نیند کی سائنس۔۔۔وہارا امباکر

ایک موچی جوتے بنا رہا تھا۔ ابھی چمڑہ کاٹ کر رکھا تھا کہ نیند آ گئی۔ صبح اٹھا تو جوتے سلے ہوئے پڑے تھے۔ یہ بچپن کی جادوئی کہانی ہے لیکن یہ جھوٹ نہیں۔ نیند ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی جادو کرتی ہے۔

اگر آپ کی عمر پچاس سال ہے تو اس میں سے اٹھارہ سال آپ نے سونے میں گزار دئے۔ لیکن یہ اٹھارہ برس وقت کا ضیاع نہیں تھے۔ دماغ کے لئے سونا ایک گلوبل ایونٹ ہے جب پورا دماغ اپنی حالت بدل لیتا ہے۔ اس دوران دماغ میں کیا کچھ ہوتا ہے، ایک نظر اس پر۔

دماغ کی دھلائی۔ دماغ کے خلئے کچھ سکڑ جاتے ہیں اور تیزی سے سیریبروسپائنل فلیوئیڈ دماغ اور اعصابی نظام کے درمیان پمپ ہو کر زہریلے مادوں کو نکالتا ہے۔ جب ہم جاگتے ہیں تو دماغ کے خلئے پھر بڑے ہو جاتے ہیں اور ان کے درمیان اس فلوئیڈ کا بہاؤ رک جاتا ہے۔ اس پر تحقیق کرنے والے نیوروسرجن ڈاکٹر نیدرگارڈ کا کہنا ہے کہ یہ عمل برتنوں کے دھلنے کی طرح ڈرامائی ہے اور ویسا جیسے کوئی نلکا کھلے اور پھر بند ہو جائے۔ جاگتے وقت دماغ ایسا اس لئے نہیں کر سکتا کیونکہ یہ عمل توانائی مانگتا ہے اور ایک وقت میں یہ دھلائی اور اپنے ارد گرد کی آوازوں اور مناظر کا تجزیہ، باتیں اور حرکتیں کرنا اس کے ساتھ شاید مشکل ہوتا۔ اس میں بیٹا امیلوائیڈ صاف ہوتے ہیں۔ یہ مادے صاف نہ ہوں تو دانتوں کی پیلاہٹ کی طرح کی تہہ دماغ پر بناتے ہیں جو الزائمر جیسے دماغی مرض کا باعث ہے۔

معلومات کی پراسسنگ اور یادداشت کی مضبوطی۔ دماغ اپنے اندر کی معلومات کی مختلف طریقوں سے پراسسنگ کرتا ہے۔ اس پر کئے گئے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ نیند کے دوران ہماری یادداشت بھی بہتر ہوتی ہے، کسی چیز کو نئے زاوئے سے دیکھنے کی صلاحیت بھی۔ اس وقت دماغ کا منطق والا حصہ بند ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خواب میں آپ ایسے کام بھی کر سکتے ہیں جنہیں سوچنا جاگنے میں غیرمنطقی لگے، لیکن اس طریقے سے ہمارا ذہن منشتر خیالات جوڑ کر دنیا کو سمجھتا ہے۔

ٹشو کی مرمت۔ نیند کی تیسری سٹیج جو سب سے گہری نیند کی ہے، اس میں گروتھ کا ہارمون خارج ہوتا ہے۔ یہ مردہ خلیوں کے جگہ لینے کے لئے تازہ خلیے بنانے کے لئے اہم ہے۔ اس کے علاوہ پٹھوں کی ڈویلپمنٹ اور بچوں کے گروتھ کے لئے بھی۔ اس وقت پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، سانس ہلکا ہو جاتا ہے۔ پٹھوں تک خون کی فراہمی بڑھ جاتی ہے۔

میٹابولزم کی درستگی۔ دو ہارمون غرلن اور لپٹن اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو میٹابولزم اور بھوک کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر نیند ٹھیک نہ ہو تو اس سے پھر میٹابولزم کے علاوہ دماغ کا وہ سگنل جو یہ بتا دے کہ پیٹ بھر گیا ہے، وہ بھی متاثر ہوتاہے۔

توانائی کی بحالی۔ دماغ کی توانائی گلائیوکوجن ہے جو دماغ کے مختلف حصوں میں سٹور ہے جو کم ہوتی جاتی ہے۔ نیند میں اور خاص طور پر ریپیڈ آئی موومنٹ والی سٹیج میں اس کی بحالی ہوتی ہے۔

کس کو کتنی نیند اور کب چاہیۓ؟ اس کا کوئی ایک اچھا جواب نہیں، ہماری تاریکی کے ہارمون میلاٹونن کا اپنا سائیکل خود ہر شخص کے لئے اسی طرح منفرد ہے جس طرح انگلیوں کے نشان، لیکن کچھ نشانیاں
1۔ اگر آپ چھٹی والے دن عام دنوں سے زیادہ سوتے ہیں تو آپ اپنی نیند پوری نہیں کر رہے
2۔ اگر آپ کو اٹھنے کے لئے الارم لگانا پڑتا ہے، تو آپ کی نیند پوری نہیں ہو رہی
3۔ اگر آپ کو صبح چست ہونے کے لئے چائے یا کافی کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ نیند کی کمی کی نشانی ہے۔

اور اگر آپ نیند پوری نہیں کر رہے تو یہ عادت آپ کو بیمار، مایوس، موٹا اور بے وقوف بنا دے گی۔

نوٹ: اگر یہ پوسٹ اتنی بور تھی کہ اس کو پڑھنے کے دوران نیند آ گئی تو یہ آپ کے لئے اچھی پوسٹ تھی۔ اگر وقت سونے کا ہے تو اپنا موبائل یا کمپیوٹر ایک طرف رکھیں اور آگے کچھ اور کرنے کے بجائے سو جائیں۔ باقی باتیں اٹھنے کے بعد۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *