فیصل آباد لٹریری فیسٹول کی کتھا۔۔۔۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

فیصل آباد   ادبی میلہ  میں  جہاں ایک مہمان( نام نہیں لکھ رہا کیوں کہ چغلی میں آتا ہے) جو کہ پاکستان کا ایک بڑا نام ہیں،نے   سٹیج پر کہا کہ لوگ کتابیں نہیں پڑھتے۔ مجھے لگتا ہے جناب نے یہ بات بغیر تحقیق کے فقط بھیڑ چال میں کہہ دی ہے۔ کیونکہ آج کل ایسا کہنا کہ لوگ کتابیں نہیں پڑھ رہے اور نوجوان نسل کو لعن طعن اور ادب سے دور ہونے کا طعنہ دینا فیشن بنتا جا رہا ہے۔

شاید سٹیج پر موجود لوگ اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے نابغے یہ بھول گئے تھے کہ یہ میلہ شروع ہونے سے ٹھیک پندرہ منٹ پہلے عوام   کو دینے کے لیے مفت کتابوں کا اہتمام کیا گیا تھا، اور کتابوں کی تقسیم شروع کرنے کے بالکل پانچ منٹ بعد وہ سٹال جو   کتابوں سے لدا ہوا تھا، بعد میں آنے والوں کا وہاں پڑا صرف خالی میز منہ چڑا رہ تھا۔ اتنی بھیڑ تھی کہ مجھے خود کتاب کے حصول کے لیے لائن میں لگنا پڑا۔

میرا تو ماننا ہے بلکہ آپ یوں سمجھیں دعوی ہے پہلے سے زیادہ کتابیں لکھی جارہی ہی، چھاپی جا رہی ہیں اور اُس سے بھی زیادہ کتابیں پڑھی جارہی ہیں۔ اگر نوجوان نسل کتاب سے دور جا رہی ہوتی تو ادیب اور شاعر نئی کتاب چھاپنے کی تگ و دو میں نہ لگے ہوتے۔ اور نہ ہی نصرت فتح علی خان آڈیٹورئیم کا ہال نوجوان نسل سے کھچا کھچ بھرا ہوتا۔ جاتے جاتے موصوف اپنی بات کا رد بھی کر گئے۔ کہنے لگے پہلے ٹراٹسکی کو پڑھنے والے پانچ سو بندے تھے اب پانچ لاکھ ہیں۔

محترمہ فہمیدہ ریاض صاحبہ کے  انتقال  پر  تمام معززینِ محفل نے اس نقصان پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ گہرے رنج اور صدمے کے باوجود پورے لاہور سے کل ملا کر تین ادیب اُن کے جنازے میں شامل ہوئے۔
امجد اسلام امجد صاحب، تحسین فراقی اور علی اکبر ناطق صاحب۔

پہلی نشست کے اختتام پر اس میلہ کی منتظم صاحبہ نے انگلش میں گفتگو کرنے کے بعد آخر پر اردو کا رونا رویا، اور اس کا قصوروار بھی نوجوان نسل کو ہی ٹھہرایا۔
جو بھی تہمت ہوتی ہے میرے گھر چلی آتی ہے۔۔

اور تو اور فیصل آباد  ادبی میلہ بھی جلی حروف کے ساتھ انگریزی میں لکھا ہوا تھا۔ لیکن بات وہی ہے نوجوان نسل پر تبرا کرنا ایک فیشن بن گیا ہے۔

‎پہلے دن کی تقریب کے اختتام پر جب میں نے بیگم (ر) جسٹس ناصرہ اقبال صاحبہ سے فہمیدہ صاحبہ کے جنازے میں ادبی لوگوں کی عدم موجودگی کا سوال اٹھایا تو انہوں نے کہا کہ  لوگ جانا چاہتے تھے لیکن لوگوں کو اُن کے جنازے کی جگہ کا نہیں پتا تھا۔ میں حیران تھا کہ باقی تین ادیبوں کو جنازے کا کیسے پتا لگ گیا تھا۔
‎اور دوسرا سوال کیا کہ اگر کتاب نہیں پڑھی جا رہی تو اتنی زیادہ کتابیں چھپ اور بک کیوں رہی ہیں۔ وہ مجھےاس کا کچھ تسلی بخش جواب نہ دے پائیں۔

ادبی میلوں کے منعقد کرنے کا ایک مقصد جو بتایا گیا کہ نوجوان نسل کو نظموں و ضبط بھی سیکھنا ہے۔ اس میلہ کے دوسرے دن کی افتتاحی نشست کا آغاز دن ساڑھے دس بجے ہونا تھا۔ یہ الگ بات ہے نوجوان نسل تو وقت پر پہنچ گئی تھی جبکہ منتظمین اور مہمان صرف ایک گھنٹہ ہی تاخیر کا شکار ہوئے تھے۔ پہلے دن کی نسبت دوسرے دن زیادہ session کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں فاروق قیصر( انکل سرگم)، سید نور، نقاد جناب ناصر عباس نئیر( ان سے کتاب پر دستخط نہ لے سکا)، محترمہ کشور ناہید صاحبہ، محترمہ زاہدہ حنا، محترم مسعود اشعر، حمید شاہد، میرا ہاشمی( فیض صاحب کی نواسی)، جناب عکسی مفتی، محترمہ عارفہ سیدہ، جمال شاہ، عطااللہ عیسی خیلوی، سانول خیلوی، وسعت اللہ خان، آصف رضا میر اور جناب انور مقصود صاحب جیسے  معتبر  نام شامل تھے۔

فاروق قیصر، ارشد محمود نے میرا ہاشمی کے ساتھ نشست میں سامعین کو اپنے فیض صاحب کے ساتھ گزارئے ہوئے لمحات کے بارے میں بتایا، فیض صاحب کا لوگوں کے ساتھ رویہ کیسا تھا، اپنے سے چھوٹوں سے شفقت کا پہلو فیض صاحب کی زندگی کا لازمی جزو تھا۔ اور کیسے فاروق قیصر فیض صاحب کے اشعار کی پیروڈی کیا کرتے تھے اور ارشد محمود صاحب جا کر فیض صاحب کو بتا دیا کرتے تھے۔

کشور ناہید اور زاہدہ حنا والے سیشن میں اردو ادب کے بدلتے ہوئے رجحان پر بات کی گئی۔ عطااللہ عیسی خیلوی کی نشست میں عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ حال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور باہر لائیو سٹریمنگ پر بھی عوام کی تعداد دیکھنے کے لائق تھی۔ اس نشست میں عطااللہ صاحب نے اپنے گانے کے سفر کے بارے میں حاضرینِ محفل کو بتایا کیسے ان کے ابا اور چچا اُن کے گانے کے مخالف تھے انہیں مار پڑتی تھی گھر سے۔ گھر والے تبرا کرتے تم نیازی قبیلہ کی ناک کٹوا کر دم لو گے۔ ُاس بات پر انہوں نے گھر والوں اے کہا میری وجہ سے نیازیوں پر کوئی آنچ نہیں آئے گی پھر انہوں نے اس دن سے اپنا نام عطااللہ عیسی خیلوی رکھ لیا۔

آصف رضا میر صاحب سے پوچھا گیا یہ احد رضا میر نے کیا کیا ہے “کوکو کورینا” کے ساتھ تو آصف صاحب نے کہا یہ احد نے کوشش کی تھی اور بہت ہی بھدی اور بری کوشش تھی، اور میں سمجھتا ہوں احد کو دوبارہ کوشش کرنی چاہیے لیکن بہتر انداز میں۔

‎ وسعت صاحب سے ان کی نشست سے پہلے ہماری اُن سے ایک تفصیلی  ملاقات ہو گئی جس میں ہم نے اُن سے کافی سوالات بھی کیے۔ ‎ادبی میلے کا اختتام انور مقصود صاحب کے جون ایلیاء کو لکھے گئے خطوط کے ساتھ ہوا جو انور صاحب نے  سامعین کو پڑھ کر سنائے اور حاضرین کو ہنسا کر رولا کر خوب داد سمیٹی۔

‎کراچی نہیں بدلا سمجھ لیں پاکستان نہیں بدلا ‎صرف لاہور بدل گیا اور آرمی چیف بدل گئے ‎ (انور مقصود) ایک بات جس پر کسی نے بھی آواز نہیں اٹھائی وہ یہ تھی کہ اس میلے کا نام فیصل آباد ادبی میلہ تھا لیکن اس میلے میں فیصل آباد سے کوئی ادیب، شاعر، نقاد، صحافی کوئی بھی مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ شاید اس تقریب کے منتظمین فیصل آباد کے ادبی لوگوں کو اس لائق نہیں سمجھتے تھے یا کوئی اور وجہ تھی خدا جانے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فیصل آباد لٹریری فیسٹول کی کتھا۔۔۔۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *