اقبال اور ہم احساس کمتری کے مارے لوگ۔۔۔محمود چوہدری

اٹلی میں ہمارے شہر کی ٹریڈیونین اطالوی زبان میں ایک شمارہ نکالتی تھی ۔ جس میں نئے قوانین اور انسانی حقوق پرآرٹیکلز لکھے جاتے تھے ۔میرے دفتر کے باس نے میری ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی کہ ہر ماہ امیگرنٹس کے حقو ق کے حوالے سے بھی کوئی آرٹیکل بھیجا کروں۔ شمارے کا ایڈیٹر”میمو مارتورانا“ ایک شاعر تھااور اس کی ایک کتاب بھی چھپ چکی تھی ۔ایک دفعہ ہمیں کہنے لگے کہ قوانین پڑھ پڑھ کر لوگ بور ہونا شرو ع ہوگئے ہیں اس لئے میرا ارادہ ہے کہ ایک شمارہ ادب پر نکالتے ہیں ۔میرے باس ماﺅرو کا فون آیا کہ اس دفعہ قوانین پر نہیں بلکہ ادب پر کچھ بھیجو۔ لیکن موضوع امیگرنٹس کی صورت حال پر ہی ہو ۔ میں نے کہا کہ پاکستان کے قومی شاعر ہیں محمد اقبال ۔ میں ان کی ایک نظم اطالوی زبان میں ترجمہ کر کے بھیج دیتا ہوں ۔ جو پردیس کے دکھ کو آشکار کرے گی ۔ وہ ہنس کر کہنے لگا انڈین پاکستانی فلموں میں سوائے شادی بیاہ کے اور کوئی موضوع نہیں ہوتا اورمیرا خیال ہے کہ تمہارے شعرا ءکے پاس بھی عورت کے عشق کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔کہنے لگا ہمیں اپنے شمارے کے لئے رومانوی شاعری نہیں چاہیے ۔ میں نے کہا۔ سنوکامریڈ ۔روس سے باہر نکلو او ر کبھی اقبال پڑھ کر دیکھو یا فیض تمہیں پتہ چلے کہ تمہارے مارکس اور لینن کی  دنیا سے باہر بھی علم والوں  کی ایک دنیا ہے

اگلے دن میں دفتر گیا تو اس کے دفتر میں اس کی سیکرٹری اور ایڈیٹر تینوں بیٹھے نئے شمارے کے بارے گفتگو کر رہے تھے ۔ میں نے اپنی جیب سے کاغذ نکالا اور انہیں اقبال کی نظم” پرندے کی فریاد “پڑھ کر سنا نا شروع کر دی ۔ جس کااطالوی ترجمہ میں نے خود ہی کیا ہوا تھا ۔ جب میں اس شعر کے ترجمے پر پہنچا
”جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہوگیا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے “
گرمیوں کے دن تھے اوراس نے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔وہ اٹھا اور میر ے پاس آیا اور اپنا بازو دکھانے لگا۔ اس کے بازو کے بال کھڑے ہوگئے تھے ۔کہنا لگا میرے جسم کا رواں رواں ریزہ ریزہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ جتنا درد اس کلام میں ہے وہ میں نے اپنی زندگی میں آج تک کسی یورپی شاعر کے کلام میں نہیں پڑھا اس کی سیکرٹری کی آنکھیں نم ہوچکی تھیں ۔ ایڈیٹر کہنے لگاسوچو اگر ترجمہ ایسا ہے تو اصلی کلام میں کتنا درد ہوگا۔ سلام ہے تمہارے اس اقبال کو۔۔۔

ہم کتنے بدقسمت ہیں ہمیں اپنے ہیروز کی نہ تو خود پہچان ہے اور نہ ہی ہم ان کے کام کو دنیا میں متعارف کر اسکے ۔ سوشل میڈیا پر ہر بونا اور ہر کوڈا دانشور بن چکا ہے ۔خود ی سیکھنے کی بجائے  مایوسی کے ایسے گہرے سائے ہم پر چھائے ہیں کہ ہم اپنے ہیروز کو احترام دینے کے بجائے ان کا مذاق اڑانے میں ذرا تامل نہیں کرتے ۔

گزشتہ مہینے سے اقبال کے کلام کو تختہ مشق بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اقبال تخیلات کاپی کرتا رہا ہے ۔ ہم وہ بونے ہیں جو اپنا قد تو بڑا نہیں کرسکتے لیکن جن کا قد بڑا ہے انہیں کسی طریقے چھوٹا ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ہم احساس کمتری کے مارے لوگ اقبال کا مقام کیسے سمجھ سکتے ہیں ۔ اقبال کو جاننا ہے توجرمن دانشور انا میری شمل کو سنو ، اطالوی مصنف ڈاکٹر ویتو سالیرنو کو پڑھو ۔  اقبال پر تنقید کرنے سے پہلے اقبال جتنا علم تو حاصل کر لو۔

ڈاکٹر ویتو سالیرنو اقبال فاﺅنڈیشن یورپ کے صدر تھے ۔ بہت بڑے محقق ، مصنف ادیب اورپیشہ کے اعتبار سے ڈپلومیٹ رہ چکے تھے ۔ وہ اقبالیات پر ایک سند تھے ۔انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ جتناکلام ِِِ اقبال انہوں نے کسی یورپی زبان میں ترجمہ کیا ہے کسی نے بھی نہیں کیا۔ مجھے یہ اعزاز ہے کہ مجھے وہ اپنا دوست کہتے تھے۔

ایک دن میں نے بھی  انہیں یہی سوال کیا  کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اقبال کے کلام کا بہت سارا حصہ یورپی مفکرین سے نقل کیا گیا ہے  ان کی بہت سی نظمیں یورپی شعرا ءکے کلام سے ماخوذ اور منظوم ترجمہ تک محسوس ہوتی ہیں ۔ ڈاکٹر ویتو سالیرنو کو علامہ اقبال سے عشق تھا مجھے ابھی تک کوئی پاکستانی دانشور ایسا نہیں ملا جس کے سامنے اقبال کا تذکرہ کیا جائے تو اس کے  چہرے پرمحبت کا وہ جذباتی ہیجان نمودار ہو جائے  جو ڈاکٹر ویتو سالیرنو کے چہرے پر آجاتا تھا ۔ اس  کی وجہ شاید یہ ہے کہ  گورے اپنے رنگ کی وجہ سے اپنے جذبات چھپا نہیں سکتے ۔ کیونکہ ان کا رنگ بدلتا چہرہ ان کی کیفیت کی چغلی کھا جاتا ہے ۔

ڈاکٹر ویتو سالیرنو نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ یہ کیا بات ہوئی کی آئیڈیا فلاں سے چوری کیا ہے ۔ ؟علم ہوتا ہی وہی ہے کہ جو ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف ایک ذہن سے دوسرے ذہن کی طرف او ر ایک قوم سے دوسری قوم کی طرف سفر کرے ۔اگر آئیڈیا ز سفر نہیں کریں گے تو سوچ کو جلا کیسے ملے گی ۔ علم جمود نہیں ہے ۔ علم نور ہے ۔چراغ سے چراغ جلنے کا نام علم ہے ۔اس کو ٹریڈ مارک کے خانے میں نہ ڈالو ۔ کہنے لگے اس طرح تو میں نے بھی فرانس میں مقیم ڈاکٹر حمید اللہ کا ایک آرٹیکل پڑھا اور اسلام سے متعارف ہوا اور پھر تحقیق میں مستغرق ہوگیا ۔ دی مسلمز ان اٹلی کے موضوع پرتحقیقی کتاب لکھ دی ۔یورپ میں اسلام کے حوالے سے ایک سو پچاس مضمون لکھ چکا ہوں ۔ پاکستان میں اطالوی ایمبیسی میں جاب کرنے پہنچا تو اقبال کو پڑھا اور پھر اسی کا ہوگیا ۔ اس کا سارا کلام ترجمہ کرچکا ہوں ۔ تخیلات علم والے ہی ڈھونڈتے ہیں اور آگے  بھی وہی پھیلاتے ہیں۔
میں نے پوچھا ڈاکٹر صاحب اقبال کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتائیں جو ہم پاکستانی نہیں جانتے ۔ کہنے لگے اقبال مشرق و مغرب کے درمیان ایک پل ہے ۔ افسوس اقبال کو مغرب والوں نے ایک مسلم قوم کا نمائندہ مفکر سمجھ کر جاننے کی کوشش نہیں کی اور پاکستانیوں نے بھی  اسے ایک صوفی کے درجے پر بٹھا کر اس کی   پوجا تو شروع کر دی لیکن اس کے کلام سے نہ خود کچھ سیکھنے کی کوشش کی اور نہ ہی دنیا کو اس کا تعارف کرا سکے ۔کہنے لگے  اگر تم یورپ میں بیٹھ کر گوگل پر لفظ اقبال لکھوتو تمہیں دس سال کے بچے اقبال مسیح کے بارے معلومات کا خزانہ تو نظر آجائے گا لیکن علامہ محمد اقبال کے بارے کچھ نظر نہیں آئے گا ۔۔

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *