• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور ان کا تدارک۔۔۔۔محمد حنان صدیقی /مقابلہ مضمون نویسی

پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور ان کا تدارک۔۔۔۔محمد حنان صدیقی /مقابلہ مضمون نویسی

اللہ تعالیٰ کی لارَیب اور عالم گیر کتاب قرآن مجید کے مطابق انسان کی خلقت کا مقصداُسے علم و شعور سے سرفراز کر کے زمین میں نمائندہ الہٰی بنا کر بھیجنا تھا۔ اسی لیے خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا اس کے لیے کائناتِ ارضی و سماوی کو مسخر کر دیا جیسا کہo سورہ مبارکہ جاثیہ کی آیت ۳۱ میں ارشاد ہوا کہ ”اس (اللہ) نے اپنے پاس سے زمین و آسمان کی ہر چیز کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، بے شک غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔“

چوں کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں ارشاد ہوا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نہایت باخبر اور حکیم و دانا ہے“۔ پس اتنے عظیم منصب پر فائز کرنے اور عزت و سر بلندی عطا کرنے کے بعد انسان کولا وارث چھوڑ دینا حکمت کے اصولوں کے عین خلاف تھا، اسی لیے خدا نے اپنے انبیاء کی وساطت سے انسان کی ہدایت کے اسباب مہیا کیے۔ ان انبیاء کی بعثت کا مقصدبندوں کو معبودِ حقیقی کی تعلیمات کے ذریعہ ارتقائے انسانی کے وہ مراحل طے کروانا تھا جن کے ذریعے انسان اپنی خلقت کا مقصدحاصل کر کے خدا کی بارگاہ میں سُرخرو ہو سکے۔پس اُن مراحل میں سے ایک اہم مرحلہ امن و رواداری کا فروغ ہے۔

عربی کا ایک معروف مقولہ ہے کہ ’تعرف الاشیاء باضدادہا‘ یعنی ”چیزوں کو ان کی ضد سے پہچانا جاتا ہے“۔ جس طرح رات کی عدم موجودگی میں دن کی ضرورت واضح نہیں ہو سکتی اور بیماری کے بغیر صحت کی افادیت کا ادراک نہیں ہو سکتا، اسی طرح تشدد، عدم برداشت اور تنگ نظری سے پیدا ہونے والے نقصانات اور ان کی وجوہات کا جائزہ لیے بغیرایک سماج میں امن و رواداری کی اہمیت کو بھی واضح نہیں کیا جا سکتا۔امن کے لغوی معنی سلامتی اور عافیت کے ہیں لیکن اصطلاح میں ”امن معاشرے کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں لوگوں کے تمام معاملات بغیر کسی تشدد و اختلاف کے انجام دیے جاتے ہوں“۔ کسی سماج میں تشدد کا وجود وہاں کے لوگوں کو دنیا و آخرت کی رسوائی کا مستحق بنا دیتا ہے۔ رواداری کا لغوی مطلب وسعتِ قلبی ا ور وسعتِ نظری ہے جب کہ اصطلاح میں رواداری سے مرا د ”کسی معاشرے میں رہنے والے مختلف الخیال لوگوں کا امن کے قیام کے لیے ایک دوسرے کے نظریات کو خوش اسلوبی سے برداشت کرنا“ ہے۔ اختلاف کی اہمیت اپنے مقام پر تسلیم شدہ ہے مگر اختلاف کو برداشت نہ کرنے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے معاشرہ ایک جہنم کدہ بن جاتا ہے۔

اگرچہ تاریخِ انسانی کے آغازسے ہی عدم برداشت کی ابتداء ہوگئی تھی جب اللہ کے پہلے نبی اور پہلے بشر حضرت آدمؑ کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی بناء پر قتل کیا اور بعد میں ہر نبی کے دور میں مذہبی و مسلکی اختلافات تشدد کا باعث بنے۔ کبھی خدا کے رسولوں کی توہین ہوئی تو کبھی ان کے پیروکاروں کو ظلم و جور کا نشانہ بنایا گیا۔ حتیٰ کہ لوگوں نے تو نظریاتی و مسلکی اختلاف کی بناء پرسیدالانبیاء والمرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اس حد تک اذیتیں پہنچائیں کہ آپؐ نے فرمایا ”اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا گیا جتنا مجھے ستایا گیا“۔ پس معلوم ہوا کہ انسان ہر دور میں تشدد و عدم برداشت کا شکار رہے ہیں اور اس بناء پر ایک سماج کے مختلف الخیال باشندوں نے بامقصد مکالمے کی بجائے لاحاصل مباحث کو فروغ دیا، فکری اختلافات کو ذاتی اختلافات میں تبدیل کیا اوراپنی بات کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے تمام اخلاقی حدود کو عبور کر کے معاشرتی اقدار کو پاؤں تلے روند دیا۔

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بہت سے محرکات تھے جن میں سے ایک محرک یہ تھا کہ اس ریاست میں تمام شہری امن و سکون سے زندگی بسر کر سکیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جو تشدد، عدم برداشت اور تعصب سے پاک ہو۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا 11 اگست 1947ء کو اپنے خطاب میں یہ فرماناکہ”ہم آج اس اصول کے ساتھ شروعات کر رہے ہیں کہ ہم تمام مذاہب کے لوگ ایک ہی ملک کے اور سب برابر کے شہری ہیں“ دراصل عدم برداشت اور شدت پسندی سے پاک پاکستان کا ایک زینہ طے کرناتھامگر بدقسمتی سے بانی پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور پاکستان کی تاریخ کے آغاز میں ہی عدم برداشت کے مسائل دیکھنے میں آئے۔ حالات اس نہج تک پہنچے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں شدت پسندی کی بھینٹ چڑھتے ہوئے قتل کر دیے گئے۔ بانی پاکستان کی بہن محترمہ فاطمہ علی جناحؒ، جن کا تحریک پاکستان میں کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں، کو بھی عدم برداشت کی نذر کر دیا گیا۔

رسمی طور پر کہا گیا کہ محترمہ کی وفات حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوئی مگر 23 جولائی 2003ء کو ڈان نیوز کی اشاعت میں قائد اعظمؒ اور مادرِ ملت کے بھانجے اکبر پیر بھائی کا یہ انکشاف منظرِ عام پر آیا کہ محترمہ فاطمہ جناح کو دراصل زہر دے کر قتل کیا گیاتھا۔ بظاہر ان کے اندھے قتل کے شواہد حذف کیے گئے اور یوں وہ پاکستان پر کیے گئے احسانات کا بدلہ قتل ہونے کی صورت میں حاصل کر کے اس دارِ فانی سے جہانِ ابدی کی طرف کوچ کر گئیں۔
پاکستان کی تاریخ مجموعی طور پر شدت پسندی اور عدم برداشت سے پُر ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ ہر وجہ اور اس کے تدارک پر کئی مضامین لکھے جا سکتے ہیں۔ گویا
ع سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے

مگر عربی کا ایک قول ہے کہ’خیر الکلام ما قل و دل‘ یعنی ”بہترین کلام وہ ہوتا ہے جو قلیل مگر مدلل ہو“۔ لہذا کوشش ہوگی کہ چند اہم وجوہات کا خلاصہ اورا ن کا تدارک بیان کیا جائے۔ان وجوہات میں سے ایک اہم وجہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا فقدان ہے۔ جمہوریت دراصل عوام کی حکمرانی کا نام ہے اور پاکستان کا دستوری نظامِ حکومت بھی جمہوریت ہے مگر آج تک پاکستان میں حقیقی معنوں میں عوام کی حکمرانی قائم نہیں ہو سکی۔ایک طویل عرصہ تو ویسے ہی پاکستان میں آمریت کا راج رہا ہے۔ اگرچہ جمہوری حکومتیں بھی اشرافیہ کے تابع فرمان نظر آئیں مگر بقولِ معروف ”لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے بہتر ہے“۔آمرانہ مزاج کے برعکس جمہوری حکومتوں کی طرف سےفیصلہ سازی میں کچھ حد تک عوام کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اظہارِ رائے کی آزادی ہوتی ہے اور عوامی رائے کو بعض اوقات اہمیت حاصل ہوتی ہے مگر آمرانہ طرزِ حکومت میں مطلق العنانیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں تو شدت پسندی اور عدم برداشت کا سلسلہ باقاعدہ منظم انداز میں 1977ء سے ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے عنانِ اقتدار سنبھالنے سے ہی شروع ہوا۔ اس سے قبل 1958ء تا 1969ء تک جنرل ایوب خان اور1969 تا 1971ء تک جنرل یحیٰ خان بھی پاکستان کے آمر حکمران رہ چکے تھے۔

مورخین کے مطابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اہلیت نہ ہونے کے باوجود،اردن کے حکمران شاہ حسین کی سفارش پرجنرل ضیاء کو بری فوج کا سربراہ مقرر کیا اور بظاہر جنرل ضیاء وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بہت عزت کرتے تھے لیکن ان کا خبثِ باطن اس وقت عیاں ہوا جب انہوں نے 4 جولائی 1977ء کو جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا، وزیراعظم اور دیگر وزراء کو گرفتار کروایا اور اسمبلیاں تحلیل کر کے آئین معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ وہ دور تھا جب آزادی اظہار پر پابندی عائد ہوئی، ذوالفقار علی بھٹو کے چاہنے والوں کو پابندِ سلاسل کر کے ناگفتہ بہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، معزول وزیر اعظم کو ایک مقدمے میں ملوث کر کے پھانسی دلوائی اور ان کے مقدمے میں انصاف اور اخلاقی تقاضوں کو پاوٗں تلے روند ڈالا۔ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اور مخالف سیاسی جماعتوں کو زیرکرنے کے لیے جنرل ضیاء نے سیاسی اتحاد بنائے، ان کے پروان کردہ سیاسی رہنماوں نے اپنے مخالفین کی عزت و ناموس کو اُچھالا۔ مذہبی انتشار کا باعث بننے والی دہشت گرد جماعتوں کو پروان چڑھایا۔ یوں بین المسالک تنازعات کا آغاز بھی جنرل ضیاء کی سرپرستی میں ہی ہوا۔ آمریت کا چوتھا دورِ حکومت 1999ء میں شروع ہوا جب جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کو برطرف کر کے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی۔

دوسری اہم وجہ قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں ظالم طاقتور ہو تو کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہے۔ آئے روز قتل و غارت، عزت و ناموس کا عدم تحفظ، چوری، ڈکیتی اور قانون کی دیگر خلاف ورزیاں دیکھنے میں آتی ہیں مگر مجموعی طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام نظر آتے ہیں۔ حکومتیں بھی ان معاملات میں خاص دلچسپی ظاہر نہیں کرتیں۔ اگر عوامی دباؤ بڑھ جائے تو فقط رسمی طور پر نوٹس لینے اوررپورٹ طلب کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ دہشت گردی کا ناسور پاکستانی معاشرے میں زہرِ قاتل ثابت ہوا ہے۔ کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ کئی خاندان اجڑ گئے۔ حتیٰ کہ دہشت گردی کی آگ سے حکمرانوں کے ایوان بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔ فوج کے مرکز جی ایچ کیو تک اس آگ کی چنگھاڑیاں پہنچیں، یہاں وزراء اعظم، صوبائی وزیر و گورنر بھی قتل ہوئے مگر اس ناسور کی بیخ کنی کی بجائے قتل کی سنچریاں بنانے والوں کو قومی ہیرو بنایا گیا۔

پاکستان میں قاتلوں کے لیے سزائے موت کا قانون موجود ہے جو کہ قرآن کی رُو سے نہایت اہم ہے۔ سورہ مبارکہ البقرہ کی آیت 179 میں ارشاد ہوتا ہے کہ ”اے صاحبانِ عقل! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے“۔ قصاص یعنی خون کا بدلہ خون۔ اس قانون سے معاشرے میں قتل و غارت کے جن کو قابو کیا جا سکتا ہے مگر ماضی کی حکومتوں نے ایک طویل عرصہ تک بیرونی ایماء پر اس قانون پر عملدرآمد کو ملتوی کیے رکھا۔ جب پانی سر سے اوپر گزر گیا تو اس قانون کو بحال کیا گیا لیکن ابھی تک اس پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
کمزور عدالتی نظام اورانصاف کی فراہمی ممکن نہ ہونا، تیسری اہم وجہ ہے۔ قرآن مجید میں انبیاء کی بعثت کا ایک اہم مقصد انصاف کا قیام بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ سورہ مبارکہ الحدید کی آیت ۵۲ میں ارشاد ہوا کہ ”ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔“ اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک معروف قول جس کا مفہوم یہ ہے کہ حکومتیں کفر پر باقی رہ سکتی ہیں مگر ظلم پر نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ کسی معاشرے کی بقاء کے لیے عدل و انصاف کی فراہمی بہت ضروری ہے مگر پاکستانی معاشرہ میں عدل و انصاف کا نظام بہت کمزور ہے۔ جسٹس قیوم جیسے لوگ مدعی کے حکم پر فیصلے صادر کرتے ہیں۔

پاکستانی نظامِ انصاف کے بارے میں ایک مقولہ مشہورہے کہ ”پاکستان میں انصاف کے حصول کے لیے نوحؑ جتنی عمر، ایوبؑ کا سا صبر اور قارون کا سا خزانہ درکار ہے“ اور حقیقتاََپاکستان میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایک کمزور جو ایک جھوٹے مقدمے میں ملزم نامزد کر دیا جائے، اپنی زندگی کے قیمتی سال عمر قید کی سزا میں گزارنے کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں بے گناہ ثابت ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل توعدالتِ عظمیٰ نے ایک ایسے شخص کو بے گناہ قرار دیا جو فیصلے سے دو سال پہلے ہی تختہ دار پر لٹکادیا گیا تھا۔ انہی ظالمانہ واقعات کے باعث ایک مظلوم جسے سال ہا سال ذلیل ہونے کے بعد بھی عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا، وہ قانون اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور خود ظالم کونشانِ عبرت بنانے کی کوشش کرتا ہے تو معاشرے میں عدم برداشت اور شدت پسندی فروغ پاتی ہے۔

چوتھی اہم وجہ شہریوں کو بنیادی حقوق کی عدم فراہمی ہے۔ دستورِ پاکستان کے تحت شہریوں کو بنیادی حقوق مثلاََ روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، روزگار، معاشرتی مساوات، اظہارِ رائے کی آزادی وغیرہ کی فراہمی ریاست کا فرض ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہ سہولیات فقط اشرافیہ کو حاصل ہیں۔ عام آدمی کو کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی، پہننے کو کپڑا، رہنے کو لباس میسر نہیں۔ غربت اور بیروزگاری کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم و صحت کی سہولیات مہنگائی کے باعث عام شہری کی دسترس میں نہیں۔ اشرافیہ کے بچے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں جبکہ ایک غریب شہری اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی بجائے بچپن سے ہی کام کاج کا عادی بنا دیتا ہے۔ قائد اعظمؒ نے تو فرمایا تھا کہ ”تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے“ اور دنیا میں ترقی یافتہ قوموں نے بھی تعلیم کو نمایاں اہمیت دے کر ترقی کے زینے طے کیے ہیں مگر پاکستان تعلیم و دیگر بنیادی حقوق کے حوالے سے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں مثلاََ صحت کا بجٹ اور سہولیات سرکاری سطح پر بہت محدود ہیں۔ جہاں تعلیم کو 4 فیصد بجٹ نہیں دیا جاتا وہاں صحت کا بجٹ بھی اوسطاََ دو سے اڑھائی فیصد ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی ہے۔ ایک بستر پر ایک سے زیادہ مریضوں کو جگہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح شہریوں کے بنیادی حق آزادی اظہار پر بھی قدغن لگائی جاتی ہے اور معاشرتی مساوات کا یہ عالَم ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں۔ امیر و غریب کے طرزِ زندگی میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔

شدت پسندی اور عدم برداشت کی پانچوی اہم وجہ مذہبی و لسانی اختلافات کو غلط رنگ دیناہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جہاں مسلمان مجموعی طور پر اکثریت میں آباد ہیں۔ یہ مسلمان اپنی منفرد مسلکی شناخت کے ساتھ آباد ہیں۔مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ، عیسائی و دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی پاکستانی آبادی کا اقلیتی حصہ ہیں۔ اسی طرح ان مسلمانوں و غیر مسلموں کی مختلف زبانیں ہیں جو ان کیے احساسات کا ذریعہ ہیں۔ اختلاف ایک فطری نعمت ہے جو تحقیق کے در وا کرتا ہے۔بقولِ ذوقؔ
؎ گل ہائے رنگا رنگ سے ہے زینتِ چمن
اے ذوقؔ! اس جہاں کو ہے زیب اختلاف میں

حق تو یہ بنتا تھا کہ پاکستانی ان مذہبی و لسانی اختلاف کو واقعتاََ نعمت سمجھ کر قبول کرتے مگر ایک طرف مذہبی تو دوسری طرف لسانی اختلافات کو غلط رنگ دے کر نفرتوں کو فروغ دیا گیا۔1980ء سے قبل پاکستان میں تمام شہری امن و احترام کے رشتے کے ساتھ آپس میں وابستہ تھے۔ ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام رائج تھا اور تمام مسالک کے لوگ اپنی عبادات کے مراسم رواداری سے اداکرتے تھے۔ مگربعد ازاں مسلمان مسالک میں کچھ مخصوص گروہ داخل کیے گئے جنہوں نے امن و امان کی فضا کو سبوتاژ کیا اور اپنے مخصوص ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے بین المسالک و بین المذاہب تفرقات کا باعث بنے۔ وہ اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے، اس کا کلمہ پڑھ کے مسلمانوں میں فساد کی ترغیب دلائی گئی۔ جو قرآن کسی ایک بے گناہ کا خون بہانے کو پوری انسانیت کا قتل سمجھتا ہے، اسی کے قارئین نے ہزاروں بے گناہوں کے خون سے اس ارضِ وطن کو آلودہ کیا۔ گویا
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
اموال بھی، اوالاد بھی، جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اُٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر تو کیا ، نعرہ تکبیر بھی فتنہ

جو رسولؐ عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، انہی کے نام پر مذہبی اکثریتی طبقے کی طرف سے اقلیتوں کے حقوق کو بھی پاؤں تلے روندا گی۔ ان کی املاک کو گزند پہنچانے کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں اور زندہ انسانوں کو جلایاگیا۔ اسی طرح لسانی اعتبار سے پنجابی، پشتون، سندھی، مہاجر، بلوچی کو بنیاد بنا کر فسادات ہوئے حالانکہ قرآن مجید، سورہ مبارکہ البقرہ کی آیت 191 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ ”فتنہ قتل سے بھی شدید بُرا ہے“مگر قرآن کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر مذہبی و لسانی اختلافات کو غلط رنگ دیا گیا اور یہ وہ تاریخی وجوہات ہیں جنہوں نے پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت، شدت پسندی، تعصب و نفرت جیسی معاشرتی برائیوں کوپروان چڑھایا۔

حالات جیسے بھی ہوں، صرف مسائل پر بحث کرنے سے معاملات درست نہیں ہوتے بلکہ بہتر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ان مسائل کا حل بھی پیش کیا جائے۔ پس درج بالا اہم وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد ان کا تدارک نہایت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں انفرادی وحکومتی، ہر دو سطح پر کاوشیں سر انجام دینا ہوں گی۔ سب سے پہلے اس ملک میں حقیقی معنوں میں جمہوری اقدار نافذ کی جائیں۔ آمریت سے پاک طرزِ حکمرانی ہو۔ حکمران غیر آئینی ذرائع کی بجائے براہِ راست عوام کے شفاف انتخابات کے ذریعے عنانِ اقتدار سنبھالیں، اپنے فیصلوں میں عوام کی آراء و مسائل کو مدنظر رکھیں، عوامی مسائل کا باعث بننے والی قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں اور شہری بھی ملک کی فلاح کے لیے جائز معاملات میں حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

قانون کی عملداری اس ملک کا اہم مسئلہ ہے۔ قانون کی پاسداری شہریوں کا دستوری فرض ہے۔ آئینِ پاکستان کی شق 5(2) کے مطابق ”دستور اور قانون کی اطاعت، ہر شہری خواہ وہ مملکت سے باہر ہو اور ہر وہ شخص جو فی الوقت پاکستان میں ہو، ان سب کی واجب التعمیل ذمہ داری ہے“۔ پس جہاں شہریوں کا فرض ہے کہ قانون کی پاسداری کریں، وہاں ریاست کا بھی فرض ہے کہ قانون کی عملداری میں سنجیدہ کوشش کرے۔ اگر قانون میں کوئی سقم موجود ہے تو اسے دور کیا جائے۔ عوامی سطح پر قانون کی عملداری سے متعلق آگاہی مہم کا آغاز کرے۔ قانون شکن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ قاتلوں کو نشانِ عبرت بنانے کے لیے سزائے موت کے قانون پر بھرپور عملدرآمد کروایا جائے۔ اس کے علاوہ روزمرہ کے واقعات مثلاََ چوری، ڈکیتی، عزت و ناموس سے کھلواڑ کرنے والوں کو قرارِ واقعی سزا دی جائے۔

عدالتی نظام کی مضبوطی اور انصاف کی فراہمی بھی پاکستانی معاشرے کے لیے از حد ضروری ہے۔ اولاََ تو شہریوں کا فرض ہے کہ آپس کے معاملات میں عدل و انصاف سے کام لیں۔ ثانیاََ یہ کہ تنازعات کی صورت میں خود قانون ہاتھ میں لینے کی بجائے عدالتوں سے رجوع کریں۔ ریاست کا دستوری فرض آئین کی شق 37(د) میں صریحاََ لکھا ہے کہ ”مملکت سستے اور سہل الحصول انصاف کو یقینی بنائے گی“۔ پس ریاست کا فرض یہ ہے کہ کم سے کم قیمت پر انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنائے اور عدالتیں بلا خوف و خطر، غیرجانبدارانہ طور پر انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے صادر کریں تاکہ عدم برداشت و شدت پسندی کا خاتمہ ممکن ہو۔

اس مقصد کے حصول کی خاطر شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی بھی نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔سب سے پہلے شہریوں کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی رہن سہن کی سہولیات دی جائیں۔ پاکستان میں کے شہریوں کی معاشی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ پس ریاست کا فرض ہے کہ غربت اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ اشرافیہ سے محصولات کی مکمل ادائیگی کر کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔پسماندہ طبقات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے اسباب مہیا کیے جائیں۔تعلیم و صحت کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔ سرکاری تعلیمی اداروں و ہسپتالوں کا قیام عمل میں لاکر مکمل سہولیات فراہم کی جائیں۔ شہریوں کو جائز و معقول حد تک اظہارِ رائے کی آزادی دی جائے۔ پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی کی ایک اہم وجہ بیروزگاری ہے۔ بعض اوقات شہری باعزت روزگارکی عدم دستیابی کے سبب عدم برداشت کا شکار ہو کر معاشرتی برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لہذا ریاست اس سلسلے میں خصوصی اقدامات کرے۔ جیسا کہ آئین کی شق38(ب) کے مطابق ”مملکت تمام شہریوں کے لیے ملک میں دستیاب وسائل کے اندر معقول آرام و فرصت کے ساتھ کام اور مناسب روزی کی سہولیات مہیا کرے گی“۔ اس کے علاوہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور معاشرتی مساوات کے ذریعہ احساس کمتری کو ختم کرنے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ شدت پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔انسانوں کے افکار میں اختلاف ایک فطری امر ہے لیکن کچھ تنگ نظر اور متعصب لوگ فکری اختلافات کو جواز بنا کر غیر اخلاقی مباحث کے ذریعہ معاشرے میں فتنہ برپا کرتے ہیں جو کہ حوصلہ شکنی کے قابل ہے اور اسلام بھی اس فعل کی شدید مذمت کرتا ہے کیوں کہ ایک مُصلح کا بہترین ہتھیاراس کا اچھا اخلاق ہے۔ اسی لیے سورہ عنکبوت کی آیت46 میں ارشاد ہوا کہ ”اور اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے“۔ اسی طرح سورہ طٰحہٰ کی آیات 43اور 44 میں اللہ نے حضرتِ موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا ذکر ان الفاظ میں کیا کہ ”تم دونوں (حضرت موسیٰ و حضرت ہارونؑ) فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ باغی و سرکش ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے“۔ قرآن مجید نے واضح کر دیا کہ فرعون جیسے سرکش کے ساتھ بھی سختی سے کام لینا اصولِ ہدایت کے خلاف ہے جس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اگر معاشرے کی اصلاح مقصود ہو تو اپنے لہجے اور رویے کو بہتر کرنا اولین شرط ہے کیوں کہ سورہ آلِ عمران کی آیت 159 میں اللہ نے سیدالانبیاؐء کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ”یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے“۔

پس پاکستانی باشندوں کا فریضہ ہے کہ مختلف مسالک و مذاہب کے مابین با مقصداور ثمر آور مباحث کا اہتمام کریں تاکہ ایک دوسرے کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے مواقع میسر آئیں ا ورآپس میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوں کیوں کہ منطقی اور احسن انداز میں کیا جانے والا اختلاف ہمیشہ اذہان کے دریچے کھولنے کا سبب بنتا ہے۔ مشترکات پر اتحادکیا جائے اور دوسروں کے مقدسات کی توہین سے اجتناب برتاجائے۔ سورہ انعام کی آیت 108میں ارشادِ خداوندی ہے کہ ”(اے ایمان والو!) یہ لوگ اللہ کے علاوہ جن کو پکارتے ہیں، انہیں بُرا بھلا نہ کہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی عداوت و نادانی میں اللہ کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیں“۔چنانچہ ریاست بھی یہ قبیح فعل انجام دینے والے عناصر کی بیخ کنی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے دوسروں کے مقدسات کا احترام رائج کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسی طرح بعض لوگ فروعی معاملات مثلاََ عبادات کے طریقہ کار میں اختلاف کو بھی زندگی و موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں حالاں کہ یہ طریقہ اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔ اگر ہم ان اختلافات کو جواز بنا کر آپس میں دست بہ گریباں ہوں گے تو اس کا فائدہ صرف اور صرف دشمن کو ہی ہونا ہے اور وہ تو یہی چاہتا ہے کہ ہمیں آپس میں گتھم گتھا کر کے اپنے نجس مقاصدحاصل کرے۔ ایک محقق نے عظیم جملہ ارشاد فرمایاتھا کہ ”آپ لوگ نماز میں ہاتھ کھولنے یا باندھنے پرلڑ رہے ہیں جب کہ دشمن آپ کے ہاتھ کاٹنے کے درپے ہے“۔

یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ مشترکات پر اتفاق کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے عقائد ترک کر دے بلکہ اس کامقصد یہ ہے کہ ہر انسان آزادی سے اپنے عقائد کے مطابق اعمال سر انجام دے، اگر دوسروں کو دین کا پیغام دینا ہو تو بھی ہرگز جبر سے کام نہ لیا جائے کیوں کہ بحثیت انسان، ہمیں حق حاصل نہیں کہ خدائی معاملات میں دخل اندازی کریں۔ اگر مذہبی اختلافات کی طرح لسانی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ہم صرف مسلمان اور پاکستانی کی حیثیت اختیار کر لیں تو امن و رواداری کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی کیوں کہ ہم سب کی شناخت میں قدر مشترک اسلام اور پاکستان ہے۔ اسی لیے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 21 مارچ 1947ء کو ڈھاکہ میں اپنے ایک خطاب کے دوران فرمایا کہ ”ًآخر یہ کہنے کا کیا فائدہ ہے کہ ہم سندھی یا پٹھانی یا پنجابی ہیں؟ نہیں! ہم سب مسلمان ہیں۔ اسلام نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔“

اگرچہ درج بالا اقدامات کا مکمل نفاذ مشکل تو ہو سکتا ہے مگر ناممکن نہیں۔اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کے آغاز کے بعدریاست اور پاکستانی شہریوں کو چاہیے کہ جہدِ مسلسل سے کام لیتے ہوئے راہِ حق پر ثابت قدم رہیں کیوں کہ کسی کام کی شروعات بھی ایک اچھا کارنامہ ہوتا ہے لیکن اُس پر کاربند رہنا اصل کمال ہے۔ بلا شبہ حق کی راہ میں انسان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن انسان کو چاہیے کہ مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرے اور صبر، ہمت، حوصلہ و استقلال سے کام لیتے ہوئے باطل قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو۔ رسول اکرؐم کی زندگی ہمارے لئے کامل اسوہ حسنہ ہے۔اپنی زندگی کے چالیس سال عمل و کردار سے تبلیغ کرنے کے بعد جب آپ کو زبان سے کارِ رسالت کی ادائیگی کا حکم ہوا تو صادق و امین کہنے والے لوگ بھی آپؐ کے جانی دشمن بن گئے۔ لیکن مقصد اتنا عظیم تھا کہ حق کے راستے میں آنے والی بے پناہ مشکلات کے باوجود ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ پس اگر ہم بھی انبیاء و اولیاء کی تعلیمات سے سبق لیتے ہوئے اللہ پر یقینِ کامل رکھیں اورراہِ حق پر مستقل مزاجی سے کار بند رہیں تویقینا کامیابی ہمارا مقدر بن جائے گی۔ بقولِ شاعر
؎ یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبتِ فاتحِ عالَم
جہادِ زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

مزید برآں یہ کہ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے کسی ایک طبقہ فکر کی بجائے معاشرے کے ہر فردکوبلا تفریقِ مذہب و مسلک، جدوجہد اور ایثار کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگرچہ ریاست کی ذمہ داری بدرجہ اولیٰ ہے لیکن سماج کے دیگر باشندوں کا بھی فرض ہے کہ حتی المقدوراس معاملے میں ریاست کا ساتھ دیں۔ اس سلسلے میں مقررین کی تقاریر، قلم کاروں کی تحاریر اور مختلف مقابلہ جات کا انعقاد بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر ہم سب مل کرعدم برداشت اور شدت پسندی کے تدارک کے لیے صدقِ نیت کے ساتھ ٹھوس اقدامات کریں تو یقینا ہم ہر لمحہ خدا کی نصرتِ خاص کے حق دار ٹھہریں گے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ نجم کی آیت 39 میں فرما دیا ”اور انسان کے لیے فقط وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے“ اور بقولِ شاعر
؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *