عمران خان: بس کردو اب۔۔۔رمشا تبسم

میں بذاتِ خود ایک بہت دیندار,ایماندار یا اسلامی قوانین کو ہر طرح سے اپنا کر زندگی گزارنے کا دعویٰ  نہیں کرتی۔ہم سب انسان ہیں اور کہیں نا کہیں ہم سب سے غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہو ہی جاتی ہیں۔جن کی اصلاح کی کوشش ہمیں ہمیشہ کرنی چاہیے ۔اسلام کو سمجھ کر اس کی روح کو جان کر  تب  ہی اس پر عمل کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی تلقین کی جا سکتی ہے۔ مگر جب ہم یہ بات جانتے ہوں کہ اسلام سے ہمارا تعلق صرف اتنا ہی ہے کہ پیدا ہوتے ہمارے کان میں  اذان دے دی گئی  ہو یا جب بولنا شروع کیا ہو تو ہمیں کلمہ سیکھا دیا گیا ہو , یا روایات کے مطابق قرآن پڑھا دیا گیا ہو اور یہ سارے عمل سے ہم صرف مجبوری میں گزرے ہوں نا کہ  سیکھنے اور عمل کرنے کی نیت سے تو ایسے میں ہمیں اسلام کی تعلیمات کا ذکر کرتے, اصحابہ کرامؓ کی مثالیں دیتے بہت سوچ سمجھ کر الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے۔

بحیثیتِ مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ  ہمیں توحید کا اقرار کرنے کے بعد نماز, روزہ, زکوۃ , حج کا اہتمام کرنا ہے اور نبی اکرمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرنی ہے اور صحابہ کرامؓ کی شانِ مبارکہ میں کسی قسم کی گستاخی نہیں کرنی.۔
ایک طرف ملحدین ,کافر, مرتد.یہودی اسلام کا آئے دن مذاق بناتے ہیں۔کسی نا کسی طرح اسلامی قوانین پر ہنستے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے ہی حکمران جو ایک اسلامی ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں وہ اپنی اعلی تعلیم کا بار بار دعویٰ  کرنے کے باوجود بھی جہالت دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔۔
پاکستان کا مطلب کیا “لا الہ اللہ ” کا نعرہ لگا کر اور ایک واضح تفریق کھانے پینے, اٹھنے بیٹھنے,عبادات, اور رسم و رواج کی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان قائم کر کے لاکھوں جانوں اور عزتوں کی قربانی دے کر حاصل کیے پاکستان کی حکمران جماعت کے فواد چوہدری جیسے نمائندے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ  پاکستان کو کوئی اسلام کے لئے حاصل نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان بنانے والے مذہبی لوگ تھے بلکہ وہ تو شراب, ناچ گانے کی محفلوں سے لطف اندوذ ہونے والے لوگ تھے۔ فواد چوہدری کی حیثیت ایک ادنیٰ  سے ملازم کی سی ہے لہذا ان پر زیادہ بات کرنا یا اہمیت دینا بھی وقت کا اور  لفظوں کا ضیاع ہی ہے۔

بات کرتے ہیں ہمارے ملک کے سب سے ہینڈسم ,خوبصورت ,نوجوان، نہ  ڈرنے والا ,نہ  جھکنے والا, نہ گھبرانے والا اور ڈٹ جانے والے   عمران خان صاحب کی جو انتہائی بد قسمتی سے ہمارے وزیراعظم لگا دئیے گئے ہیں۔۔۔جناب عمران خان صاحب ویسے تو آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہیں بقول ان کے, ورنہ ان کی کوئی حرکت انکی تعلیمی تربیت کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔یا شاید انکی بھی ڈگری صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہی ہے جس سے عمران خان نے نہ  تمیز سیکھی نہ  تہذیب اور نہ  ہی جو پیدا ہوتے کان میں اذان دی گئی  کبھی اسکا بھرم رکھ سکے۔۔
عمران خان صاحب کے کچھ فرمودات جو ہماری نوجوان نسل درگزر کردیتی ہے کیونکہ خان صاحب کی خوبصورتی کے لشکارے آنکھوں میں اتنے پڑے ہیں کہ اب سب دیکھنے سے بھی قاصر ہیں اور “شعاعوں کا چکر” ہے تو شعاعیں کانوں کو بھی برباد کر چکی ہیں۔اب نوجوان نسل صرف عمران خان کا چہرہ دیکھتی ہے تالیاں مارتی ہے۔اور جب کوئی ایسی ویسی بات سکرین پر نظر آجائے تو فوراً آنکھ بند کرلیتی  ہے کیونکہ لشکارہ تیز ہو جاتا ہے۔اور خیر کانوں کے فلٹرز تو اتنے خاص ہیں کہ  سوائے “چور چور” کے کوئی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔عمران خان کے لشکاروں نے نوجوان نسل کو معذور کر دیا ہے۔ ۔
عمران خان کے اقوال کچھ عرض کرنے ضروری ہیں ۔۔
1۔۔عمران خان نے قہقہہ لگا کر کہا کہ  مجھےدوزخ میں بھی گرمی نہیں لگےگی کیونکہ میں برداشت کر لوں گا۔۔
2۔۔پھرکہا کہ  اللہ نےمجھےغلطی سے انسان بنادیا۔۔
3۔۔پھرکہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کوئی  نہ  مانے تووہ مسلمان ہونے سےخارج نہیں ہوسکتا۔۔
4۔۔اور اب بجٹ کے بعد خطاب میں پھر کہہ دیاکہ بدر میں 313 صحابہ کے علاوہ باقی ڈرگئےتھے خوفزدہ تھے۔
اورجنگ احدمیں صحابہ اکرام نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں مانی اور لوٹ مار کرنے چلے گئے۔۔یعنی نبی پاک ﷺکے ساتھی لوٹ مار کیا کرتے تھے (توبہ نعوذباللہ)
ان واقعات کو قرآن پاک بہت مناسب اور بہتر الفاظ میں بیان کرتا ہے۔اور سمجھاتا بھی ہے۔
ہم  فرض  کر لیتے ہیں عمران خان نے قرآن نہیں پڑھا ہوگا کیونکہ جس ہینڈسم کو جہنم کی آگ سے بھی خطرہ نہیں اس کی روحانیت پر ہمیں شک نہیں۔۔۔پھر عمران خان نے مدینہ اور مغرب کا حوالہ جو دیا  وہ بالکل سمجھ سے باہر ہے مگر لشکارے جن پر پڑتے ہیں وہ خوب سمجھ گئے ہونگے کیونکہ ان پر عمران خان کی ہر صورت پیروی فرض ہے۔۔
مگر اگر کسی چیز کا علم نہیں تو کیا ضروری ہے غرور اور تکبر میں آ کر محض ریٹنگ کے لئے اسلام کا مذاق بنا دیا جائے؟؟ اسلام اور صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کردی جائے صرف اس لئے کیونکہ آپ کو اپنی تقریر میں مثالیں دینی ہیں اور آپ ریاستِ مدینہ کا دعویٰ  کرتے ہیں لہذا جو دل میں آئے آپ کہتے جائیں اور ہم تالیاں  پیٹتے  جائیں۔
کبھی آپ سے “خاتم النبیین” کا لفظ نہیں بولا جاتا کبھی آپ کو غزوہ احد اور بدر کے واقعات کا علم نہیں ہوتا ۔کبھی آپ کے لئے جہنم ایک ٹھٹھہ ہے۔کبھی ختمِ نبوت پر یقین نہ  رکھنے والے کو مسلمان کہہ دیتے ہیں۔ مطلب آپ کسی نا کسی طرح اسلام میں نقب لگانے کو تیار بیٹھے ہیں۔۔

عمران خان نے ٹویٹ کیا تھا”چھوٹے لوگوں کو بڑا عہدہ مل جائے تو اپنی اوقات بھول جاتے ہیں”
شاید  یہ وہ پہلی اور آخری بات ہو گی عمران خان کی جس سے راقم بھی اتفاق کرتی ہے ۔کونکہ عمران خان نے ثابت کردیا کہ  اس وقت پاکستان میں بڑے عہدے پر چھوٹا آدمی بیٹھا ہے۔۔
کیا حکمران پر فرض نہیں کہ  وہ تیاری کر کے جائے ہر بات جو وہ کرنے جا رہا ہے وہ اسلامی,انسانی ,دنیاوی,تاریخی, معاشرتی, اخلاقی ہر صورت مکمل تیاری کے ساتھ جائے۔
یہاں سلمان تاثیر کا قتل دیکھا ہے ہم نے جس نے میڈیا کے سامنے توہینِ رسالت کے قانون کو “کالا قانون” کہا تھا۔اس کے بعد ملک میں بے شمار قتل اسی طرح سے ہو چکے ہیں۔ایسی صورت میں جب ملک میں لوگوں کو اسلام کی روح سے متعارف کروانے کی ضرورت ہے جہاں لوگوں میں برداشت اور حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے عمران خان اور ان کے ساتھی آئے دن اسلام میں نقب لگا رہے ہیں اور لوگوں کے جذبات مجروح کررہے ہیں۔ اور پھر سوشل میڈیا کے ان کے “پیڈ ملازم” مزید دفاعی پوزیشن سنبھال کر عجیب تفصیلات دے کر وضاحتیں دینے لگ جاتے ہیں۔۔
جنید جمشید مرحوم سے غلطی سرزد ہوئی تھی وہ واقعی غلطی تھی وہ عام بیان دیتے دیتے پیار میں ہلکی سی گستاخی کر گئے اور لوگوں نے ان کا جینا حرام کر دیا تھا۔
اور عمران خان صاحب آپ آئے دن لوگوں کو جان بوجھ کر غرور میں بھڑکا رہے ہیں۔اسلام کی توہین کر رہے ہیں۔کبھی شاہ محمود قریشی کہتے ہیں عمران خان تم آواز دو ہم “لبیک الھم لبیک” کہتے ہوئے آئیں گے۔کبھی فیصل واڈوا۔ ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر آپ کا موازنہ پیغمبروں سے کر رہا ہوتا ہے اور اللہ کے بعد سب سے بڑا عمران خان کو کہہ رہا ہوتا ہے۔ کبھی علی محمد درود پاک پڑھ کر ۔عمران خان کو نبی پاک ﷺ کے بعد دنیا کا مسیحا کہہ دیتا ہے۔۔۔(توبہ نعوذ باللہ)
حضرت علی کرم اللہ وجہ کا فرمان ہے:۔
’’الروث شئی والجھل لیس بشئی‘‘
’’گوبر بھی کوئی چیز ہوتی ہے،لیکن جہالت کچھ بھی نہیں‘‘۔
خدارا بس کردو۔۔اسلام کو اپنی جاہل سیاست میں مت لائیں۔۔سیاست کریں اور عیاشی کریں۔۔جناب وزیراعظم صاحب ملک برباد کرنے کا کام اچھا کر رہے ہیں آپ وہی کریں۔۔ لشکارے ماریں نئی  نسل اندھی کریں۔۔ باقی اسلام اور ریاستِ مدینہ کی مثالیں مہربانی فرما کر آپ نہ  ہی ہمیں دیا کریں تو بہتر ہے ۔۔

عمران خان اور ان کے وزیروں کی تقاریر سے اب ہمیں خوف آتا ہے کب کوئی گستاخی یہ سب کربیٹھیں   اور ہمارے دل اس پر رنجیدہ ہو جائیں۔ ۔
* قرآنِ پاک میں مؤمنین کی صفات گنواتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ، “جب جہلا ان سے بات کرتے ہیں تو وہ یعنی مؤمن سلامتی چاہتے ہیں”
لہذا یوں آج کے دور میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ  حکومتی ارکان اور خاص طور پر عمران خان کے الفاظ کے شر سے اب مسلمان پناہ مانگتے ہیں۔۔

عمران خان صاحب آپ ہلکے سے صرف “سیاست دان نُما” ہیں۔۔یا شاید  آپ کو خوش فہمی ہے کہ  آپ سیاست دان ہیں البتہ جو بھی اور جیسے بھی ہیں سیاست دان بن کر رہیں زیادہ مذہبی نہ  بنیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح اخلاق اور تعلیم و تربیت کا پہلو آپ میں ہمیں کبھی نظر نہیں آیا اسی طرح ہمیں خود میں  زبردستی مذہبی رنگ پیدا کر کے دکھا کر دکھی کرنے کی کوشش چھوڑ دیں۔چھوٹی چھوٹی سیاست ہے آپ کی اور آپ سے وابستہ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی “چور چور” کی آواز والی خوشیاں۔ آپ یہی چور کا چورن بیچیں اور لطف اٹھائیں۔خوامخواہ ہمارے جذبات مجروح نہ کیا کریں۔اور یہ تحریر کسی قسم کا فتوی نہیں ہے راقم کی ذاتی رائے ہے۔۔جس کو لکھنے کے لئے میں مکمل آزاد اور خودمختار ہوں۔

شاعر نے بھی کیا خوب لکھا ہے۔۔
؎جہالت ِظلمت ِشب سے بھی بدتر ہے کہ جاہل کا
کوئی رستہ نہیں ہوتا ، کوئی منزل نہیں ہوتی
جہالت جانی دشمن ہے ، تمدن کی ترقی کی
کہ اس بدبخت کے ہوتے بقا، حاصل نہیں ہوتی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”عمران خان: بس کردو اب۔۔۔رمشا تبسم

  1. جزاك اللهُ‎
    آپ نے تمام سنجيدہ لوگوں کی بہترین ترجمانی فرما دی
    ہر ذی شعور مسلمان کا دل دکھا ھے اس تازہ واقعے سے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *