• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہیپی برتھ ڈے محمد ﷺ۔۔۔۔فاروق بلوچ/مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

ہیپی برتھ ڈے محمد ﷺ۔۔۔۔فاروق بلوچ/مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

میری محمد ابن عبداللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پہلی ملاقات اپنے بچپن میں ہی ہو گئی تھی. لیکن جو اولین یادیں میری ذہن میں ہیں وہ یہی ہیں کہ ایک گلدستہ احادیث نامی چھوٹا سے کتابچہ ہوا کرتا تھا، شاید اب بھی دستیاب ہو، خیر وہ کتابچہ والدہ مرحومہ نے دیا کہ یہ 40 احادیث زبانی یاد کرو. مجھے یاد وہ کتابچہ میری جیب میں رہتا اور میں احادیث حفظ کرتا رہا. کبھی کبھار کھیلتے یا بھاگتے جیب سے اگر کتابچہ گر جاتا تو میں اُس کو اُٹھا کر جھاڑ پھونک کر تعظیم سے چوم کر دوبارہ جیب میں رکھ لیتا. مجھے اُس کتابچے کی 40 کی 40 نہیں تو 35 احادیث اب بھی زبانی یاد ہیں. مجھے ماں نے بتایا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کون تھے، لیکن مجھے اب وہ تعارف یاد نہیں.

گذشتہ انسانی تاریخ میں محمدی انقلاب ایسا دوسرا جدید، مرحلہ وار، منصوبہ بند، دیرپا اور وسیع انقلاب نہیں دیکھا گیا. ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے ببانگ دہل قدیم رسومات کی بیخ کنی میں جو عملی جرات کا مظاہرہ کیا وہ دیگر داعین کی زندگیوں کے برعکس ہے. نظامِ کہنہ کی گندگیوں کی صفائی کا جو طریق محمد ﷺ نے وضع کیا وہ بھی جاندار ہے. مثلاً سود کے خاتمے کے لیے وضع کی گئی تحریک میں سب سے پہلے اپنے خاندان کا واجب الوصول سود معاف کیا اور دیگر مسلمانوں کو سودی حرمت سے قبل کے تمام واجب الادا و الوصول سود ختم کرنے کا حکم دیا. اسی طرح جب کفار مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ کے موقع پہ اکثر جید صحابہ کی بالخصوص اور دیگر صحابہ کی بالعموم رائے حضرت محمد ﷺ سے مختلف تھی کیونکہ وہ تمام لوگ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ ادا کرنا چاہتے تھے جبکہ پیغمبر نے صلح حدیبیہ کی شق کے مطابق وہیں احرام کھول دیا، سر کے بال منڈوا کر قربانی کر دی تو دیگر تمام لوگوں نے بھی احتراماً تقلیدِ پیغمبر کی. جدید دنیا کے کسی لیڈر کی ایسی عملی جدوجہد کی مثال شاید ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی، وگرنہ راہنماؤں نے صرف احکامات و نصائح تک محدود رکھا. ایسا اِس لیے ہو رہا تھا کہ اُن راہنماؤں کی نظر میں حدود کی حفاظت اور احکام کی عملی پاسداری صرف مقلدین کا کام ہوتا ہے. جبکہ راہنما سے اختلاف کرنے کو تو دیگر راہنماؤں نے قابلِ گرفت گردانا جبکہ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے سے مختلف رائے کے حامل صحابہ کو وہی کام پہلے خود کرکے اُن کو اخلاقاً مائل کیا کہ ایسا کر لو. یہی اُن کی بطور عوامی راہنما کامیابی کی ضمانت بنی کہ جو کہا وہی خود کرکے ثابت بھی کیا. جبکہ دیگر راہنماؤں کی زندگیوں میں عملی فرار کے بہانے بہت نظر آتے ہیں. مثلاً کبھی جھوٹ نہ بول کر سچ بولنے کی عملی نصیحت کا جدید ترین طریقہ صرف محمد ﷺ کا خاصہ ہے. یہی سائنسی، علمی، شعوری اور معتبر طریقہ ہے جس بارے تلقین/نصیحت/مشورہ یا کوئی حکم جاری کرنا ہے اُس کا عملی مظاہرہ ہی اُس کی تقلید کو ممکن و مستحکم بنائے گا.

حضرت محمد ﷺ نے خواتین بارے کو موقف اور طریقہ کار وضع کیا وہ یقیناً اُن سے قبل کسی انقلابی راہنما کی طرف ایسی وسعتوں کا حامل نہ تھا.جنگ کے میدان میں حربی مظاہروں سے لیکر معاشی ملکیت تک، عائلی مختاری سے لیکر سیاسی اجتماعیت تک، اور علمی و شعوری مداخلت سے لیکر فی الزمان جدید عصری معروض میں عورت کے انفرادی کردار تک جس وسعت و جدت کا مظاہرہ انقلابِ محمد نے کیا وہ عرب کے الگ تھلگ غیرترقی یافتہ قبائلی سماج میں قطعی ناممکن تھا. محض خواتین کے حق میں تقاریر کرنا اور اُن کے دفاع میں قبائلی نفسیات کے تحت سماج کا اِس طرح مقابلہ کرنا کہ بیٹیوں کے لیے نشست خالی کر دی جاتی. علاوہ ازیں حجاب کےذریعے اپنے طبقے کی خواتین کو تقدس عطا کرنا محمدی انقلاب کا خواتین کے لیے ایک تحفہ تھا. جو عائلی قوانین جناب محمد ﷺ نے تشکیل کئے وہ نہ صرف انقلابی تھے بلکہ جدیدترین تھے.

ہوا یوں کہ جناب محمد ﷺ کے تذکرے کو ثواب کے حصول کی خاطر رکھ چھوڑا گیا. ثواب کی نیت مسلمانوں کے اپنے لیے تو شاید سودمند سمجھی گئی لیکن اِس کا نقصان یہ ہوا کہ سیرت پہ عمل ایک مافوق الفطرت عمل بنتا چلا گیا. کاروباری مذہبیت نے حضرت محمد ﷺ کی ذات کو داڑھی کی مقدار، ٹخنوں کے ننگے ہونے، رفع یدین کرنے نہ کرنے، یارسول اللہ کہنے نہ کہنے وغیرہ جیسے معاملات تک محدود کرنے کی مذموم کوشش جا رکھی. اُن کا لباس کیسا تھا، اُن کی چال کیسی تھی، وہ کھانے میں کیا پسند کرتے تھے، سواری کیسی تھی، سوتے اور بیٹھتے کیسے تھے جیسے غیرضروری سوالات نے جناب محمد ﷺ کی حقیقی سیرت پہ پردہ ڈالتے رہے ہیں.

جبکہ جناب محمد ﷺ کی سیرت بالیدگی کی مثال تھی. میں حیران ہوں کہ اُس عہد میں کسی عرب راہنما کی جانب سے دوسری دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی استواری ناممکن تھی، مگر جس دلیرانہ و جامع موقف کے ساتھ اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور ریاستوں سے سفارتکاری کا آغاز کرنا اُن کی عظمت کا اعلان ہے. روم و ایران ایسی سوپرپاور ریاستوں کی طرف سفارتی وفد بھیجنے سے قبل مدینہ میں وسیع پیمانے پہ عام مشاورتی عمل کی ایجاد نہ صرف کامیاب ثابت ہوئی بلکہ یہ ایک ترقی یافتہ عمل تھا. جب تک ہم اِس عمل کو جدلیاتی عینک سے نہیں دیکھیں گے یہ ایک عمومی تاثر کا حامل ایک سیاسی عمل دکھائی دے گا. آج کے جدید ترین آلات کے حامل سماج میں بھی وسیع عوامی مشاورت کی ایجاد تقریباً جدید حکمرانوں کو بھی خوف میں مبتلا کر دیتی ہے. جبکہ پندرہ سو سال قدیم مدنی سماج میں بین الاقوامی سفارتکاری پہ وسیع عوامی مشاورتی تحریک بلاشبہ محمدی انقلاب کی معروف ترین و جدیدترین بنیاد ثابت ہوئی.

بالخصوص عرب تاریخ میں اور بالعموم پوری انسانی تاریخ میں کسی مذہبی راہنما کی جانب سے ایسی عالمگیریت کے اعلان کی مثال نہیں ملے گی. کالا گورا، امیر غریب، نسل و جنس جیسے تفرقات سے نکل کر ایک اَن دیکھے خدا کی شریعت جو باقاعدہ ایک انسانی منہ سے برآمد ہو رہی ہو پہ جم غفیر کو سرحدوں کے آر پار یکجان کر دینے کا عالمگیر نظریہ نظامِ قدیم کی حدود کو پامال کرتا ہوا کامیاب ہو گیا. عالمگیریت جیسے انسان دوست اور امن کے ضامن نظریہ کا اُس عہد میں تجزیہ جناب محمد ﷺ کی حقانیت کا اظہار ہے. یہ اُس عہد کا جدید ترین ریاستی بیانیہ تھا جو شاید کسی دوسرے راہنما کے لیے ممکن نہیں تھا.

انسانی معاشی تاریخ میں آج سے پندرہ سو سال قدیم سماج جہاں جوا، سود اور زخیرہ اندوزی کا چل چلن ایک رواج کے طور پہ رائج تھا. جہاں غلام قتل کرنا، نوزائیدہ بچیوں کا قتل اور ڈاکہ ذنی مضبوط انسانوں کی علامت تھا. اُس عہد میں مقتدر طبقے کے مادی مفادات سے براہ راست ٹکراتے ہوئے سود، جوے، استحصال اور زخیرہ اندوزی کی متشدد حرمت جاری کرنا نہ صرف دلیرانہ ہے بلکہ جدیدترین بھی ہے. پھر دولت کے ارتکاز کی بجائے دولت کی زیادہ سے زیادہ افراد میں تقسیم کے قوانین نے سماج میں سے معاشی پریشانی کے خاتمے کو ممکن بنایا. اُس عہد کے معروف زرائع پیداوار جیسا کہ نمک، چراگاہ، میٹھے پانی کے کنویں اور آگ کو انفرادی ملکیت میں دینے کی بجائے سماجی استعمال کے لیے مختص کرنا انتہائی جدید عمل تھا.

آج جس امت کے لیے اختلاف ناقابل برداشت ہونے کے ساتھ ساتھ قابلِ گردن زنی ہے. کیا حضرت محمد ﷺ نے اختلاف کا دامن مضبوطی سے نہیں تھاما تھا؟ کیا جناب محمد ﷺ نے اپنے والدین اور اپنے سماج کی قدیم روایات و نفسیات کے متصادم خیال پیش نہیں کیے تھے؟ کیا جناب محمد ﷺ پورے سماج سے قطعی مختلف سوچتے اور کرتے نہیں تھے؟ کیا انہوں نے جاری و ساری رائج نظام سے بغاوت کرتے ہوئے بالکل مختلف اور جدید نظام کی گفتگو نہیں کی تھی؟ ایک ایسا بندہ جو نہ جھوٹ بولتا ہے، نہ کسی کا حق مارتا ہے، اعلی اخلاق، متین سنجیدگی اور خوشبودار شخصیت کا حامل ہو آخر لوگوں کا ایک بپھرا ہوا گروہ اُس شخص کا جانی دشمن کیوں ہو جاتا ہے؟ مجھے ایک آسان سے سوال کا جواب درکار ہے کہ جناب محمد ﷺ کی ذات نے ایسا کیا جرم کر دیا تھا جس کے لیے پورے کا پورے شہر، پورا ملک اور تمام قبائل اُس کے جان لیوا مخالف ہو گئے؟ اِس کا جواب یہی ہے کہ وہ رائج خیالات کے منکر و باغی تھے اور تقلید کی بجائے تحقیق کے علمبردار تھے. انہوں نے رائج خدائی تصور کا انکار کیا، انہوں نے رائج سماجی اقدار کو پاؤں کے نیچے روند دیا، انہوں نے قدیم کے مخالف میں جدت کا عَلم یوں تھاما کہ عالمگیر انسان دوسرے انسانوں کی غلامی سے نکل کر ایک شریعت پہ متحد ہو گئے.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *