پیاس بجھتی کہاں ہے شبنم سے۔۔۔۔۔نورباف

گھاس کی پتیوں پہ شبنم ہے
پیاس بجھتی نہیں ہے شبنم سے
اوس کے آس میں جو رشتے ہیں
نیند یا پیاس کیا کرے اُن کا
دور میں پاس۔۔۔۔۔۔؟
کیسا دھوکہ ہے؟
آگہی کے نشیب میں پھیلی۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔خواب کی راس گویا درپن ہے

رات بھر گھاس پر
ستاروں میں
اُجلی رنگت کے انگرکھے پہنے
بادلوں کے پہاڑی رستوں سے
اپسراؤں کے دل اُترتے ہیں
رات بھر چاندنی کے کھیتوں سے
حسرتوں کی کپاس چنتے ہوئے
ایک دُھنیا سویر دُھنتا ہے

دور قصبے میں۔۔۔۔۔۔۔۔نور باف کی آنکھ
ٹوٹی کھٹیا پہ اونگھتی شب بھر
آسمانوں کی چھت پہ بکھری ہوئی
(خواہشوں کے سراب ہاتھوں سے)
اُجلی اُجلی کپاس چن چن کر
ساعتوں کا لباس بنتی ہیں
زندگی کب کسی کی سُنتی ہے؟

زیست کی خواہشوں کے چھکڑوں پر
شہر کی منڈیوں میں کھیتوں سے
ہنستی رستی کپاس آتی ہے
گھر کو جاتے مگر کسان کے ہاتھ،
اگلے موسم میں اُس کے ریشے پر
اچھے نِرخوں کی آس آتی ہے

نوربافوں کی کارگاہوں تک
صرف سپنوں کی راءس آتی ہے
پیاس بجھتی کہاں ہے شبنم سے۔۔۔۔۔
پاس اور دور صرف دھوکہ ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *