دیہاتوں کےجے کانت شِکرے۔۔۔۔مظفر خان

SHOPPING
SHOPPING

اپنی تمام زندگی میں دو اقسام کے لوگوں کا انجام بخیر نہیں دیکھا, ایک وہ جس نے کسی غریب پر ظلم کیا ہو اور ناحق کسی کو مارا پیٹا ہو, دوسرا وہ جس نے کسی غریب, یتیم , بیوہ , لاوارث اور حق دار کا مال کھایا ہو, جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ آجکل گورنمنٹ کی جانب سے ہر جگہ, تجاوزات, قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی چار لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوں یہی مسئلہ موضوع بحث بنا ہوتا ہے, سب کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ کیا گورنمنٹ کی طرف سے یہ جو تجاوزات کو گرانے کا آپریشن چل رہا ہے شہروں سے نکل کر دیہاتوں میں بھی آئے گا, کیونکہ ہر دیہات میں چند با اثر افراد ہوتے ہیں جنہوں نے قبرستان کی اراضیوں پر بلکہ قبروں پر قبضہ کر کے گھر , اور حویلیاں بنا رکھی ہیں, شاملاٹ جگہ پر قبضہ کیا ہوا ہے , گندے پانی کے جوہڑ (چھپڑوں ) کو آہستہ آہستہ مٹی سے بھر کر گھر اور ڈیروں میں شامل کیا ہوا ہے, اور تو اور درباروں کی دیکھ بھال, خدمت , کے لئے آئے ہوئے مجاوروں کے  مزے کروائے  ہوئے ہیں دو دو تین تین ایکڑ قبرستان یا شاملاٹ جگہوں پر دربار کی سیوا کے نام سے قبضہ جما کر بیٹھنے والے پیر اور گدی نشین بن کر لوٹ مار کرتے ہیں۔

دیہاتوں میں تو کچھ جے کانت شِکرے ایسے بھی پائے جاتے ہیں جن کی نظریں لاوارث ,لاچار ,غریبوں,بوڑھوں, بیوہ  عورتوں کے گھروں, جائیدادوں پر ہوتا ہے اور یہ ظالم غریبوں, لاوارث لوگوں کے نہ صرف گھر چھین لیتے ہیں بلکہ اندر پڑھا سارا سامان بھی لوٹ لے جاتے ہیں, کئی ایسے صاحب حیثیت خاندان بھی ملیں گے گورنمنٹ کی ملی بھگت سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جس پر یتیم, بیوہ, مسکین, لاچار لوگوں کا حق ہوتا ہے بڑی ڈھٹائی سے لائن میں لگ کر وصول کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ معاملہ کسی ایک پنڈ یا علاقے کا نہیں.. نا ہی کسی ایک گروہ کا ہے. پوری قوم ہی اس بد اخلاقی کا شکار ہے. دراصل ہم اخلاقی طور پر دیوالیہ قوم ہیں. لوٹ کے کھانا، چھین کے کھانا، دوسروں کے حصے کا ہڑپ کر جانا ، دوسروں کے مال پر… جگہ پر… زمین پر قبضہ کرنا. یہ ہمارے ہاں چالاکی اور ہشیاری میں شمار ہوتا ہے نا کہ چوری میں. ایسے بدبختوں کے لئے اللہ نے قرآن میں بھی ارشاد فرمایا

اِنَّ الَّـذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتَامٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِىْ بُطُوْنِـهِـمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْـرًا

بے شک جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں، اور عنقریب آگ میں داخل ہوں گے۔[النساء10]
زکوتہ فنڈکے پیسوں میں خردبرد, کرنے والوں سمیت ,درباروں, مسجدوں کا چندہ کھانے والوں, کیا ان سب کا احتساب ہو گا, کیا سب سے یہ زمینیں اور گھر خالی کرائے جائیں گے, کیا بے نظیر فنڈ, اور زکوتہ کے پیسوں کا آڈٹ ہو پائے گا۔

SHOPPING

تو دوستو گزارش یہ ہے کہ ایک نہ ایک دن تو یہ احتساب ہونا ہی ہے, ایک احتساب اوپر والی ذات کرتی ہے جس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں,یہاں سب سے زیادہ حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ یہ شاملاٹ, چھپڑوں, قبرستان کی اراضیوں, مسکین لاوارثوں کے گھروں جگہوں پر قبضہ کرنے والوں کے بارے میں آج کل کی نوجوان نسل کو بھی علم ہے, اور اب اس پر آپس میں یہ نسل ڈسکس بھی کرتی ہے, اگر کوئی یہ کہے کہ یہ پرانی باتیں ہیں لوگ بھول چکے ہیں یہ ان کی بھول ہے, ایک نہ ایک دن انشاء اللہ اللہ کی پکڑ ضرور ہو گی۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *