طلاق کی خطرناک حد تک بڑھتی شرح

طلاق کے لغوی معنی
امام اللغت سیّد زبیدی طلاق کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، کہ عورت کی طلاق کے 2 معنی ہیں:-
1۔ نکاح کی گرہ کو کھول دینا۔
2۔ ترک کردینا، چھوڑ دینا۔(تاج العروس، ج6، ص425، مطبوعہ مطبعہ خیریہ مصر 1306ھ)

طلاق کے اصطلاحی معنی:-
علامہ ابن نجم طلاق کا فقہی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”الفاظ مخصوصہ کے ساتھ فی الفور یا ازروئے مال کی قید کو اُٹھا دینا طلاق ہے۔ الفاظ مخصوصہ سے مراد وہ الفاظ ہیں جو مادّہ طلاق پر صراحۃ یا کنایۃ مشتمل ہو اس میں خلع بھی شامل ہے۔“(الجرالرائق، ج3، ص235، مطبوعہ مکتبہ ماجد یہ کوئٹہ)

طلاق قرآن و حدیث کی روشنی میں:-
ایک مسلم خاندان کی ابتدا نکاح سے ہوتی ہے اس لیے اسلام میں نکاح ایک ایسا سماجی معاہدہ ہے جسے اسلام نے تقدس عطا کرکے عبادت کا درجہ دیا ہے اور اسلام یہ چاہتا ہے کہ یہ رشتہ تاحیات برقرار رہے کیونکہ نکاح ایک خوب صورت بندھن ہے جس کے ذریعے انسان بدکاری سے بچ جاتا ہے اور اپنی فطری اور انسانی ضروریات ازدواجی تعلقات کے ذریعے پوری کرتا ہے لیکن یہ بندھن جس قدر خوب صورت اور مضبوط ہے اسی قدر نازک بھی ہے ہلکی ہلکی ضربیں بھی اس کی مضبوط ڈور کو ناقابل تلافی نقصان دیتی ہیں۔ اس لیے شریعت میں حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے کیونکہ طلاق سے صرف دو افراد متاثر نہیں ہوتے بلکہ دو خاندان نفرت کی آگ میں جلنے لگتے ہیں۔ اسلام نے طلاق کا اختیار مرد کو ضرور دیا ہے لیکن اس صورت میں جب نباہ کی کوئی صورت نہ رہ جائے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
وَ عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِج فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْءًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا o
(سورۃ النساء۔ آیت 19)
ترجمہ”اور اپنی بیویوں کے ساتھ بھلائی اور حسنِ سلوک کے ساتھ رہو اور اگر تم کو وہ ناپسند ہو تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی پیدا کردے۔“

قرآنِ کریم کی تعلیم یہ ہے کہ اگر شوہر کو بیوی ناپسند ہو پھر بھی وہ اس سے نباہ کرنے کی کوشش کرے اور یہی حکم عورتوں کے لیے بھی ہے بلکہ جو عورتیں بغیر کسی شرعی عذر کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ان کے متعلق احادیث میں سخت و عیدکا ذکر ہے جیسا کہ ایک حدیث پاک میں آیا ہے:
”حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔“ (مشکوۃ المبابیح، ج2، ص383، بحوالہ ترمذی شریف)
طلاق چونکہ دو خاندانوں میں نفرت کا بیچ بوسکتی ہے جو معاشرہ میں خرابی کا باعث بن سکتا ہے اسی لیے اسلام نے حلال چیزوں میں طلاق کو سب سے ناپسندیدہ قرار دیا ہے جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ میں بیان ہوا ہے:
”حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ طلاق ہے۔“ (سنن ابو داؤد، ج 1، ص296، مطبوعہ مطبع مجتبائی لاہور، 1405)

جب میاں اور بیوی میں آپس میں جدائی ہوتی ہے تو شیطان سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے اور اسے ہی سب سے بڑی کامیابی سمجھتا ہے اسی بات کا ذکر صحیح مسلم کی حدیث میں ہے۔
”رسول اکرم ﷺ نے فرمایا بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے پھر وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے پس اس کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے وہی مقرب ہوتا ہے جو فتنہ ڈالنے میں ان سے بڑا ہو ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس اس طرح کیا۔تو شیطان کہتا ہے تونے کوئی (بڑا کام) سرانجام نہیں دیا۔پھر ان میں سے ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے (فلاں آدمی) کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اسی کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈلوا دی۔شیطان اسے اپنے قریب کرکے کہتا ہے ہاں تو ہے (جس نے بڑا کام کیا) اعمش نے کہا میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا وہ اسے اپنے سے چمٹا لیتا ہے۔(صحیح مسلم، ج3، حدیث نمبر 2605)

پاکستانی معاشرہ میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح:-
بدقسمتی سے مغربی تہذیب کے اثرات اور مادر پدر آزاد معاشرے کی اندھی تقلید کی وجہ سے ہمارے ہاں ماضی کے مقابلے میں طلاق کی شرح خطرناک حد تک پہنچ کر ایک سماجی مسئلہ بن چکی ہے جو ہمارے اسلامی معاشرہ میں موجود آئیڈیل خاندانی نظام کو جڑوں سے کھوکھلا کر رہی ہے جس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پچھلے 50 سالوں کے اندر پاکستان میں طلاق کی شرح خطرناک حد تک بڑھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1970 میں طلاق کی شرح پاکستان میں 13 فیصد تھی یعنی 100 میں سے 13 شادیوں میں طلاق کا تناسب تھا اور حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شرح 35 فیصد تک پہنچ چکی ہیں یعنی 100 میں سے 35 شادیوں میں طلاق ہورہی ہیں اور طلاق کا مطلب 2 لوگوں کی جدائی صرف نہیں ہوتا بلکہ طلاق کے بعد دو خاندانوں کے درمیان نفرت اور تعصب پیدا ہوجاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو لوگوں میں عدم برداشت نظر آتا ہے اس کی بہت بڑی اور اہم وجہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح ہے۔ اگر ہم نے اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہ کیے تو ہمارا معاشرہ کبھی امن و استحکام کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ پاکستان کے تین بڑے شہروں میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کے اعداد و شمار ملاحظہ فرمائیں:

1۔ کراچی میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح:-
ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں قائم فیملی کورٹس میں طلاق اور خلع کے یومیہ 45 کیس درج ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2005 سے جنوری 2008 کے دوران فیملی کورٹس میں طلاق اور خلع کے 64ہزار 800 کیس درج ہوئے تھے اور جنوری 2008 سے 2012 کے دوران طلاق و خلع کے 72 ہزار 900 کیس درج ہوئے تھے۔ طلاق کی سب سے زیادہ شرح کراچی کے ضلع شرقی میں رہی۔
2۔لاہور میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح:-
لاہور کے گارڈنین عدالتوں میں سال 2015 میں جنوری سے دسمبر تک 5,248 نئے مقدمات درج ہوئے۔ محتاط سروے کے مطابق 2015 میں 2014 کے مقابلے میں طلاق کی شرح میں 30 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
3۔فیصل آباد میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح:-
فیملی کورٹ فیصل آباد سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق عدالت میں جنوری 2010 سے دسمبر 2014 تک کے عرصے میں تنسیخ نکاح نان و نفقہ اور زن آسونی یعنی طلاق و خلع کے کم و بیش ساڑھے 46 ہزار کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں جب کہ روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 20 واقعات میں فیصل آباد کے شادی شدہ افراد قانونی علیحدگی کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔

پاکستان میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں:-
1۔دو شادی شدہ افراد میں علیحدگی کا سبب بننے والی بنیادی وجوہات میں گھریلو ناچاقی سرفہرست ہے۔قربانی دینے کے عزم میں کمی، مشترکہ خاندانی نظام سے بغاوت سماجی اسٹیٹس حرص و ہوس اور شوہر یا بیوی کا شکی مزاج ہونا بھی ہے۔
2۔طلاق کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عدم برداشت ہے جس کا من حیث القوم ہم شکار ہیں میاں بیوی جیسے نازک رشتے میں تو برداشت کا مظاہرہ نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اکثر شوہر غصّے میں اگر ہی طلاق دیتے ہیں اور پھر پوری زندگی پچھتاتے ہیں۔
3۔آج کل کے ڈراموں میں طلاق کو اہم ترین موضوع کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ گھر بسانے اور مضبوط رکھنے کے حوالے سے رہنمائی کے بجائے طلاق کے لیے ماحول سازگار بنانے کے لیے نئی تراکیب متعارف کروائی جارہی ہیں اس حوالے سے میڈیا کو اپنی روش بدلنی پڑے گی کیونکہ طلاق کی شرح کے بڑھنے کا ایک بہت بڑا سبب حیا باختہ ڈرامہ سیریل اور فحاشی پھیلانے والی ویب سائیڈز ہیں۔
4۔پاکستان میں فیملی کورٹس کا ایکٹ اکتوبر 2015 میں منظور ہوا تھا جس کے سیکشن 10 کی دفعہ 6 کے تحت قانونی طور پر طلاق و خلع کا عمل آسان تر کردیا گیا تھا جو کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اضافہ کررہا ہے۔
5۔NGOs کی آزادی نسواں اور روشن خیالی مہم نے بھی اس شرح میں اضافہ کیا ہے۔

طلاق کی روک تھام کے لیے اقدامات:-
1۔قاضی اور منصفین کی ذمّہ داری ہے کہ ان کے پاس آنے والے میاں بیوی میں جھگڑوں میں صلح صفائی کروائیں تاکہ باہمی اتفاق قائم ہو اور طلاق کے خدشات زائل ہوجائیں۔
2۔شادی کے بندھن کو قائم رکھنے کے لیے سمجھدار لوگ میاں بیوی کے مابین صلح کروائیں اور طرفین کے حقوق کی ادائیگی یقینی بنائیں۔
3۔عورت اور مرد کی نفسیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ان کی پسند سوچ کا انداز ہر چیز مختلف ہے تو جب تک جنس مخالف کی نفسیات کا دونوں کو اندازہ نہیں ہوگا تو یہ ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پائیں گئے اور چھوٹی چھوٹی لڑائیاں بالآخر علیحدگی پر ختم ہوں گی اس لیے ایسی کتب کا مطالعہ میاں بیوی دونوں کو کرنا چاہیے جو مرد اور عورت کی نفسیات یا شادی شدہ زدگی کو بہتر بنانے کے لیے لکھی گئی ہیں۔
4۔اولاد کی اچھی تربیت بہت ضروری ہے کیونکہ یہی اولاد بڑی ہوکر ایک اچھا شوہر یا ایک اچھی بیوی بنے گی ہم آنے والی نسلوں پر کام کریں گے تو معاشرہ امن کا گہوارہ بنے گا۔

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر جامعہ کراچی شعبہ علوم اسلامیہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”طلاق کی خطرناک حد تک بڑھتی شرح

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *