مدارس اور فرقہ واریت۔۔۔عبدالغنی

فرقہ واریت کی بنیادوں کی جب بات کی جاتی ہے تو مدارس کو مورد الزام ٹھہرایا جاتاہے کہ انہی سے فرقہ واریٹ پھوٹتی اور جنم لیتی ہے اور یہی اس کے مراکز ہیں ۔ کیا مدارس واقعی فرقہ واریت کے مراکز ہیں   ؟

امت مسلمہ  مختلف فرقوں میں منقسم ہے ، ان فرقوں میں بعض کے درمیان اختلافات فروعی نوعیت کے ہیں اور بعض کے درمیان  حقیقی و  اصولی قسم کے ہیں  ۔ انہی اختلافات کو فرقہ واریت کہتے ہیں یا فرقہ واریت اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہے ؟

میرے خیال میں امت کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہوجانا فرقہ واریت نہیں ہے جو کہ معیوب  ہے ۔

انسانوں  کی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے  کہ وہ مختلف انداز سے سوچتے ہیں اور  ایک ہی چیز کو مختلف طرح سے دیکھتے ہیں ۔ کسی بھی فیلڈ میں چلے جائیں اس میں تقسیم در تقسیم کا عمل نظر آئے گا ۔ مختلف انداز   سے سوچنے والے اور  ایک دوسرے سے اختلاف کرنے والے لوگ ملیں گے ۔ یہ اختلاف ہی انسانیت کا حسن اور ترقی کی بنیاد ہے ۔ جانوراختلاف  کرتے ہیں نہ ہی ان میں   مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ،صدیاں گزر گئیں مزید صدیاں گزر جائیں وہ وہیں کے وہیں رہیں گے ۔ لیکن انسان ایک دوسرے سے مختلف سوچتے ہیں ۔ سوچوں کا یہی اختلاف مختلف نظریات کو جنم دیتاہے انہی مختلف افکار و نظریات  سے انسانی سوچ بہتر کاا نتخاب کرتی ہے  اور انسانی ترقی کا سفر جاری و ساری رہتاہے  ۔ ایسے میں اگر مذہبی اعتبارسے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کو معیوب شمار کیا جائے تو یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے ۔

فرقہ واریت  وہ ہوتی ہے جس میں تشدد اور عدم برداشت پائی جائے ، جس میں  کسی دوسرے گروہ اور فرقے کے وجود کو برداشت نہ کیا جائے  ۔ امت مسلمہ میں اس وقت بہت سے گروہ موجود ہیں ، یہ گروہ اگر دوسرے  کی نفی بجائے اس کے  وجود کو تسلیم کرلیں تو ان میں سے ہر ایک    قدیم تراث کے تنوع کی اعلی  مثال  بن سکتا ہے ۔ان گروہوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو کسی میں  روایت کے ساتھ گہری وابستگی پائی جاتی ہے ،کوئی علاقائی  رسوم و رواج کو بہتر انداز میں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے،  کسی میں  تصوف کا غلبہ نظر آتاہے ، کسی میں عشق و محبت اور وارفتگی کے جذبات  کا غلبہ دکھائی دیتاہے ۔ غرض فرقہ واریت اور ایک دوسرے کی نفی کی بجائے مختلف گروہ اگر باہمی احترام کے رشتے میں بند ھ جائیں تو اسی اختلاف میں تنوع کی خوبصورتی دکھائی دے گی ۔

کسی بھی عادت  میں مجموعی قومی نفسیات   کا بہت عمل دخل ہوتاہے ۔بحیثیت قوم مجموعی طور پر اختلاف کی صورت میں ہم نفرت و دشمنی پر اتر آتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک فریق مخالف کا وجود ناقابل برداشت ہوتا ہے ۔ ہمارے نزدیک فریق مخالف کے لئے کسی قسم کی اخلاقیات کی پابندی ضروری نہیں ہوتی ہے۔ ہمارے معاشروں  میں اختلاف کی کوئی صورت ہو ، اس میں برداشت ، تحمل اور رواداری دکھائی نہیں دیتی ہے ایسے میں مجموعی قومی نفسیات مذہبی اختلافات میں مختلف نہیں ہوسکتی ہیں ۔  مذہب ہماری معاشرتی زندگی کا ایک جز و  ہوتا ہے وہ بھی ہماری مجموعی نفسیات کے تابع ہوتا ہے ۔مذہبی اختلافات کی صورت میں بھی وہی رویہ دکھائی دیتاہے جو عام طور پر ہماری عادت و فطرت بن چکا ہوتاہے ۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم فرقہ واریت کی بجائے فرقوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتےہیں اور فرقوں کے وجود کو ہی فرقہ واریت سمجھتے ہیں۔ اگر فرقوں کا وجود ہی فرقہ واریت ہے تو اجتہاد اور  غورو فکر کا عمل بالکل بند ہوجائے گا ۔ اسلامی متون میں بہت سے احکام میں تنوع ، وسعت اور لچک نظر آتی ہے ۔ اسی طرح ان متون سے احکام کو  اخذ کرنے میں  مختلف ذہن و پس منظر رکھنے والے لوگ مختلف انداز سے احکام نکالتے ہیں ۔ مختلف اندازسے احکام نکالنے میں  اسلامی روایت روز اول سے ہی بہت واضح رہی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے صحابہ کرام میں بھی ہمیں اختلافات نظرآتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین کی کوئی واضح شکل موجود نہیں تھی بلکہ دین کی واضح شکل وہ توسیع اور تنوع ہی تھا جو روز اول کے مختلف مکاتب و شخصیات  میں پایا جاتا تھا ۔

ان اصولی باتوں کے بعد ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت کے اسباب کیا ہیں ان پر غورو فکر بہت ضروری ہے ۔   مدارس جو کہ دینی تعلیم کے ادارے ہیں  فرقہ واریت کی کمی یا زیادتی میں کیا کردار اداء کرتے ہیں  ؟

مدارس کے نصاب میں ایک بھی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں فرقہ وارانہ  مواد موجود ہو ۔ البتہ  فرقہ واریت کی شدت کو کم کرنے کے لئے ” اختلاف امت و صراط مستقیم ” یا اس طرح کی بعض کتابیں اضافی مطالعہ میں شامل ہیں جن کا امتحان نہیں ہوتا ہے ۔ لیکن اس کتاب میں یاایسی دیگر کتابوں میں امت کے اندر اختلافات خاص کر موجود ہ دور میں برصغیر کی حد تک پائے جانے والے اختلافات کی نوعیت کو واضح کیاجاتاہے کہ یہ کوئی اصولی نوعیت کے یا بہت بڑے اختلافا ت نہیں ہیں اس لئے ان میں لچک پیدا کی جاسکتی ہے ۔

البتہ بعض چیزیں ایسی ہیں جو قابل غور ہیں ۔ مدارس کا وجو د مسلک کی بنیاد پر ہوتاہے ۔ اسی طرح مدارس جن بورڈز کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں وہ بھی مخصوص مسالک کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ کسی مدرسے میں دوسرے مسلک کا طالب علم داخلہ نہیں لے سکتاہے کیونکہ عقائد و نظریات میں ا س مخصوص مسلک کا پابند ہونا ضروری ہے جس کی وہ مدرسہ نمائندگی کرتاہے ۔ تعلیمی اداروں اور پھر  تعلیمی بورڈز کی مسالک کی بنیاد پر تقسیم  تعلیمی عمل اور اس کی روح کو متاثر کرتی ہے ۔

مدارس  میں اساتذہ کا رویہ و عمل دوسرے مسالک کے بارے میں تشدد آمیز ہوتاہے ۔ دوسرے مسالک اور  فرقوں کے بارے میں طلبہ کو غلط معلومات دی جاتی ہیں ۔ ان معلومات کا ذریعہ ثانوی سورسز کا درجہ رکھنے والی وہ کتابیں ہوتی ہیں جن کو ہر مسلک کے مناظرین طرز کے لوگ تیار کرتے ہیں ۔ دوسرے فرقوں کو راہ حق سے ہٹا ہوا اور گمراہ تصور کیا جاتاہے ۔ان کے پیچھے نماز کو  درست  تصور  کیا جاتاہے اور  نہ ان کے ساتھ تعامل کو ۔ مدارس پر شعلہ نوا مقررین ، خطباء اور مناظرین کا غلبہ ہوتاہے ۔ ان خطباء و مناظرین کی تقریریں و تحریریں  دوسرے مسالک کے بارے میں غلط معلومات پر مبنی اور تشدد آمیز ہوتی ہیں ۔ مدارس کے اساتذہ  میں سے بعض خود خطیب اور مناظر ہوتے ہیں ۔ اور جو نہیں ہوتے ہیں  وہ بھی ان لوگوں کے حق میں اچھی رائے رکھتے ہیں اور ان کی نفی بالکل نہیں کرتے ہیں ۔ دوسرے مسالک  کے افکارو نظریات کے بارے میں درست معلومات سے  آشنائی بہت ضروری ہے ۔ ان معلومات سے اسلامی روایت کے تنوع کی خوبصورتی کی طرف بڑھنا چاہیے نہ کہ نفرت اور بغض و عداوت کی طرف۔

مدارس سے وابستہ عالمی حالات  سے واقف  اور امت مسلمہ کے مسائل کا ادراک رکھنے والے لوگوں کو آگے بڑھ کر مدارس کے طلبہ و اساتذہ کی تحریر و تقریر اور خارجی مطالعہ کے لئے ایسا لٹریچر مہیا کرنا ہوگا جس سے ان  کا ذہنی افق بلند اور وسیع ہو اور وہ چھوٹے  مسلکی و گروہی مفادات کے دائروں سے نکل کر  مجموعی امت مسلمہ کے بارے میں سوچیں ۔ قرآن و حدیث ، اسلامی تہذیب و تمدن اور تشخص کو جن چینلجز کا  سامنا ہے ان کے بارے غور و فکر کریں اور اسلامی تراث کے ذخیرہ  کو موجودہ دور کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کی کوشش کریں ۔

عبدالغنی
عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *