ہر فن مولا ۔۔۔ حارث خان

ہم ایک ایسے انسان کی بات کرہے ہیں جو اپنا کام چھوڑ، باقی ہر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جی ہاں! ہم بات کرہے ہیں اپنے محلّے کے حجام کی۔ جس کی اپنی دکان کا یہ حال ہے کے دکان پر  چڑیا پر نہیں مارتی۔ اس کے اپنے کاریگر کام کرنے کو راضی نہیں۔ ہر گاہک کام نہ ہونے پر گالیاں نکالتا ہوا واپس ہو جاتا ہے لیکن اس کا کہنا اور ماننا ہے کے اس سے بہترین حجام اس محلّے نے نہیں دیکھا۔ اس حجام کی نظر محلّے کی ہر دکان پر ہے اور یہ گاہے بگاہے بے وقت ہر چھوٹی بڑی دکان پر جا بیٹھتا ہے۔ دکان کے مالک کو صلاح و مشورہ دینا گویا اس کی عادت ہے۔ غرضیکہ محلّے کی کل تاجر برادری اس سے پریشان ہے۔ دو دکانداروں میں تفرقہ ڈالنا، خود ساختہ ثالث بھی بننا پھر جو مٹھی گرم کردے اس کا حامی ہو جانا بھی اسی کا شیوا ہے۔ 

یہ اک بڑا ہی شاطر انسان ہے جسے آج تک کسی قصائی کے منہ لگتے نہیں دیکھا گیا۔ شاید یہ ڈرتا ہوگا کے اگر قریشی بھائی کو کوئی بات ناگوار گزر گئی تو وہ چھرا لے کر کہیں اس کی جان کے درپے نہ ہو جائے۔اس کو کوئی خبر دے دے کہ فلاں شخص تمہاری برائی کرہا تھا تو یہ اس کو بہانے سے بلا کر اپنے استرے کا شکار کر دیتا ہے۔ کسی کی شان مونچھ ہو تو یہ وہ کاٹ دیتا ہے، کوئی اپنی زلفوں پر اکڑتا ہو تو یہ اس کے گیسو کاٹ ڈالتا ہے بعد ازاں معذرت کر کے بات رفع دفع کرنا جیسے اس کا ہنر ہو۔ سلام ہو مگر قریشی بھائی پر کے جو اعلانیہ ان حضرت پر تبرہ کرتے ہیں اور یہ انکا کچھ بگاڑ نہیں پاتے۔ 

محلّے میں کوئی نیا بچہ پیدا ہو جائے تو یہ موصوف اپنا استرا لئے اس جانب دوڑ پڑتے ہیں۔ ایک فوٹوگرافر اور گواہ ساتھ رکھتے ہیں کے دیکھو کس صفائی سے گولائی بنائی ہے۔ پھر جب جہاں جیسے بھی اس بچے کا ذکر آتا ہے جناب دھڑلے سے کہ دیتے ہیں، لو اس کا ہتھا تو میں نے پھیرا تھا۔ اب اس بچے سے جڑی ہر بات میں پہلا نام اس حجام کا آجاتا ہے۔ محلّے کے زنخے تک اس حجام کے موقع واردات پر پہلے ہی پہنچ جانے سے اس سے زچ ہو چکے ہیں۔ حجام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے لوگوں کا بڑا خیال کرتا ہے۔ان کی حجامت سے لے کر بغل کے بال بھی کاٹنے میں اس کو کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ کیا پتا بات کچھ اور بھی آگے کی ہو؟ خیر بھیا، ہمیں کیا۔ واللہ و عالم و غیوب! آخر اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔ 

ان موصوف کی توجہ بارہا ان کی دوکان کی جانب دلائی گئی ہے کہ آپ کے کاریگر اول تو کام ہی نہیں کرتے اور کرتے بھی ہیں تو کام تسلّی بخش نہیں ہوتا۔ اس پر یہ موصوف سلیم شہزاد اور خشوگی کے موازنے پر اترانے لگتے ہیں۔ اگلے کی مجبوری مجبوراً خاموشی۔ دوکان کا گلہ خالی ہوتا جا رہا ہے لوگ دوکان آنے سے اور حجامت کرانے سے ڈرنے لگے ہیں۔ ایک تو وقت کا ضیاع اوپر سے کام کا معیار نہیں۔ 

لیکن جو بات دلچسب اور ماننے کی ہے وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے حجام کو اس کا کام یاد دلایا وہ آج کل گنجے نظر آتے ہیں۔ 

حارث خان
حارث خان
ایک عام آدمی، معاشرے کا چلتا پھرتا نمائندہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *