آسیہ کیس اور عدل کے تقاضے۔۔۔۔عارف کاشمیری

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُـوْنُـوْا قَوَّامِيْنَ لِلّـٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعْدِلُوْا ۚ اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ خَبِيْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔سورۃ المائدہ آئت نمبر 8
ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ کے واسطے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو، انصاف کرو کہ یہی بات تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ اس سے خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

سورۃ مائدہ کی یہ آیت مبارکہ ایک مسلمان کے لیئے واضح طرز فکر کا تعین کرتی ہے ۔ بحیثیت مسلمان کیا ہم نے  آسیہ بی بی کے معاملے میں اس آیت کی روشنی میں اپنے طرز فکر کا جائزہ لیا ؟ میرا خیال  ہے کہ جو لوگ اس معاملے میں شدت دکھا رہے ہیں انہیں ضرور اس پر غور کرنا چاہیے ۔
ایک نظر واقعے پر ڈال لیجیئے۔۔
آج سے ساڑھے نو سال پہلے اٹاں والی شیخو پورہ میں کھیت میں اجرت پر کام  کرنے والی تین نیم خواندہ  عورتوں کے مابین جھگڑا ہوا۔وجہ یہ تھی کہ عیسائی خاتون نے مسلمان خواتین کو پینے کے لئے پانی پیش کیا ۔ مسلمان خواتین نے اس کے ہاتھ سے پانی پینے سے انکار کر دیا ۔  غالب امکان ہے کہ اس طرح کے مواقع پر متوقع ہے انہوں نے عیسائیت کو جھوٹا مذہب قرار دیا ہو گا ۔ جس کے جواب میں عیسائی خاتون نے اسلام کو جھوٹا مذہب قرار دیا ہو گا ۔ یقینی طور پر ایک دوسرے کے مذاہب کو جھٹلانے کے لیے ان تینوں خواتین کے پاس علمی دلیل کوئی نہیں تھی ۔ محض جوش عقیدت پر ہی معاملہ آگے چلا ۔ تو  عیسائی خاتون نے مسلمانوں کے مذہب کو جھوٹا ثابت کرنے کے لے تین الزامات عائد کیئے ۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جسٹس  آصف سعید کھوسہ نے تینوں الزامات رقم کیئے ہیں جن میں سے پہلا رسول نبی کریم ﷺ سے متعلق ہے جس کو نقل کرنے کی ہمت مجھ میں نہیں ۔ دوسرا حضرت خدیجہ سے متعلق اور تیسرا یہ کہ قرآن الہامی کتاب نہیں ۔ مسلمان خواتین نے اس کے مذہب کا ابطال کن دلائل سے کیا اس بارے میں راوی خاموش ہے ۔ صرف عیسائی خاتون  کے الزامات پر ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا ۔   جھگڑا کہاں تک رہا ۔۔۔ ہاتھا پائی ، گالم گلوچ یا صرف سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا اس بارے میں بھی راوی کچھ نہیں بتاتا ۔ اب مسلمانوں کی غیرت کو جوش آگیا تو اہل محلہ نے ایک مجلس بپا کی ۔ جس میں اس عیسائی خاتون کو بھی طلب کر کے اس سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے ایسا کہا ہے ۔ تو بقول انہی سابقہ گواہان کے اس نے وہاں بھی اقرار کیا کہ وہ ان تینوں الزامات پر قائم ہے ۔ ۔۔۔
کیا اس خاتون سے کسی نے یہ  پوچھا کہ اسے یہ باتیں کس نے بتائی ہیں ؟ یا اسے الہام ہوا ہے کہ قرآن الہامی کتاب نہیں ؟ اس بارے میں بھی راوی خاموش ہے ۔  مجمعے نے اس گواہی کو معتبر جانتے ہوئے محلے کے مولوی کی مدعیت میں عیسائی  خاتون کے خلاف مقدمہ درج  کروا  دیا ۔  ایف آئی آر کو مضبوط کرنے کے لئے کسی مسلمان قانونی مشیر کی خدمات حاصل کی گئیں تا کہ یہ خاتون بچ نہ پائے۔  وقوعے کو جس رنگ سے پیش کیا گیا ایف آئی آر کی درخواست میں فالسے چن کر مزدوری کرنے والی عیسائی خاتون کو عیسائی مذہب کی مبلغہ بتایا  گیا ۔ پہلے بحث مباحثے اور جھگڑے کو حذف کر دیا گیا ۔ کیس یوں بنا کہ آسیہ بی بی نامی مسیحی خاتون مسلمانوں کے عقائد کی دل آزاری کرتی ہے اور پیغمبر اسلام کی توہین کرتی ہے جس کی گواہان معافیہ بی بی اور اس کی بہن اسماء ہیں ۔   اس سے آگے کے احوال اور عدالتی کارروائی سے آپ بخوبی واقف ہوں گے ۔
اب آپ مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں اپنے کردار کا جائزہ لیجیئے ۔ کیا کسی مسلمان کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ ان خواتین سے اس بارے میں استفسار کرتا، کہ انہوں نے عیسائی خاتون کے ہاتھ سے پانی پینے سے انکار کس کے فتوے کی روشنی میں کیا ؟ کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی عیسائی کے ہاتھ سے پانی پینا ممنوع ہے ؟
یہ کہ اس طرح کے بحث مباحثے میں الجھنے والی خواتین کے پاس اپنے اپنے مذاہب سے متعلق کتنا علم تھا ؟
یہ کہ اسلام کے مدعیوں نے وقوعے میں جھوٹ کی  آمیزش کرنے کی جو کوشش  کی کیا یہ کام جائز تھا ؟
جہاں تک میری معلومات ہیں ان سوالات  کی جانب نہ تو اہل ایمان نے توجہ دی نہ اہل قانون نے۔۔
عدالت میں ہمیشہ انصاف نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمیشہ ناانصافی ہوتی ہے ۔  ایسے ایسے مقدمات کے ملزمان بری ہو جاتے ہیں جن کے بچنے کا کوئی امکان ہی نہ ہو  اور ایسے ایسے رگڑے میں بھی آتے دیکھے ہیں جن کی بے گناہی کا زمانہ معترف ہو۔
متعدد کیسز کو قریب سے دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا ہے کہ۔۔۔۔۔
ایسی کسی ایف آئی آر پر کبھی سزا نہیں ہوتی جس کے اندراج میں بدنیتی شامل ہو  یا وقوعے کو اپنی اصل حالت کی بجائے اس میں معمولی رد وبدل  بھی کر دیا جائے ۔
اور ایسی ہر ایف آئی آر مدعی کو انصاف دلوا دیتی ہے جس میں جھوٹ کی آمیزش بالکل نہ ہو  ۔ بلکہ ایسا بھی نوٹ کیا گیا کہ مدعی کی عدم پیروی کے باجود بھی ملزم کو سزا  مل جاتی ہے بشرطیکہ مقدمہ بالکل سچ پر مشتمل ہو ۔ جب بھی ایف آئی آر کا اندراج کروایا جائے اس میں مکمل سچ بتایا جائے ۔ تو انصاف مل ہی جاتا ہے ۔ اور جب ایف آئی آر میں ایک فیصد بھی جھوٹ کی آمیزش کی جائے تو بنیادی مقدمہ اگر سچا بھی ہو تو بھی انصاف نہیں ملتا۔
میرا خیال ہے کہ اگر آسیہ بی بی کے خلاف عائد ہونے والا الزام سچ بھی ہے تو بھی ایف آئی آر میں ضرور ایسا کوئی جھوٹ شامل کیا گیا جس نے سارے مقدمے کو ہی بدل دیا ،بطور خاص جن نکات نے متوجہ کیا وہ درج ذیل چار ہیں۔۔۔۔
نمبر ایک : ایف آئی آر میں آسیہ بی بی کو عیسائی مبلغہ بنا کر پیش کیا گیا جب کہ وہ ایک عام جاہل سی عورت تھی۔
نمبر دو : ایف آئی آر میں یہ بات چھپائی گئی کہ واقعہ کی عینی شاہد دونوں بہنوں کے ساتھ وقوعے سے پہلے پانی پلانے پر آسیہ بی بی کا جھگڑا ہوا تھا۔
نمبر تین : وقوعے کے پانچ روز بعد ایف آئی آر کے لئے درخواست ایک وکیل سے لکھوائی گئی ۔ اس وکیل نے وقوعے کے اندر کوئی ایسی تبدیلی کی تا کہ مقدمہ زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔
نمبر چار  : جس کھیت میں جھگڑا ہوا اس کا مالک ابتدائی تفتیش کے دوران گواہ نہیں تھا لیکن ایک ہفتے بعد وہ بھی گواہ کے طور پر سامنے آگیا ۔
پولیس کے گواہ نے اپنی تفتیش کے بعد جو بیان دیا اس میں پانی پلانے کے دوران ہونے والا جھگڑا سامنے آیا ۔
وقوعے کی تیسری خاتون گواہ نے یہ گواہی دی کہ اس نے آسیہ کے منہ سے ایسی کوئی بات نہیں سنی اس لیئے اسے متروک گواہ قرار دے دیا گیا۔
دونوں گواہ بہنوں کے جھگڑے سے متعلق بیان میں تضاد کی وجہ ممکنہ طور پر یہ ہو سکتی ہے کہ کسی وکیل نے انہیں یہ نکتہ سمجھایا ہو گا ۔   تا کہ گواہی کو کمزور نہ کیا جا سکے ۔
میری نظر میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے گئے حالیہ فیصلہ بھی ان غلطیوں کا شاخسانہ ہے۔۔۔
بہر کیف ہمیں کسی قوم کی دشمنی میں اتنا اندھا نہیں بن جانا چاہیے  کہ سچ پر جھوٹ کو فوقیت دینے لگ جائیں!

عارف کاشمیری
عارف کاشمیری
اصل نام ۔ پیرزادہ عتیق الرحمان شاہ پیشہ ۔ صحافت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *