کچی آبادی میں بسنے والا ایک شخص ۔۔۔محمد فیاض حسرت

میرے پاس کیا تھا ؟ ایک کچا ، ٹوٹا سا گھر تھا ۔ ایسا گھر جس کے اندر سے دن میں سورج صاف دکھائی دیتا تھا اور رات میں چاند بھی ایسے دکھتا تھا جیسے وہ اس گھر کو ہی چاندنی دے رہا ہو ۔ہمیں باقیوں کے مقابلے میں یہ آسانی میسر تھی کہ اگر کہیں موسم کا پتا لگانا ہوتا تو گھر سے اٹھ کے باہر نہیں جانا پڑتا تھا، ہم گھر کے اندر سے ہی آسمان کو دیکھ لیتے تھے ۔ بالکل ایسے ہی گھر ہمارے ساتھ ہمارے اپنوں کے   تھے ۔ہمیں کوئی پریشانی نہ تھی بلکہ ہمیں فخر تھا کہ اس پاک زمین نے ایک چھوٹا سا حصہ ہمیں بھی دیا ہے رہنے کو اور خدا کے بھی شکر گزار تھے ۔ چونکہ انسان بہتر سے بہتر کی تلاش میں لگا رہتا ہے سو ہماری بھی اک چھوٹی سی خواہش تھی بس اسی زمین پر ایسا گھر مل جائے جس کے اندر ہوں تو سورج کی گرمی ، سردی اور بارش سے بچا جا سکے ۔ خواہش کیا یہ تو ہماری ضرورت تھی کیونکہ اکثر اوقات یوں ہوتا تھا کہ آسماں سے بارش برستی تو سیدھے گھر کے اندر آ پڑتی ۔سورج کی گرمی ہو یا سردی وہ براہِ راست ہم سے تعلق رکھے ہوئے تھی ۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہونے کے سبب اور اپنے معاشی حالات خراب ہونے کے سبب اتنی ہمت نہ تھی کہ اس پریشانی کا فوراً  کوئی حل نکال لیتے ۔

اس جدید دور میں بھی ہمارے پاس ٹی وی نہیں تھا ۔ ساتھ ہی ایک پڑوسی نے ٹی وی لایا ۔ ہم اس چھوٹی بستی کے سبھی چھوٹے لوگ اس پڑوسی کے گھر میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگے ۔ یعنی دن میں ایک بار کوئی نیوز چینل دیکھتے ۔ آہستہ آہستہ ہمیں یہ معلوم پڑا کہ یہ جو ہماری ضرورتیں ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے اس پاک زمین پر وہ بڑے لوگ ہیں جو ایوانوں میں بیٹھتے ہیں ۔ اس سرزمین کے حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کے باشندوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کریں ۔ پچھلے حکمرانوں نے پانچ سال پورے کیے تو ہمارا کوئی خیال نہ کیا، اس لیے ہم نے نئی حکومت سے امید باندھی کہ یہ ہمارا خیال کرے گی ۔ ہمیں اک امید سی  ہوئی کہ اب ہمیں بھی رہنے کے لیے بہتر جگہ میسر ہو گی ۔ پھر نئی حکومت بھی آ گئی ۔ ہم اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے رب سے دعا کرتے رہے اور پر امید تھے کہ جلد ہی نئی حکومت ہمارے واسطے ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کام شروع کرے گی ۔

اس نئی حکومت کو   دو ماہ ہو چکے تھے لیکن کوئی بات نہ بنی ۔ چونکہ ہمیں حکومت کے بارے میں ٹھیک طرح سے کچھ معلوم نہ تھا تو ہم یہی خیال کرتے رہے کہ نئی حکومت منصوبہ بندی کر رہی ہو گی کہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کیسے کی جائیں ۔
ایک دن ایک پڑوسی میرے گھر آیا اور کہنے لگا کہ حکومت نے کام شروع کر دیا ہے ۔ اسلام آباد میں تجاوزات کیخلاف کاروائی شروع کر دی ہے ۔ اور کئی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات گرا دی ہیں ۔مجھے ایک تو تجاوزات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی اور دوسری کہ قانونی اور غیر قانونی تعمیرات کی ، خیر پوچھنے پہ سمجھ آئی کہ تجاوزات کیا چیز ہے ۔ حکومت غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کا کام تو بالکل درست کر رہی ہے لیکن ہم نے کون سی غیر قانونی تعمیرات کی ہیں جو ہمیں پریشانی ہو ۔

پھر یہ بات بھی سننے میں آئی کہ  حکومت کچی آبادیوں کو ختم کر رہی ہے ۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ حکومت اب ہماری طرف بھی متوجہ ہوئی ہمارے  کچے مکانوں کو گرا کر نئے مکان بنا کے دے گی ۔ اگلے دن ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے ؟ ہمارے سامنے ہمارے وہ کچے مکان گرا دیے گئے جو تھوڑا بہت ضرورت کا سامان تھا وہ بھی وہیں  دفن کر لیا گیا ۔
ہمیں اس حال میں ان لوگوں سے گلہ کر کے بھی کیا حاصل ہونا ہے ۔بس اب ہم بے گھر و بے سرو سامان ہیں اور اپنے خدا پر ہی چھوڑتے ہیں کہ وہ ہمیں اس دنیا میں کیسے اور کب تک زندہ رکھتا ہے ۔

پناہ کوئی نہ دے مجھ کو ،کس کے در جاؤں ؟
ترا کرم جو ہو مجھ پر تو میں بھی گھر جاؤں!

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *