باہم صلح و صفائی۔قسط2

اسلام باہم صلح کو، رشتوں کے تعلق کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔ اک مرتبہ محبوب پاک ﷺ نے فرمایا،”کیا میں آپ کو اک ایسی بات نہ بتاؤں جو کہ نفلی روزے،نفلی نماز اور صدقات سے بہتر ہو؟۔
صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ ضرور فرمایئے۔
آپ ﷺ نے فرمایا ” اختلاف کی صورت میں صلح کروانا”۔
(حسن حدیث، سنن ابو داوود 4272، سنن ترمذی 2433)

اور ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے جب کوئی اختلاف دیکھ لیتے ہیں تو آنکھ چار کرکے پاس سے گزر جاتے ہیں ساتھ پاس والے کو یہ کہہ کر کہ چلو دوسروں کے معاملات میں خوامخواہ ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ منفی رویہ اپنی انتہا کو چھو رہا ہے کہ اب تو پاس سے گزرتے نہیں بلکہ موبائل نکال کر سیلفی کھنچواتے ہیں یا پھر ویڈیو بناتے ہیں اور اپنے سوشل میڈیا پروفائل پہ چڑھا دیتے ہیں۔ ا س طرح کی سفاکیت میں پھر رحمت الہی کا نزول کہاں سے اورکیسے ہو۔ تب بھی تو آج دیکھیں ہماریہاں دعائیں کتنی مانگی اور دی جاتی ہیں مگر آج تک کوئی بھی قبول نہ ہوئی اور نہ کوئی اثر پڑا۔کسی بھی دعا کا نہ ہماری انفرادی زندگی پہ اور نہ اجتماعی معاشرتی زندگی میں۔ ہم تو اگر دیکھیں تو آدھی سے زیادہ زندگی قرآن و احادیث کے منافی احکام پہ گزار رہے ہیں۔ کہیں پہ خود اپنی فرسودہ روایات ہیں، کہیں دوسرے آبائی تہذیب میں ملے جلے دوسرے تہذیبوں کے وراثتی جرثومے دامن گیر ہوئے ہیں تو کہیں جدت پسندی کی آڑ میں اپنی عقل کی پیداواری تاویلاتی فصل اگائی ہوئی ہے۔ جبکہ سورہ حجرات آیت نمبر 9 میں ارشاد ربانی ہے۔
”اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے دوسرا گروہ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ چنانچہ اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور ہر معاملے میں انصاف سے کام لیا کرو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔”

tripako tours pakistan

اس آیت کریمہ کے تناظر میں اپنے گریبان چاک کر کے دیکھ لیں کہ ہم اس آیت کے مطابق کہاں کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود بھی ہم یہ امید لگا بیٹھے ہیں کہ اللہ ہم سے محبت فرمائے گا باوجود اس کے کہ ہم اس کے احکامات اور اس کے حبیب کی سنن کے ساتھ جو سلوک کرتے پھریں۔ آج ہم کامیابی اور ترقی، اچھی زندگی گزارنے کے لیے غیر مسلموں، منکرین خدا اور اس کے رسول کی لکھی ہوئی کتابوں کے مطالعہ کو اپنا شوق رکھتے ہیں اور اس سے استفادہ کرنے کے ذریعہ صرف اپنے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ دوسروں کو بھی تلقین و تاکید کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ منہ پر صرف لفظوں کی حد تک یہ رٹ لگائی رکھی ہوتی ہے کہ قرآن دراصل کامیابی کی کتاب ہے۔ مگر سمجھ پورے قرآن میں بمشکل سے اک سورہ فاتحہ کی ہی آتی ہوتی ہے بس۔ کیا شرم کا مقام نہیں ہمارے لیے کہ اپنے معمولات زندگی کو اک غیر مسلم کے کہنے پہ تو ٹھیک کرنے بیٹھ جاتے ہیں مگر اللہ کی کتاب اور فرمان رسول ﷺ پہ کان تک نہیں دھرتے۔ایسے رویہ پہ اللہ ہم سے محبت فرما ئے گا کیا؟۔ کیا ہماری انتہائی ناسمجھی اور بے عقلی اس بات میں نہیں کہ ہم درس تو خود اسلام کا دے رہے ہوتے ہیں مگر خود اس معاملے میں عملی زندگی میں کورے کاغذ کی مانند ہوتے ہیں؟

جبکہ قرآن اس بارے میں بھی درس دیتا ہے۔
” لم تقولون مالا تفعلون” (تم ایسا کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے۔ مفہوم)
کیا ہم نے اسلام کو نہایت ہی محدود اور زمان و مکان کی حدود میں قید رکھنے جیسی نامراد کوشش نہیں کرتے آرہے؟ کیا آج ہم قرآن کو اور احادیث مبارکہ کے ان نکات کو زیر غور اور زیر بحث لاتے ہیں جو ہمارے حق میں بیٹھتے ہوں یا اتفاق سے ہم اس پہ پورے اتر رہے ہوتے ہوں اور جہاں پہ ہمارے مزاج و عادت اور خواہش کے برعکس بات آجاتی ہے تو وہاں دامن سمیٹنے کی احمقانہ سعی کرتے ہیں اور یا پھر اپنا موقف کسی طرح سے ٹھیک ثابت کرانے کے جتن کرتے ہیں؟۔کیا اس کے باوجود ہم صرف سوچیں کہ اللہ غفورو رحیم ہے اور وہ معاف بھی فرمائے گا اور محبت بھی۔۔ اس میں شک کا تصور تو وجود ہی نہیں رکھ سکتا کیونکہ پھر ایمان وہاں رہ نہیں پاتا۔ مگر اللہ کا یہ قانون نہیں اگر وہ انصاف کرنے والوں کومحبوب رکھتا ہے تو پھر وہ خود ناانصافی کیسے کرے گا؟۔

حضوراکرم ﷺ کے وہ کون سے دو امتی ہیں جن کے درمیان روز محشر اللہ تعالیٰ خود صلح کروائیں گے؟
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ ﷺکون سی چیز مسکراہٹ کا سبب ہوئی”؟
آپؐ نے فرمایا”میرے دو اْمتی اللہ تعالی کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہو گئے ہیں ایک کہتا ہے کہ یا اللہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے میں بدلہ چاہتا ہوں،اللہ پاک اس ظالم سے فرماتا ہے کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو۔
ظالم جواب دیتا ہے یا رب!اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اسے دے دوں۔تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے“۔یہ کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے۔ وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا، لوگ اس بات کے حاجت مند ہوں گے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں۔اب اللہ پاک طالب انتقام(مظلوم) سے فرمائے گا۔نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ وہ سر اٹھائے گا, جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا: یا رب! اس میں تو چاندی اور سونے کے محل ہیں اور موتیوں کے بنے ہوئے ہیں. یا رب! کیا یہ کسی نبی،کسی صدیق اور شہید کے ہیں؟اللہ تعالی فرمائے گا!جو اس کی قیمت ادا کرتا ہے اس کو دے دیے جاتے ہیں۔
وہ کہے گا! یا رب! بھلا اس کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟اللہ تعالی فرمائے گا: تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے۔اب وہ عرض کرے گا:یا رب کس طرح؟اللہ جل شانہ ارشاد فرمائے گا اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کر دے۔ وہ کہے گا یا رب! میں نے معاف کیا۔اللہ پاک فرمائے گا، اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہو جاو?۔اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا! اللہ تعالی سے ڈرو،آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ پاک بھی مومنین کے درمیان میں صلح کرانے والا ہے۔(صحیح بخاری)
اللہ ہم سب کو رہنمائی و ہدایت عطا فرمائے۔آمین!

Avatar
سلمان اسلم
طالب علم سایئکالوجی ان سکول ایجوکیشن اینڈ ہیومن بی ہیویئر ، اردو ادب

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *