آفتاب اقبال تیرا شکریہ۔۔۔عزیز خان ایڈوکیٹ

جب بھی86 -1985یا اُس کے بعد لاہور آنے کا اتفاق ہوتا تو میں سٹیج ڈرامہ ضرور دیکھا کرتاتھا ۔پاکستان فلم انڈسڑی کے زوال کے بعد ایک ہی ایسی تفریح تھی جو کہ لوگوں کو میسر تھی ۔ٹکٹ بھی اتنی مہنگی نہیں ہوا کرتی تھی انڈین فلموں کی یلغار تھی جو بذریعہ وی سی آر پاکستانیوں پر مسلط تھی۔لیکن اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کا اپنا ہی لطف تھا۔امان اللہ ببو برال ،مستانہ ، سہیل احمد اور ان جیسے کئی فنکار ان ڈراموں کا حصہ ہوتے تھے تین گھنٹے کس طرح گزرجاتے پتہ ہی نہیں چلتاتھا ۔کمال جگت بازی ہوتی تھی لوگ یہ ڈرامے اپنی فیملی کیساتھ بیٹھ کردیکھا کرتے تھے۔

اسٹیج ڈراموں کی وجہ سے مختلف سینما ہال بھی تھیڑ میں تبدیل ہونے لگ گئے لیکن ان فنکاروں کو اتنا معاوضہ نہیں ملتا تھا کہ وہ اپنے گھر کا چولہا جلا سکیں پروڈیوسر ساری کمائی لے جاتے تھے۔لیکن پھرجگت بازی کے ساتھ ساتھ فحش جملے اور ڈانس بھی اسٹیج ڈراموں میں شامل ہوگئےایک وقت آیا کہ اسی اسٹیج پر خواتین فنکاروں نے اپنے کپڑے بھی اتارنے شروع کردیے اس دور میں سہیل احمد نے اسٹیج ڈرامے کو بچانے کی کوشش کی، لاہور کی حد تک شاید فحش جملوں اور رقص پر پابندی لگادی گئی لیکن گوجرانولہ اور پنجاب کے دیگر شہروں میں اسی طرح جسم کی نمائش اور فحش جملوں کیساتھ یہ اسٹیج ڈرامے دکھائے جاتے رہے۔

پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ پڑھےلکھے لوگ اپنی فیملی کیساتھ اسٹیج ڈرامہ دیکھنا چھوڑ گئے ۔ڈراموں میں صرف انھی فنکاروں کو کاسٹ کیا جاتا تھا جو یا تو فحش جملے کہیں یا پھر اپنے جسم کی نمائش کریں۔۔2009 میں دنیا نیوز چینل پرایک پروگرام” حسب حال “شروع ہو ا ۔ یہ ایک مزاحیہ پروگرام تھا جس میں مزاح کیساتھ ساتھ ملکی سیاست پر بھی بات کی جاتی تھی ۔اس کے میزبان آفتاب اقبال تھےاس سے قبل میں آفتاب اقبال کو نہیں جانتا تھا ۔اس پروگرام میں ان کیساتھ سہیل احمد اسٹیج فنکار(عزیزی) کے نام سے شامل تھے ۔اس پروگرام نے بہت شہرت پائی اور آج تک یہ پروگرام لوگوں میں اسی طرح دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔

پھر کچھ عرصہ بعد 2010 میں آفتاب اقبال جیو نیوز چینل کے ایک پروگرام “خبرناک “میں نظر آئے ۔اس پروگرام میں بھی مزاح ، جگت بازی کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست پر بات کی جاتی تھی اور مختلف سیگمنٹ جن میں ڈمی میوزیم ، پرانے گانے ، پرانی فلمیں بھی زیربحث لائی جاتی تھیں۔اس کے علاوہ” فرہنگ آصفیہ” بھی قابل ذکر تھا ۔اس پروگرام میں ناصر چنیوٹی ، امان اللہ ، سخاوت ناز ، سلیم البیلا ،ہنی البیلا اور روبی انعم شامل تھے

آفتاب اقبال نے پھر “جیو “چینل چھوڑا اور “ایکسپریس “نیوز کے ساتھ منسلک ہوئے ۔یہاں انھوں نے پروگرام “خبردار” شروع کیا جس میں آغا ماجد ، سلیم البیلا ،ہنی البیلا ،روبی انعم، ابوبکرخان ، ناصر چنیوٹی ، امان اللہ، ببو رانا بھی ان کے ساتھ آگئے
کچھ عرصہ ایکسپریس کے ساتھ آفتاب اقبال نے اپنا چینل ” آپ نیوز” بنایا اور اس چینل میں آج کل “خبرداز “کے نام سے پروگرام کررہے ہیں ۔یہ سارے فنکار جن کا نام میں پہلے لکھ چکا ہوں ان کے ساتھ اس پروگرام میں شامل ہیں ۔یہ وہ فنکارہیں جو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے جن کا کوئی پُرسان حال نہ تھا ۔ان کامیڈین کے ساتھ ساتھ آفتاب اقبال نے ان میوزیشن کو بھی اپنے تمام پروگرامز میں شامل کیا جو فلم انڈسٹری کی زبوں حالی کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار تھے۔

آج ان میں سے کچھ فنکار کروڑں پتی ہیں اور باقی بھی باعزت طریقے سے اپنی روزی کمارہے ہیں۔آفتاب اقبال کے ان پروگرامز کو دیکھتے ہوئے باقی چینلز نے اسی طرح کے کئی مزاحیہ پروگرام شروع کردیے ہیں ان میں وہ تمام فنکار جو اسٹیج ڈراموں میں کام کرتے تھے جن کو کبھی کام ملتا تھا اور کبھی نہیں، اب ان کو کام مل رہا ہے۔

آفتاب اقبال کے 2009 کے پروگرام “حسب حال” سے پہلے مستانہ ، ببو برال ، البیلا جیسے کئی کامیڈین جو ملک و قوم کا سرمایہ تھے غربت اور بیماریوں میں دم توڑ گئے مستانہ جیسا عظیم فنکار بہاولپور وکٹوریا ہسپتال میں دم توڑ گیا۔جبکہ ببو برال صرف 47 سال کی عمر میں کینسر جیسی موزی مرض سے لڑتے ہوئے گمنامی کی موت مرگیا۔

پوری دنیا میں لوگ اپنے فنکاروں کی عزت کرتے ہیں انھیں پوجتے ہیں ۔حکومتیں ان کا خیال رکھتی ہیں مگر ہمارے ملک میں یہ فنکار سرکاری ہسپتالوں میں بیماری اور غربت سے لڑتے ہوئے دم توڑ دیتے ہیں اور بعد میں حکومت کے کسی ترجمان کا بیان آجاتا ہے

لوگوں میں خوشیاں بانٹے والے یہ عظیم فنکار اس ملک کا سرمایہ ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے آفتاب اقبال نے وہ عظیم کام کیا ہے جو شاید ہماری حکومت کو کرنا چاہیے تھامیں ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوں
“آفتاب اقبال تیرا شکریہ”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *