پیڈوفیلیا کامحرک سویا ہوا ضمیر۔۔رابعہ احسن

جتنی بار سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ میری آنکھوں سے گزرتی ہے تو اپنا آپ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہوا ملتا ہے۔ کہ ہم سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کچھ کر نہیں سکتے ۔ہر بار اس خبر کو پڑھ کے روح تک کانپ جاتی ہے اور جب مظلوم اور معصوم بچوں کی تکلیف اور اذیت کا خیال آتا ہے تو سوائے رونے کے میرے بس میں کچھ نہیں رہتا ۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی زندہ تڑپتی بچیوں کے اوپر اپنے ہاتھوں سے مٹی گرا کے زندہ دفن کردیتے تھے اور بچیاں کھیل کھیل میں کس ظلم کا شکار ہوجاتی تھیں ۔ انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہم آج بھی اسی زمانہ جاہلیت میں ہیں بلکہ اس سے بھی کہیں بہت آگے۔پتہ نہیں اس زمانے کو کیا نام دیاجائے کہ کامیابیوں کی بلندیاں جتنی تیزی سے ہم چھوتے جارہے ہیں اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بحیثیت انسان ہم ناکامی اور غیر انسانی سرگرمیوں میں ہر لمحہ گرتے چلے جارہے ہیں۔

ایک شخص جو دو ملکوں سے چائلڈ ریپ کی سزا بھگت کے نکال دیا گیا ہے حالانکہ ان دوملکوں کی سزائیں اس زمرے میں اتنی ہلکی کیوں ہیں اس بحث میں کوئی نہیں پڑتا ۔ لیکن اسے پاکستان میں آنے اور کھلے عام دندنانے کی اجازت کیوں ملی؟ آخر جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے۔ نہ صرف وہ اتنے سالوں تک دندناتا رہا بلکہ اپنی اعلیٰ تعلیم کے بل بوتے پر اعلیٰ عہدوں پر فائز رہا ۔ اتنا اندھیر کیوں ۔؟ ہمارے ملک میں کیا کوئی تھوڑے جرائم پیشہ افراد دستیاب ہیں جو ہم یہاں وہاں سے نکالے ہوؤں کو بھی اپنی چھتر چھایا میں جگہ دینے کیلئے آنکھیں بند کر کے قانون شکنی اور بربریت کے دروازے اپنے ہاتھوں سے کھول دیتے ہیں۔تاکہ کوئی بھی آئے کچھ بھی کرے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ پاکستان ایک تھرڈ ورلڈ کنٹری ہے جو اپنی عوام کے حقوق اور ان کے حفاظت کے زمرے میں تھرڈ کلاس سروس مہیا کرتا ہے۔

غربت کا یہ عالم ہے کہ ایک شخص بچوں کو آئسکریم کے بہانے اپنے گھر لے جاکے نہ صرف ان پہ جنسی تشدد کررہا ہے بلکہ اس تشدد سے جانے کتنے تشدد پسندوں کو اپنی گھناؤنی کاررروائیوں کیلئے سہولیات مہیا کررہا ہے۔ والدین کو کوئی خبر تک نہیں ۔ اور یہ تو صرف ایک پکڑا گیا ہے ۔ جانے کتنے درندے اعلیٰ افسروں، سیاستدانوں اور بچوں کی آرگنائزیشنز کے نمائندوں کی شکل میں ہمارے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں اور جانے کون کون ۔

ہمارے سامنے چائلڈ ریپ صرف ایک خبر بن کے آتا ہے۔ سوشل میڈیا پہ جا بجا شئیرنگ ہوجاتی ہے ۔ لکھنے والے لکھتے ہیں۔ احتجاج کرنے والے اپنے اپنے طریقے سے احتجاج کرتے ہیں۔ مگر ان ساری کارروائیوں سے نہ تو اس بچے کی تکلیف، بے بسی اور اس کے ساتھ ہونے والی درندگی کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کے ہاتھوں سے ایسی سرگرمیوں کو سرزد ہونے سے  روکا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس کیلئے تکلیف کا احساس وہیں مر گیا جہاں اس کی تکلیف میں اس کی مدد کیلئے کوئی بھی نہ آسکا۔

ایک شخص تیس بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کر کے بھی کہیں رکنے نہیں پارہا اور نہ ہی اسے روکا جارہا ہے۔ پہلے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ایسے جانور انسانوں میں پیدا کدھر سے ہوجاتے ہیں ۔ آئے دن بچوں سے  زیادتی کر کے ان کے جسم پہ طرح طرح سے تشدد کرکے انھیں کوڑے کرکٹ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ کبھی چھتوں سے نیچے گرادیا جاتا ہے اور بعد میں سارے ڈارک ویب کی تفصیلات دیتے رہ جاتے ہیں۔ ڈارک ویب ہمارے ڈارک ذہنوں کی ہی ایجاد ہے اسی دماغ ، اسی برین کی ایکسٹینشن ہے۔ کیونکہ ہم آنکھیں رکھتے ہوئے ارد گرد دیکھ نہیں سکتے۔ کچھ بھی ایسا نہیں دیکھ سکتے جس سے کسی کا بھلا ہو۔ ہمارے ذہنوں میں ایسی کوئی روشنی داخل ہونے کی کھڑکی ہی نہیں جس سے ہم دوسروں کی تکلیف دیکھ سکیں دوسروں کیلئے کچھ کرنے کو پریشان ہوسکیں ۔ ورنہ سڑکوں پر بھٹکتے یہ بچے نہ ہمارے ڈارک ذہنوں کی نظر اندازی سے گزریں اور نہ ہی ڈارک ویب پر ان مصوموں کی چیخیں بیچنے تک بات جاسکے۔

یہ سارا ظلم ہمارے سامنے ہورہا ہے اور ہم اسے ایک خبر کی سنسنی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔ ہنستے ہیں ، کھاتے پیتے ہیں کچھ بھی نہیں رکتا۔ سو جس پہ گزرتی ہے صرف اس کی تکلیف یا اس کے بے بس ماں باپ کی۔

سوشل میڈیا پہ ہل چل کے ساتھ ساتھ اگر لوگ ایسے جرائم کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں تو شاید ہمارے اداروں کا سویا ہوا ضمیر جاگ سکے۔ لوگ سڑکوں پہ نکلیں گے تو سیاستدانوں کی دم پر بھی شاید پاؤں رکھا جاسکے ۔ اور یہ جو گلی گلی جانور معصوم نہتے بچوں کا شکار کر رہے ہیں ان کو بھی پتہ چلے کہ ضمیر ساری عمر سویا نہیں رہ سکتا اور جب ضمیر جاگ گئے تو جنگلی جانوروں کا جنگل واپس جانے کا وقت آجاتا ہے ۔بحیثیت معاشرہ بحیثیت فرد ہم سب کو اپنا اپنا ضمیر جگانا ہوگا۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے، قانون اور ان جیسے باقی کمزور پلرز پر ایک قوم کی بنیاد کبھی مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہر کوئی ہر دوسرے کے ساتھ مکمل مخلص نہ ہو۔ ہمارے ہاں ہر کوئی بس یہ چاہتا ہے کہ اسے کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور سب کچھ خود ہی ٹھیک ہوجائے ۔

ایک دوست نے پچھلے دنوں گلی محلے میں کوڑا اٹھانے والے بچوں کیلئے چھوٹے سے پیمانے پر ویکنڈ سکول کھولنے کا پورا پلان مجھے بھیجا تھا۔ بہت چھوٹے پیمانے پر، لیکن کیا ایسے ہی اگر ہر کوئی بچوں کے کسی ایک گروپ ، یا کم ازکم ایک بچے کو ہی گلی محلے سے اٹھا کے اس کا خرچہ اٹھا کے اس کی تعلیم کا بندبست کردے تو ایک پانچ دس روپے کی آئسکریم کے پیچھے ان معصوموں کو اپنا بچپن چیخوں میں نہ گنوانا پڑے نہ ہی جسمانی اعضا پر قیامت کا تشدد برداشت کرکے کوڑے کے ڈھیر کی نذر ہونا پڑے۔

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *