اور بانو قدسیہ بھی رخصت ہوئیں

اور بانو قدسیہ بھی رخصت ہوئیں
ثمینہ رشید
اردو ادب کا کونسا طالب علم ہے جو بانو قدسیہ کا پرستار نہیں۔ ان کے ہم سے رخصت ہونے کی خبر سے دل بہت بوجھل ہے۔ ان کے چاہنے والوں کے لئے یہ وقت بہت کڑا ہے۔ لیکن دور کہیں اشفاق صاحب کی روح آج اپنی ہمزاد سے ملنے پہ شاید بہت خوش ہو۔ زندگی بھر کے سفر میں ساتھ نبھانے والی دو خوبصورت روحوں کا ہجر آج ختم ہوا۔
ان کی تحریریں بلاشبہ اردو ادب کا سرمایہ ہیں آپ بانو آپا کی تحریریں پڑھتے پڑھتے کب اُن کے اسیر ہوجاتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا- بانو آپا کی تحریروں سے میرا تعارف کالج کے زمانے میں ہوا۔ اور پھر ان سے عقیدت و محبت میں ہمیشہ ان کی نئی تحریر پڑھ کر اضافہ ہی ہوا۔
بانو آپا اور اشفاق صاحب کی رفاقت نے دونوں کی تخلیق کاری میں ایک نکھار پیدا کیا۔ آپ دونوں نے اردو ادب کی دنیا میں وہ مقام پایا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ ممتاز مفتی آپ دونوں کے اچھے دوستوں میں سے تھے۔ اپنی ایک تحریر میں بانو قدسیہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔ـ
آپ بانو کو جانتے ہیں چونکہ وہ مصنفہ ہے – قدسیہ کو نہیں جانتے جو فرد ہے- میں قدسیہ کو جانتا ہوں بانو کو نہیں جانتا- بانوقدسیہ ایک نہیں دوافراد ہیں جس طرح کسی کسی بادام میں دومغز موجود ہوتے ہیں- اسی طرح بانوقدسیہ کی شخصیت کے دو پہلو ہیں الگ الگ — بانوذہن ہے قدسی دل ہے، اشفاق ذہن ہے-
بانوکی فکرمنزل ہے ، قدسی کے لیے پتی بھگتی ہے ، اشفاق کے لیے ذات منزل ہے
قدسی کی شخصیت کا جزواعظم پتی بھگتی ہے- اگرآپ پتی بھگتی کا مفہوم سمجھنا چاہتے ہیں تومیرا مخلصانہ مشورہ ہے چند روز اشفاق احمد کے گھرمیں قیام کیجیے-
اگراشفاق احمد قدسی کی موجودگی میں برسبیل تذکرہ آپ سے کہے کہ اس گھر میں تو سامان کے انبارلگے ہوئے ہیں میرا تو دم رُکنے لگا ہے تو اگلے دن گھر میں چٹائیاں بچھی ہوں گی اور پیڑھیاں دھری ہوں گی- اگرکسی روز لاؤڈ تھنکنگ کرتے ہوئے اشفاق کہے بھئی چینی کھانوں کی کیابات ہے تو چند دنوں میں کھانے کی میز پرچینی کھانے یوں ہوں گے جیسے ہانگ کانگ کےکسی ریستوران کا میز ہو-
ایک دن اشفاق کھانا کھاتے ہوئے کہے کہ کھانے کا مزہ تو تب آتا تھا جب اماں مٹی کی ہانڈی میں پکاتی تھیں- اگلے روز قدسی کے باورچی خانے میں مٹی کی ہاںڈیا چولہے پردھری ہوگی-
پہلی مرتبہ میں نے بانو کو سنا جب قدسی کے بڑے بیٹے نوکی نے کہا امی ایڈیٹر صاحب آپ سےملنے آئے ہیں قدسی ڈرائینگ چلی گئی-
پھرڈرائنگ روم میں کوئی باتیں کررہی تھی – افسانوں کی باتیں- کرداروں کی باتیں- مرکزی خیال اندازِ بیان کی خصوصیات کی باتیں- ان باتوں میں فلسفہ ، نفسیات اورجمالیات تھی-
میں حیرت سے سن رہا تھا-اللہ اندر توقدسی گئی تھی لیکن یہ باتیں کون کررہی ہے- قدسی نے تو کبھی ایسی باتیں نہیں کیں وہ تو خالی جی ہاں ، جی ہاں ہے اگرمگر، چونکہ ، چنانچہ کون ہے
تب مجھے پتہ چلا بانوکون ہے-
(ممتازمفتی کی بانوقدسیہ کے بارے تحریر سے ایک اقتباس )

راجہ گدھ پڑھیے آپ بانو آپا کی بیان کردہ تھیوری سے اختلاف رکھ سکتے ہیں۔ آپ حلال وحرام کے اس نتیجے سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ آپ ایک بار کتاب اُٹھائیں تو ختم کئے بنا آپ کے پاس کوئ چارہ نہ ہو۔ آپ تحریر لکھنے والے کے اثر میں ایسے گرفتار ہوں کے کتاب آپ کے شیلف کی ہمیشہ کے لئے زینت بن جائے اور آپ اسے دوبارہ پڑھنے کی چاہ کریں۔ اس سے بڑھ کر ایک لکھاری کو کیا چاہئے کہ وہ روح کو
چھولے اور دل میں گھر بنالے۔
راجہ گدھ ان کا ایک شاہکار ناول ہے۔ ایک جگہ محبت کے بارے میں اپنا فلسفہ بیان کرتی ہیں:۔
محبت چھلاوہ ھے۔ ۔ ۔ اس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ھے کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ھیں اتصال جسم کے خواہاں ھیں ۔ کچھ آپ کی روح کے لیئے تڑپتے ھیں کسی کسی کے جذبات پر آپ خود حاوی ھو جانا چاھتے ھیں ۔ کچھ کو سمجھ سوچ ادراک کی سمتوں پر چھا جانے کا شوق ھوتا ھے ۔ ۔ ۔ محبت چھلاوہ ھے لاکھ روپ بدلتی ھے ۔ ۔ ۔ اسی لیئے لاکھ چاھو ایک آدمی آپ کی تمام ضرورتیں پوری کر دے یہ ممکن نہیں ۔ ۔ ۔ اور بالفرض کوئی آپ کی ھر سمت ھر جہت کے خلا کو پورا بھی کر دے تو اس بات کی کیا گارنٹی ھے کہ آپ اس کی ھر ضرورت کو ھر جگہ ھر موسم اور ھر عہد میں پورا کرسکیں گے ۔ ۔ ۔ انسان جامد نہیں ھے بڑھنے والا ھے اوپر دائیں بائیں ۔ ۔ ۔ اس کی ضروریات کو تم پابند نہیں کر سکتے ۔۔۔
(راجہ گدھ)

مجھے بانو آپا کے بارے میں کوئ روایتی جملہ نہیں لکھنا کہ وہ کب اور کہاں پیدا ہوئیں مجھے صرف ان کی یادیں تازہ کرنی ہے اپنا دکھ ہلکا کرنا ہے۔ ایک نیک روح کے اس دنیا سے جانے کا دکھ۔ دنیائے ادب میں ان کے جانے سے پیدا ہونے والے خلاء کا دکھ۔ اب کون ہے جو "آدھی بات" جیسا کلاسک ڈرامہ لکھ سکے۔
گو ان کی لکھی گئ ہر کتاب اثر انگیز اور دل تک رسائ رکھنے کے ہنر سے آشنا ہے ۔ان کے افسانے"کتنے سو سال" میں ایک جگہ لکھتی ہیں:۔

کرنیل کور کے ہونٹ بغیر ہلے کہہ رہے تھے
"یا رسول اللہ تیرے درپہ آئے ہوئے لوگوں کے لیے تیرے پیاروں نے دروازے کیوں بند کررکھے ہیں- مجھے اس بات کا رنج نہیں کہ سوڈھی سرداروں کی لڑکی تیلی سے بیاہی جارہی ہے
میں توپوچھتی ہوں کتنے سوبرسوں میں ایک نومسلم مسلمان ہوجاتا ہے – کلمہ پڑھنے کے بعد
مسلمان کہلانے کے لیے کتنے برسوں کی کھٹالی میں رہنا پڑتاہے"
کتنے سال —- کتنے سوسال ؟

اردو ادب میں ان کی تحریریں ایک انمول خزانے کی مانند ہیں۔ آتش زیر پا، آدھی بات، امر بیل، بازگشت، دوسرا قدم، چھوٹا شہر بڑے لوگ، حاصل گھاٹ یا فٹ ہاتھ کی گھاس، کس کس کا تزکرہ کیا جائے کس کا نہیں فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے ۔

حاصل گھاٹ میں ایک جگہ لکھتی ہیں:۔

Kipling
کا مقولہ میرے ارد گرد گھومتا رہتا ہے
"مغرب مغرب ہے اورمشرق مشرق یہ دونوں کبھی نہیں مل سکتے"
سوچتا ہوں مل بھی کیسے سکتے ہیں ؟ مشرق میں جب سورج نکلتا ہے مغرب میں عین اس وقت آغازِ شب کا منظرہوتا ہے
سورج انسان کے دن رات متعین کرنے والا ہے- پھر جب ایک کی رات ہو اوردوسری جگہ سورج کی کرنیں پھیلی ہو ں
ایک قوم سوتی ہو ایک بیدار ہو تو فاصلے کم ہونے میں نہیں آتے-
( حاصل گھاٹ)

بانو آپا کیا تھیں ایک لکھاری، ایک دانشور، ایک فلسفی یا ایک صوفی فیصلہ مشکل ہے ان کی ہر تحریر فلسفہ دانش اور روحانیت کی خوشبو سے مالا مال تھی جو آپ کے گرد ڈیرہ ڈال لیتی ہے اور آپ خوشبو کے اس سفر میں اپنے خالق حقیقی سے قریب تر ہوتا محسوس کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں اور ناول کی روحانیت بڑی آہستگی سے لیکن اندر تک اتر جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔" آخر میں ہی کیوں" کا یہ اقتباس پڑھئیے اور محسوس کیجئیے گا اس کو لکھنے والی کی دل و نظر روحانی بالیدگی کی کس منزل کو چُھو کر ایسے شاہکار جنم دیتی ہے:۔

قاسم فردوس نے دیوار پر آویزاں دارالشکوہ کے قطعے پر نظریں جمائے کھڑاتھا – نہ جانے وہ سوچوں کی کن منزلوں میں تھا
یک ذرہ ندیدیم ازخورشید جدا
ہرقطرہ آب ہست عین دریا
حق رابچہ کس بتواندن؟
ہرنام کہ ہست است ازاسمائےخدا
کچھ سال پہلے وہ لندن کی انڈیا لائبریری میں دارالشکوہ کی جمع کردہ تصویروں کے البم سے متعارف ہواتھا- تب اس کے دل میں دارالشکوہ کے لیے
عجیب جذبات نے جنم لیاتھا- ہمیشہ سے مغل بادشاہوں کے متعلق دورُخے رویے کا شکاررہا تھا
جب کبھی ان کے متعلق سوچتا اس کے دل میں محبت ونفرت کا دوہراچکرچلنے لگتا
دارالشکوہ کی شخصیت پر اگرصوفی کا اطلاق ہوتا تھا تو ساتھ ہی بادشاہت کے نبردآزما ہونے کا چارج بھی تھا
بھلا کسی صوفی کا بادشاہت سے کیا سروکار؟ کوئی صوفی ملکیت کا دعویٰ دار کب ہواتھا-
کیا آبائی وطن سے دوری نے مغل شہزادوں کوایسا منقسم کیا کہ وہ کبھی بھی یکجائی اختیار نہ کرسکے؟
بکھرے ہوئے شہزادوں میں دارالشکوہ سب سے زیادہ ذات کے خنجرسے خودکشی کرنے والاتھا
اسے اورنگزیب سے کم اپنے وجود سے زیادہ تکلیف پہنچی تھی- وہ ایک ذات میں کئی روپ اکٹھے کرکے سب کی الگ الگ پرورش کرتا رہا-
قاسم فردوس نے پرگنہ باڑی کے اس صوفی کے متعلق سوچا جس سے دارالشکوہ کو والہانہ عقیدت تھی اوراسے اپنا نام یہ کہہ کر نہ بتاتا تھاکہ
ہرنام خدا کے ناموں میں سے ہے توپھراپنے نام سے کیا شناخت پیدا ہوگی؟
جب پانی کا قطرہ سمندرہے تو پھر اس کا نام کیا معنی رکھتا ہے؟
قاسم فردوس نے سوچا " اصل درالشکوہ کون تھا؟"
(آخرمیں ہی کیوں؟ )
دوستو بانو آپا پہ لکھنے کے لئے بیٹھو تو صحفے کے صحفے سیاہ کئے جاسکتے ہیں ۔ ہجرتوں کے درمیاں، ابریشم، ناقابل زکر، شہرِ بے مثال ، سامان وجود، تماثیل ، توجہ کی طالب ، ایک دن، کچھ اور نہیں، اور موم کی گلیاں لکھنے والی بانو قدسیہ آج ہم سے رخصت ہو رہی ہیں۔ ان کو خراج دینے کے لئے الفاظ پھیکے نظر آتے ہیں اور شاید کم بھی۔ لکھنے کے لئے تو بہت کچھ ہے لیکن آج بس اتنا ہی۔

دوستو آئیں آج بانو آپا کو اسی شان سے رخصت کریں جس کی وہ حقدار ہیں ۔

Avatar
ثمینہ رشید
ہم کہاں کہ یکتا تھے، کس ہنر میں دانا تھے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *