قنوطیت۔۔۔۔اجمل صدیقی

قنوطیت pessimism

یہ ایک مزاج ،
رویے
اور
worldview
کا نام ہے
خو دایک فلسفہ بھی ہے اور کسی فلسفے کا نتیجہ بھی ۔
یوں ہم کہ سکتے ہیں کہ
ایک
نفسیاتی اور مریضانہ
pathological
قنوطیت ہوتی ہے

اور
دوسری
فلسفیانہ ۔

کائنات،
انسان کے مقدر،
صورت حال کے بارے میں سلبی نتائج اخذ کرنا اور منفی توقعات وابستہ کر لینا قنوطیت ہے
یہ دانشوروں کا ایک فیشن بھی ہے ۔

“گلاس آدھا خالی ہے ”
کو اس کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔
اس فلسفے نے قدیم زمانے سے ہی ہر فلسفے کو متاثر کیا ہے یہ بلاشبہ فلسفے کا جز و اعظم کہلایا جاسکتا ہے،
nihilism
existentialism
anarchism
stoicism
asceticism
skepticism
absurdism
nostalgia

سب اس کے قریبی رشتہ دار ہیں
جب سائنس یہ کہتی کہ کائنات  کا کوئی مقصد نہیں حیات کی کوئی غایت نہیں تو لا محالہ اس سے قنوطیت مستنبط ہوتی ہے۔
جب یہ کہا جاتا کہ
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے یا تاریخ cyclic ہے اس سے بھی قنوطیت پیدا ہوتی ہے۔
جب یہ کہا جائے کہ انسان کی تقدیر پہلے سے متعین ہے  تو بھی
قنوطیت پیدا ہوتی ہے۔
جب یہ کہا جائے کہ عقل پر جبلت حاوی ہے یا
survival of fittest
ایک ابدی قانون ہے
تو قنوطیت پیدا ہوتی ہے۔
اکثر مذاہب تو قنوطیت کا گہوارہ ہیں
بالخصوص آریائی اور ہندی مذاہب
گوتم بدھ تو امام قنوطیاں ہے۔
میسو پوٹمیا کی ایک قدیم نظم ہے بہت شاندار
یہ آقا اور غلام کے درمان مکالمہ گویا قنوطیت کا صحیفہ ہے
dialogue of pessimism
اور دوسری بائبل کی
book of Ecclesiastes
بھی
منو کا شاستر بھی
عمر خیام کی  شاعری بھی
سوفوکلیز کے المیے
گوتم کا وعظ
شکریہ اچاریہ کی تشریح بھی
ابو اعلیٰ معری کی شاعری بھی۔۔
خیر میں ادبیات کی طرف نکل گیا تھا
قدیم فلسفہ میں
ہیرا کلائٹس کو کہتے ہی
weeping philosopher
ہیں
پارمنڈیز اور انکسامینڈر بھی اساسی طور پر قنوطی تھے ۔
ایک یونانی فلاسفر
Hegesias
تو اپنے عہد کا شوپنہاور تھا ۔
والٹیر
اور روسو دو نون قنوطیت پسند ہیں
والٹیر انسانی فطرت کو برا اور انسانی اداروں کو اچھا سمجھتا ہے روسو انسانی فطرت کو اچھا اور انسانی اداروں کو برا۔
شوپنہاور
ہارٹ مان
کرسچین وولف
ہانیئے
نطشے
باخ
بیتوون
ویگنر
کافکا
دوستوفسکی
لیوپرڈی
البرٹ کامیو
لارڈ بائرن
ہولڈرین
بودلئر
جوزف کونریڈ
او نو مونو
oresteia
سرونٹس

یہ طرز احساس رومانویت کی روح ہے اور فنون لطیفہ جوہر ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *