خوشی ہم اور اسلام۔۔۔ سلمان اسلم

خوشی کا لفظ جیسے ہی سماعت سے ٹکراتا ہے تو انسانی ذہن میں بہت سارے عجیب و غریب خیالات امڈ آتے ہیں ۔ خوشی کے لفظ سے بہت سارے مادی خیالات و تصورات جڑے ہوئے ہیں۔ جب ہمارے سامنے یہ لفظ آتا ہے تو اسکا اک ہی مطلب ہم نےاپنے ذہن میں پہلے سے جو بٹھایا ہوا ہے کہ ہر مادی آسائش فراہم کرنے والی چیز کا نام خوشی ہے ۔۔ جیسے کہ گاڑی ، بنگلہ ، جائیداد ، مال دولت وغیرہ۔ ہمارے ذہنی توہم کے مطابق جس کے پاس مادی آسائش فراہم کرنے والی درجہ بالا  اشیا موجود ہوں تو وہ خوشحال ہوتا ہے اور وہ خوشی اور سکون کی زندگی گزارتاہے جبکہ جس کسی کے پاس   یہ مادی چیزیں نہ ہوں تو بدحالی ، تنگدستی وغیرہ ان کے ہاں ڈیرے ڈال دیتی ہے۔ اور اسی آشفتہ سری میں ہم مارے مارے   خوشی کے حصول میں پھر رہے ہیں۔ اور جتنا ہم پیچھے بھاگتے جارہے  ہیں ۔ یی قدرتی امر ہے  کہ  مال و متاع کے پیچھے جو کوئی بھی بھاگے گا وہ اس سے اتنا ہی دور رہے گا۔ یہ کسی کا نہیں ہوتااور نہ ہی کوئی اسکو اپنا سکتا ہے ۔ یہ جسکے ہاتھ بھی لگا ہے اور بالخصوص غلط طریقے سے تو اسکی عادات بگاڑ کے رکھ دیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ سے اپنے پاوں نکال لیتی ہےاور اپنے پیچھے بہت سارے پچھتاوے اور تاسف کی سسکیاں چھوڑ دیتی ہے۔ متقین کے ہاتھوں اسکو سکونت ملتی نہیں اور دنیاداروں کے ہاں یہ اپنی  تمکنت چھوڑتی نہیں ، بس چڑیوں کی مانند شجر بدلتی ہے یا ٹہنیاں مگر نشیمن اسی فطرت و طرز کا ہی ہوتا ہے۔ اور آج ہم اور ہمارا پورا معاشرہ اسکے حصول میں  جو ذلیل ہو رہے ہیں ۔ اسکی وجہ ہی یہی ہے کہ جس نے پالیا ہے وہ بھی ذلیل ہوا اور جو ناکام رہا وہ بھی ذلیل و روسوا ہو رہا ہے۔ کیونکہ ہم نے مال کو سمجھا ، نہ اسکے طریق حصول کو اور نہ طریقہ تصرف کو۔ ایسے معلوم پڑتا ہے کہ آج ہم نے چیزوں کو اسکے اصل مفاہیم میں سمجھنا ترک ہی کر دیا ہو اور یا پھر سمجھ کر بھی انجان بن رہے ہوں۔ اسی  دولت مال یا زر یعنی مادی اشیا جس کو ہم خوشی کے حصول کا واحد اور قوی ذریعہ سمجھتے ہیں کے بارے میں قرآن و احادیث میں بہت  جگہ  وعید و تاکید کی گئی ہیں۔

فرمانِ نبوی ہے ” ہر امت کا اک فتنہ ہوتا ہے اور مرے امت کا فتنہ ” مال” ہے۔ ( ترمذی)

آج ہماری ذلالت کی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم نے چیزوں کو غلط طریقے سے معانی   کو ذہن میں بٹھایا ہوا ہے۔ یہاں تک اللہ اور اسکے رسول پاک علیہ الصلوات والسلام کے مقرر کردہ حدود و قیود میں اپنی تاویلیں گھڑی ہوئی ہیں اور اسکو اپنے مطلب و غرض کے لیے بیان کرتے اور اپناتے ہیں۔ لیکن گر یہی اصول ، قیود و حدود ہمارے طبع کے مخالف ٹکراتے ہوں تو پھر اسکو پس پشت ڈال دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔ اور اسی   نتیجے میں ذلالت و گمراہی ہمارے ہر  حال  میں مقدر بن جاتی ہے اور بنی ہوئی بھی ہے۔ اور یہ سب کچھ ہم سے ہمارا اپنا نفس اور اسکی شیطانی خواہش ہی کروا رہی ہے۔ ہم نے آخرت کے دن کو بھلا دیا ہے اور مال کی محبت میں اندھے ہو کر اک دوسرے کا خون تک کرنے سے دریغ نہیں کرتے جوکہ اک ایسا گناہ ہے کہ جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن میں فرمایا
“اک نفس کا قتل گویا پوری  انسانیت کی قتل ہے۔ “

اسی لیے حضرت عمروبن عوف رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ محبوب پاک علیہ الصلوات والسلام نے فرمایا تھا ،” میں تمہارے لیے فقر و افلاس سے نہیں ڈرتا بلکہ اس بات کا خوف ہے کہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے گی (اورتم مالداروں کا طور طریقہ اختیار کرکے مختلف قسم کی آفتوں اور بلاوں کے ذریعہ سے ہلاکت و تباہی میں مبتلا ہو جاوگے) جس طرح ان لوگوں پر کی گئی تھی جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں (اور وہ مال و دولت کی بے حد رغبت و محبت رکھنے کی وجہ سے فقراء و مساکین پہ رحم نہیں کھاتے تھے اور ان کی مدد و اعانت سے گریز کرتے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو تباہ و برباد کر دیا گیا) چنانچہ تم بھی انہی کی طرف رغبت کروگے( یعنی دنیا کو اختیار کروگے اور اسکی طرف نہایت رغبت رکھو گے کہ اک دوسرے سے مال و دولت اور جاہ و حکومت حاصل کرنے کے لیے اک دوسرے سے جھگڑا شروع کردوگے)۔ جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اس طرف رغبت کی تھی اور پھر تم کو یہ دنیا اسی طرح برباد کردے گی جیسے کہ ان کو برباد کر چکی ہے۔”

آج دیکھ لیں کیا ہم اس حدیث مبارکہ کے مطابق بالکل اسی   ڈگر پہ نہیں کھڑے ہوئے؟ کیا ہمیں اب یہ دنیا پہلی  قوموں کی طرح برباد نہیں کر چکی اور کر بھی رہی ہے ؟ کیا آج ہم اپنے ہی سگوں سے دست و گریباں نہیں ہیں ؟ کیا ہم نے اخلاقی اقدار ، سماجی اقدار ، معاشرتی اسلوب اور سب سے بڑھ کر شرعی قوانین کو ترک نہیں کر دیا ؟ یقیناً  ایسا ہی ہے اور آج ہم مال کے اس فتنے میں پورے پورے غرق ہوئے پڑے ہیں۔ اسی لیے ذلالت و گمراہی نے سارے معاشرے میں جال بچھایا ہوا ہے۔ ہم نے کبھی جاننے کی زحمت ہی نہیں کی کہ قرآن کس چیز کو خوشی ، کامیابی اور کس کو ناکامی دکھ اور بربادی کہتا ہے۔
قرآن نےخوشی کے حصول کے لیے اک بہت ہی سادہ اور جامع فارمولا ہمیں بتا دیا ہے کہ “اچھائی کو اپنانے اور برائی کو ترک کرنے سے ہی حقیقی خوشی(دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت کی زندگی میں بھی ) نصیب ہوتی ہے۔ بس ایمان کا ہونا شرط ہے۔” اور آج نفسیاتی سائنس بھی اس بات کو مان چکی ہے۔ کہ مثبت کاموں سے انسانی ذہن بالیدگی اور نشو ونما حاصل کرتا ہے جو کہ ذہن پہ مثبت اثرات کے پیش نظر سکون اور اطمینان بخشتا ہے قطع نظر اس کے کہ مادی اجناس کس مقدار میں ہیں۔ اسی حوالے سے رب کائنات قرآن میں فرماتا ہے۔۔

“جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناًًً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی ضرور دینگے۔” (سورہ النحل :97)

دولت کی فروانی ، سامان تعیش کی بہم رسانی سے کبھی کوئی خوشی اور اطمینان قلب وسکون میسر نہیں آتا جب تک دل میں ایمان کا چراغ روشن نہ ہو اور شاہراہ حیات پہ اعمال صالحہ کا چراغاں نہ ہوں تب تک دلی سکون اور اطمینان اور حقیقی خوشی نصیب نہیں آتی۔لیکن آج ہم مال و دولت کی اندھی محبت سے اللہ کے احکامات ، محبوب پاک کے سنن مبارکہ کو بڑی آسانی سے پس پشت ڈال کر آگے بڑھتے ہیں ۔ کیونکہ اب ضمیر کے کانوں پہ  جوں  بھی نہیں رینگتی ، وہ صدائے پرزور احتجاج جو اوائل میں ضمیر کی عدالت میں برپا ہوتا تھا اب وہ بھی اپنی موت آپ آہستہ آہستہ مرچکا ہے۔

اور مال و زر کی محبت میں ہم دین اسلام، اخلاق ، سماجیات سب کچھ بھول بھلا کر اک سائیڈ پہ رکھ دیئے ہیں اور فقط مال و زر کے پیچھے بھاگے جا رہے ہیں۔ اللہ جل شانہ نے قرآن میں فرمایا ہے۔

“اور ہاں جو میری  یاد سے روگردانی کرے گا اسکی زندگی میں تنگی رہے گی ۔ اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ “
(سورہ طہ :124)
اب اپنے حالات کو اسی آیت کریمہ کو مدنظر رکھ جانچ لیں ، کیا ہم اپنی زندگی میں معاشی ، سماجی ، معاشرتی ، حتی کہ ہر پہلو سے تنگی میں بری طرح سے مبتلا نہیں ہوئے ہیں؟ اور پھر ہم ساتھ میں یہ کفرانہ کلمات ادا کرکے اور بھی اپنا معاملہ تباہ کر دیتے ہیں کہ ” بس اللہ کی نظر میں ہم ہی ہیں، پتہ نہیں اللہ کونسی گناہ میں پکڑے ہوا ہے ، یہ سارے تکالیف بس مجھ پہ ہی آتی ہیں ” وغیرہ وغیرہ۔ تب بھول جاتے ہیں کہ اگر کوئی بھی تنگی و ناچاری پیش آرہی ہے تو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن مجال ہے کہ ہمارے ہوش ٹھکانے آئیں ۔ اور اسی آیت سے آگے اللہ نے مزید بھی فرمایا ہے کہ ۔۔۔ “وہ کہے گا کہ الہی ! تو مجھے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دنیا میں دیکھتا تھا۔ (جواب ملے) اسی طرح ہونا چاہیئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تھا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے۔” (سورہ طہ : 125)۔
مختصر یہ کہ قرآن اس بات کا شاہد ہے کہ دائمی خوشی صرف آخرت میں کامیاب ہونے(جنت) کی خوشی ہے ۔ جسکو قرآن ( ذالک الفوز الکبیر : یہی سب سے بڑی کامیابی کے نام سے بتلاتا ہے 11:85) اور یہ خوشی زمینی زندگی میں بھی میسر آسکتی ہے مگر فقط ان کو جو اللہ کی تابعداری اور فرمانبرداری کو من و عن قبول کر لیتے ہیں۔ اور جو اسکے منافی چلا تو اسکے لیے اس زمینی  زندگی میں بھی دکھ اور غم اور آخروی زندگی میں بھی دائمی دکھ اور غم (جہنم) ۔
” جس نے اللہ کی اطاعت بجا لائی ، اللہ سے ڈرا اور اس کے قہر سے  خود کو بچا لیا۔ یہی لوگ کامیاب ہیں۔” (سورہ الروم :52)۔
اللہ ہم سب کو رہنمائی و ہدایت عطا فرمائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *