات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی بچے کا رجحان اور صلاحیت کی جانچ کے بنا اسے کسی مخصوص تعلیمی نظام میں ڈال دینا زیادتی ہے۔ 12 سال کی وسیع البنیاد تعلیم کے بعد بچہ اپنے رجحان اور صلاحیت کے مطابق، اپنے بڑوں کی رہمنائی میں اپنے لیے تخصص کے میدان کا انتخاب کرے۔ چاہے وہ دین کا عالم بنے یا ڈاکٹر، انجینئیر یا اکاؤنٹنٹ وغیرہ۔

وسیع البنیاد تعلیم کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچہ اپنے ماحول، ثقافت اور مشترکہ تعلیمی روایت سے بھی جڑ جاتا ہے۔ وہ اپنے ہم جنسوں سے اجنبی نہیں رہتا۔ آ پ دیکھ سکتے ہیں کہ مدارس کے طلبا کو یہی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ وہ اپنے سماج، اس کی روایات، مزاج اور ابلاغ کے اسلوب وغیرہ، سب سے اجنبی رہ جاتے ہیں ۔فارغ التحصیل ہو کر انہیں یہ سب نئے سرے سے سیکھنا پڑتا ہے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

دوسری تجویز یہ ہے کسی بھی اصلاح کی سفارش کے مدارس میں نفاذ کے لیے کوئی مشترکہ مجاز پلیٹ فارم میسر نہیں۔ اچھی سے اچھی تجاویز بھی اسی لیے ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس لیے گزارش ہے کہ مدارس کو حکومتی نگرانی میں تعلیم کی مجاز اتھارٹی کے ماتحت کر دیا جائے۔ مدارس کے موجود ہ بورڈز کو ہی ضروری قانونی طریقے سے، دیگر جدید تعلیمی ماہرین کی شمولیت کے ساتھ ایک مشترکہ حکومتی بورڈ قرار دے دیا جائے۔

آئین پاکستان کی 18ویں ترمیم کے بعد پرائمری اور ثانوی تعلیم صوبائی حکومت کا سجیکٹ قرار پائی ہے اور اعلی تعلیم وفاقی حکومت کا۔ اس لحاظ سے کسی تعلیمی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ مخصوص تعلیم کے اداروں، جو کہ اعلی تعلیم کے دائرہ میں آتے ہیں، میں پرائمری یا ثانوی درجے کی تعلیم بھی دے، جیسا کہ مدارس میں ہوتا ہے۔ اس لیے سفارش کی جاتی ہے کہ مدارس کی درجہ بندی، پرائمری، ثانوی اور اعلی تعلیم کے لحاظ سے کی جائے اور انہیں متعلقہ صوبائی اور وفاقی مجاز اتھارٹی کی زیر نگرانی میں دے دیا جائے۔

آخر میں بین الاقوامی اسلامی یونیوسٹی کے ریکٹر، جناب معصوم یاسین زئی صاحب نے کانفرنس سے دلچسپ خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے عہدے اور حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وقت ختم ہو جانے کے باوجود سامعین کو مسلسل قریبا پون گھنٹے تک اپنے جوشِ خطابت سے محظوظ کیا۔ ان کا جذبہ ایمانی قابلِ دید تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک بیالوجسٹ سائنٹسٹ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک ان کا غیر مسلم پروفیسر ان سے پوچھتا تھا کہ وہ دین اور سائنس کو اکٹھا لے کر کیسے چلتے ہیں۔ انہوں نے اسے جواب دیا کہ میرا دین مجھے سائنس سے اور سائنس مجھے دین سے نہیں روکتی۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو گاڈ پارٹیکل God Particle دریافت ہوا تو تمہاری پوری فزکس ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ جب کہ قرآن میں یہ سب 1400 سال پہلے سے لکھا ہوا ہے!! ایک بارپھر یہ جان کر حیرت ہوئی کہ قرآن میں یہ بھی 1400 پہلے سے لکھا ہوا تھا، لیکن بد قسمتی سے اس دفعہ بھی ہمیں یہ اس وقت معلوم جب کافروں نے یہ کائناتی حقیقت ڈھونڈ نکالی۔

محترم معصوم یاسین صاحب کی اس علمیت اور قابلیت پر سامعین، جن میں زیادہ تر مدارس کے علماء حضرات تھے، کی زبان سے نعرہ ہائے تحسین بلند ہوتے رہے۔ ہم بھی استعجاب کے عالم میں جناب ریکٹر صاحب جوشِ خطابت کے جوہر کھلتے دیکھتے رہے۔ ہم پوچھنا چاہتے تھے کہ یہ گاڈ پارٹیکل قرآن میں کس آیت میں بتایا گیا ہے۔ اور کیا وجہ ہے کہ قرآن میں سب کچھ پہلے سے لکھا ہونے کے باوجود ہم سے ان سائنسی حقائق کو دریافت کرنے میں ہر بار ایک ذرا سی دیر کیوں ہو جاتی ہے، اور جیسے ہی کوئی نئی سائنسی دریافت ہو چکتی ہے تب ہمیں قرآن میں وہ مل جاتی ہے، پہلے کیوں نہیں ملتی۔ ہم ان سے یہ بھی پوچھنا چاہتے تھے کہ کیا کسی اگلی سائنسی دریافت سے پہلے قرآن کی کوئی آیت زیر غور ہے تو آگاہ فرمائیے تاکہ کبھی تو ہم سائنس سے پہلے کچھ دریافت کر کے اسے ہرا سکیں۔ تاہم موقع نہ مل سکا۔

انہوں نے اعتدال اور میانہ روی پیدا کرنے کے لیے اپنی طرف سے متعارف کردہ اسلامی یونیورسٹی کا لائحہ عمل بتایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر سال مدارس کے 100 طلبہ کے لیے وظائف دیں گے۔ اس طرح ہر سال مدارس کے 100 ذہین طلبہ یونیورسٹی میں شامل ہوں گے ۔ بقول ریکٹر صاحب کے اس طرح مدارس کے ان طلبہ کے اخلاق کا اثر یونیورسٹی کے طلبہ پر بھی پڑے گا اور یوں اعتدال اور میانہ روی پیدا ہو جائے گی۔

محترم ریکٹر صاحب کی ایمان افروز شخصیت کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے اہم ترین منصب پر فائز دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ ہمارا مستقبل محفوظ اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ الحاد تو رہا ایک طرف لبرل ازم کی بھی مجال نہیں کہ یہاں پر مار سکے۔

Avatar
عرفان شہزاد
میں اپنی ذاتی ذندگی میں بہت ایڈونچر پسند ہوں۔ تبلیغی جماعت، مولوی حضرات، پروفیسر حضرات، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے۔ حفظ کی کلاس پڑھائی ہے، کالجوں میں انگلش پڑھائی ہے۔ یونیورسٹیوں کے سیمنارز میں اردو انگریزی میں تحقیقی مقالات پڑھے ہیں۔ ایم اے اسلامیات اور ایم اے انگریزی کیے۔ پھر اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی۔ اب صرف دو چیزیں ہی اصلا پڑھتا ہوں قرآن اور سماج۔ زمانہ طالب علمی میں صلح جو ہونے کے باوجود کلاس کے ہر بد معاش لڑکے سے میری لڑائی ہو ہی جاتی تھی کیونکہ بدمعاشی میں ایک حد سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ یہی حالت نوکری کے دوران بھی رہی۔ میں نے رومانویت سے حقیقت کا سفر بہت تکلیف سے طے کیا ہے۔ اپنے آئیڈیل اور ہیرو کے تصور کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مسحور کن اورپھر وہ وقت آیا کہ شخصیات کے سہارے ایک ایک کر کے چھوٹتے چلے گئے۔پھر میں، میں بن گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *