وہﷺ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا۔۔۔۔۔راجہ قاسم محمود

آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی رحمتِ لامحدود کا سب سے بہترین مظہر ہیں۔جس طرح آپ ﷺ کی ذات برکت کا سبب ہے۔بالکل ایسے ہی آپ ﷺ کی سیرت و کردار بھی بے پناہ برکات کا حامل ہے۔اس لیے آپ ﷺ کی اتباع کرنے والا دنیاوی و اخروی خیر کا مستحق ہے۔

یوں تو ربّ کریم کے بھیجے ہوئے ہر نبی علیہ الصلوة والسلام عظیم ہیں اور ان کی تعلیمات کا ماخذ بھی وہی ہے جو آپ ﷺ کی تعلیمات کا ہے مگر اس کے باوجود یہ بات بہت ذمہ داری سے کہی جا سکتی ہے کہ صرف آپ ﷺ کی اتباع ہی سے وہ برکات سمیٹی جا سکتی ہیں جن کا ربّ کریم نے وعدہ فرمایا ہے۔اور انسانیت صرف آپ ﷺ کے پیغام کی محتاج ہے۔اس بارے میں فطری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ صرف نبی ﷺ کی سیرت ہی کیوں؟ کسی اور نبی علیہ الصلوة والسلام کی ذات برکات کی تعلیمات و پیغام کیوں نہیں؟

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تمہیدی طور پر لکھتے ہیں۔۔

“یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ علم کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے،جس نے اس کاٸنات کو بنایا ہے اور اس میں انسان کو پیدا کیا ہے۔اور اس کے سوا کائنات کی حقیقتوں کا اور خود انسانی فطرت اور اس کی حقیقت کا علم اور کس کو ہو سکتا ہے؟خالق ہی تو اپنی مخلوق کو جان سکتا ہے۔مخلوق اگر کچھ جانے گی تو خالق کے بتانے ہی سے جانے گی۔اس کے پاس خود اپنا کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے،جس سے وہ حقیقت جان سکے”۔

اس معاملے میں دو چیزوں کا فرق اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے تاکہ غلط  بحث نہ ہونے پائے۔ایک قسم کی وہ چیزیں جنہیں آپ حواس سے محسوس کرسکتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے حاصل ہونے والی معلومات کو فکر و استدلال اور مشاہدات و تجربات کی مدد سے مرتب کرکے نئے نئے نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔اس نوعیت کی چیزوں کے بارے میں عالمِ بالا سے کوئی تعلیم آنے کی ضرورت نہیں۔یہ آپ کی اپنی تلاش و جستجو ،غور و فکر اور تحقیق و انکشاف کا دائرہ ہے۔اسے آپ پر چھوڑا گیا ہے کہ اپنے گردوپیش کی دنیا میں پائی جانے والی اشیإ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالیں۔اگرچہ اس معاملے میں بھی آپ کے خالق نے آپ کا ساتھ چھوڑ نہیں دیا،وہ تاریخ کے دوران بالکل غیر محسوس طریقے سے ایک تدریج کے ساتھ پیدا کی ہوئی دنیا سے آپ کا تعارف کراتا رہا ہے۔واقفیت کے نئے نئے دروازے آپ پر کھولتا رہا اور وقتاً فوقتاً ایک الہامی طریقے سے کسی نہ کسی انسان کو ایسی بات سجھاتا رہا جس سے وہ کوئی نئی چیز ایجاد یا کوئی نیا قانون دریافت کرسکا۔بہرل یہ انسانی علم ہی کا دائرہ جس کے لیے کسی نبی اور کسی کتاب کی حاجت نہیں۔

دوسری قسم کی چیزیں وہ ہیں،جو ہمارے حواس کی پہنچ سے بالاتر ہیں،جن کا ادراک ہم کسی طرح نہیں کر سکتے۔جنہیں ہم نہ تو تول سکتے ہیں،نہ ناپ سکتے ہیں،نہ اپنے علم کے ذرائع میں سے کوئی ذریعہ استعمال کرکے اُن کو معلوم کر سکتے ہیں۔فلسفی اور سائنسدان ان کے متعلق اگر کوئی رائے قائم کرتے ہیں تو وہ قیاس پر مبنی ہوتی ہے۔جسے علم نہیں کہا جا سکتا۔یہ آخری حقیقتیں Ultimate Realities ہیں جن کے بارے میں استدلالی نظریات کو خود وہ لوگ بھی یقینی نہیں قرار دے سکتے،جنہوں نے اُن نظریات کو پیش کیا ہے”

مولانا مودودی یہ بات کرنے میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ علم فسلفہ میں بھی Reality یعنی علم کی حقیقت کے لیے دو اصطلاحات ہوتیں ہیں

1.Subjective Reality
2.Objective Reality

پروفیسر ادریس آزاد اپنی کتاب Companion to Philosophy and Logic میں Subjective Reality پر بات کرتے ہوٸے لکھتے ہیں
A subjective reality is a reality that appears inside a human mind and it does not really exist outside of the mind

جبکہ Objective Reality اس کے برعکس ہے۔اس کو حواس خمسہ سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر ادریس آزاد اس کا بارے میں اجمالی تعارف کراتے ہوے لکھا ہے
Things we sense are called objects and world we see around us is objective world

اس طرح اخروی زندگی اور اس میں کامیابی ،تصور خدا،جنت و جہنم مابعد الطبعیاتی امور (Metaphysical) سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ Subjective Reality کا حصہ ہیں جن کو مولانا مودودی نے دوسری طرح کی چیزوں میں شمار کیا ہے۔ اگر اس دائرہ علم میں پہنچنا ہے تو صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہم حقیقت تک رساٸی حاصل کر سکیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی حقائق کو جاننے والا ہے اور ان امور کا براہ راست تعلق بھی اس سے بنتا ہے۔لہذا رب کریم کی ہدایت ہی حتمی تصور ہو گی اور اس نے یہ ہدایت انبیا ٕ علیہم السلام کے ذریعے بندوں تک بذریعہ وحی پہنچانے کا بھی مکمل اور اکمل اہتمام کیا ہے۔یعنی کہ انبیا ٕ علیہم السلام کی پیروی ہی میں یقینی نجات ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔
جب سے آپ ﷺ کی بعثت ہوئی ہے اس کے بعد اس ہدایت و راہنمائی کے بارے میں پیمانہ محدود ہوکر فقط آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات میں جمع ہوگیا ہے کیونکہ ہدایت کا یقینی ماخذ فقط آپ ﷺ کی ذات سے ہی ممکن ہے۔
اس کی وجہ مولانا مودودی یوں بیان کرتے ہیں

”جن انبیإ کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے،ان کو اگرچہ ہم یقینی طور پر نبی مانتے اور جانتے ہیں۔لیکن ان میں سے کسی کی تعلیم اور سیرت ہم تک کسی قابل اعتماد اور مستند ذریعہ سے نہیں پہنچی ہے کہ ہم اس کی پیروی کرسکیں۔
اگر سارے انبیا ٕ علیہم السلام کی تعلیمات اور سیرت پر کوئی شخص لکھنا چاہے تو چند صفحات سے زیادہ نہیں لکھ سکتا اور وہ بھی صرف قرآن کی مدد سے کیونکہ قرآن کے سوا ان کے بارے میں کوئی مستند مواد موجود نہیں ہے“

اس کے بعد مولانا نے عہد نامہ عتیق،عہدنامہ جدید اور تلمود کا تاریخی و فنی جائزہ لیا ہے اور بتایا کہ ان کی استناد کس حد تک متنازعہ ہے۔ایسے ہی دوسرے پیشوان مذاہب جیسے کہ زرتُشت کو ہی لے لیجیے،ان کا صیح زمانہ پیدائش بھی معلوم نہیں۔ان کی زبان جس میں ان کی کتاب موجود تھی وہ بھی مردہ ہو چکی ہے۔پھر زرتشت کی طرح بودھ کے بارے میں بھی گمان کیا جاتا ہے کہ شاید وہ بھی نبی تھے مگر ان کی بھی سرے سے کوئی کتاب موجود ہی نہیں نہ ان کے پیروکاروں نے کبھی دعویٰ کیا کہ وہ صاحبِ کتاب تھے۔

اس طرح الہیٰ ہدایت کا ایک ہی مستند ماخذ اس وقت دنیا میں دستیاب ہے جس کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس میں کسی غیر اللہ کے کلام کی آمیزش نہیں۔بلکہ آپ ﷺ کا اپنا قول بھی اس میں شامل نہیں،آپ ﷺ کے اقوال کو علیحدہ سے رکھا گیا ۔
اس لیے سیرت مقدسہ ﷺ کا مطالعہ اور اس کی ضرورت ناگزیز ہے اور آپ ﷺ کی سیرت کا یہ فیضان ہے کہ باقی انبیا ٕ علیہم السلام کی سیرت و کردار بھی زندہ ہے کیونکہ دیگر تمام انبیإ کی خصوصیات میں سے وافر حصہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی ذات بابرکات میں رکھا۔
اس سلسلے میں علامہ اشرف سیالوی مرحوم کی کتاب کوثر الخیرات سے یہ اقتباس نقل کرنے پر اکتفا کروں گا جنہوں نے بہت پیارے الفاظ میں اس حقیقت کو بیان کیا

“آپ ﷺکی نبوت ورسالت اپنے ثمرات ونتائج فضائل وفوائد کمالات انبیاء کرام علیہم اسلام اور معجزات و خصائص رسل عظام علہم اسلام کو جامع ھے اور ہر نبی و رسول ﷺ کے درجہ کمال اور حسن لازوال کو محیط اور شامل ھے.گویا یہ نبوت و رسالت ایک نبوت نہیں بلکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم و بیش تمام رسل عظام اور انبیاء عظام علیہم الصلوت وسلام کی رسالتیں اور نبوتیں اس میں داخل ھیں.اس لیے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے آپ ﷺ نبوت عطا کی بلکہ فرمایا ” انا اعطیناک الکوثر” ہم نے آپﷺ کو خیر کثیر عطا فرمایا اور حیط عقل وفکر میں نہ سما سکنے والی نبوت عطا فرمائی”

بقول اعلیٰ  حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ

“بجھ گئیں جس کے آگے سب مشعلیں
شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبیﷺ
سب سے اولیٰ و اعلی ہمارا نبیﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبی ﷺ

تحریر میں اگر کہیں خوبی و حسن ہے تو یہ میرے رب اور آپ ﷺ کا کرم ہے اور اگر کوئی کمی و کمزوری ہے تو میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”وہﷺ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا۔۔۔۔۔راجہ قاسم محمود

  1. ماشاءاللہ بہت خوب لکھا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ آ پ کو جزائے خیر کثیر عطا فرمائے اور آپ کی اس کوشش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آ مین بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *