کراچی کی موجودہ سیاسی صورتحال ۔۔۔ نمرہ شیخ

کراچی میں جہاں بہت سی سیاسی جماعتیں ہیں وہاں ان کے ماننے والے یا ان کے سپوٹرز بھی بہت سے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کا کارکن یا رہنما لسانی بنیادوں پر کھڑے ہیں۔ سارے نہیں، لیکن تقریبا ایسا ہی ہے اور دیکھنے میں بھی ایسا ہی آیا ہے۔ 

مثال کے طور ہر مسلم لیگ نواز کے کارکنان اور رہنماوں کا تعلق زیادہ تر پنجابی زبان بولنے والوں میں سےہوتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماوں کا تعلق سندھی زبان بولنےوالوں میں سے ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور رہنماؤں کا تعلق پشتو، اور پنجابی زبان بولنے والوں میں سے زیادہ ہوتا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنان اور رہنماوں کا تعلق بلوچی بولنے والوں سے ہوتا ہے۔ 

اب ان میں بچا کون؟

اردو بولنے والا  وہ ہے جس کی مادری زبان اردو ہے۔ پاکستان کی قومی زبان یعنی اردو بولنے والے کم تری دور کرنے یا یہ کہہ لیجیے اپنی نمائندگی کے لیے کس کا ساتھ دینا چاہیے؟ اس سوال کا جواب یہی ہے کہ جو اردو بولنے والا ہو، جس کا تعلق انہیں لوگوں میں سے ہو یا جو ان کے مسائل کے لیے آواز بلند کرنے والا ہو۔ کراچی میں اردوبولنے والوں کی تعداد چونکہ زیادہ ہے تو ایم کیو ایم کا قیام بھی کراچی میں عمل پذیر ہوا جس کے بانی جناب الطاف حسین  تھے۔ 

اردو بولنے والی مہاجر قوم کو ایک جماعت کی صورت میں نمائندگی مل گئ تھی جو ان کے مسائل ملک کی اسمبلی تک پہنچا سکتی تھی۔ مہاجر قوم کا ایم کیو ایم پر اعتماد تھا۔ بعد ازاں 22 اگست 2016 کے بعد ایم کیو ایم کے بانی کو ملک کے خلاف نعرے لگانے پر مکمل پابندی کا ہی نہیں بلکہ اپنی جماعت کی طرف سے لاتعلقی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اب ایم کیو ایم کے تمام تر انتظامات جماعت کے سینئر رہنما فاروق ستار صاحب کے حوالے کر دیے گئے جو زیادہ دن نہ رہ سکے۔ بالآخر فاروق ستار صاحب کو بھی ایم کیو ایم کی قیادت چھوڑنی پڑی۔ اب کی بار خالد مقبول صدیقی صاحب کو قیادت سونپ دی گئ۔

اس تمام عمل میں اب سے بڑا نقصان کارکنان اردو بولنے والی مہاجر قوم کا ہوا۔ کچھ لوگ جناب الطاف حسین کو اپنا قائد مانتے ہیں، کچھ فاروق ستارصاحب کو اور کچھ خالد مقبول صدیقی صاحب کو اپنا قائد مانتے ہیں۔ ایسے  میں ایم کیو ایم اپنی تاریخ کے بدترین سیاسی دور سے گزر رہی ہے۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کی صورتحال میں اردو بولنے والے مہاجر کسی اور جماعت کا رخ کرتے ہیں تو انہیں کس جماعت میں شامل ہونا چاہیے؟

یہاں یہ بات واضح کرتی چلوں کہ ملک کی کسی سیاسی جماعت نے  اردو بولنے والے مہاجروں کے حق میں کبھی کوئی بات نہیں کی سوائے ایم کیو ایم کے۔ 

2013 کے عام انتخابات میں کراچی کے کچھ اردو بولنے والوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا۔ چند سیٹیں جیتنے کے باوجود کراچی کے مسائل پر کوئی خاطر خواہ آواز بلند نہ کی گئ۔ اب کی بار 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف ملک کی حکمران جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی کی بیشتر سیٹوں پر بھی الیکشن جیت چکی ہے اور اس کے باوجود بھی کراچی کے مسائل پر خاموشی تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ 

  

ان تمام حالات و معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا سوال یہی ہے کہ ایم کیو ایم کے علاوہ کون سی ایسی جماعت ہے جو وقت پڑنے پر مہاجر قوم کے ساتھ کھڑی ہوگی اور ان کے حق کے لیے آواز بلند کرے گی؟

اگر جواب ہو تو ضرور آگاہ کیجئے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *