جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار۔۔۔سلطان محمود/ہیلتھ بلاگ

گھبرائیے نہیں، ہم آپ کو کہیں بھی ہزار بار یا بار بار نہیں بھیجنے والے۔ بس آپ کو یہ بتلانے والے ہیں کہ اگر آپ کو پیشاپ کے لئے بار بار واش روم جانے کی حاجت محسوس ہوتی ہو تو اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کا تدارک کس طرح سے کیا جا سکتا ہے۔

ہمارا نظام اخراج کس طرح کام کرتا ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ ہمارا نظام اخراج بھی دوسرے بہت سے اندرونی اعضاء اور نظاموں کی طرح خودمختار یا غیر ارادی اعصابی نظام (آٹونومک نروس سسٹم) کے تحت کام کرتا ہے۔ اس میں پیچیوٹری گلینڈ سے آنے والے اینٹی ڈائیو ريٹک ہارمون کا بھی بنیادی کردار ہے جو رات کے وقت پیشاپ بننے کے عمل کو سست کردیتا ہے ۔ (اگرچہ مثانے سے مناسب وقت اور جگہ ملنے پر پیشاپ کے اخراج کا فیصلہ ہمارے ارادی (سومیٹک) اعصابی نظام کے تابع ہوتا ہے) گردے ہمارے خون کو ہر دفعہ گردش کے دوران فلٹر کرکے اضافی پانی، نمکیات، اور اس کے ساتھ ساتھ میٹابولزم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بہت سے زہریلے مرکبات کو قطرہ قطرہ پیشاپ کی شکل میں دو نالیوں کے ذریعے مثانے تک بھیجتے ہیں۔ جہاں وہ کچھ دیر تک جمع رہنے کے بعد بالآخر جسم سے خارج کر دیے جاتے ہیں۔

دن رات میں کتنی دفعہ پیشاپ کے لئے جانا نارمل ہے؟

یہ آپ کی (آپ کے مثانے کی) عادت پر منحصر ہے۔ عام طور پر دن رات میں آٹھ دفعہ تک جانا نارمل سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس میں رات کو یا صبح سویرے پیشاپ کے لئے ایک آدھ دفعہ اٹھنا پڑے تو بھی تشویش کی کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر دن رات میں مجموعی طور پر آٹھ سے زیادہ دفعہ، یا رات میں دو تین دفعہ آپ کو اٹھنا پڑتا ہے اور آپ اس سے پریشان ہیں (نیند کی کوالٹی؟) تو پھر اس کیفیت کو بیماری تصور کیا جائے گا۔

اس بیماری کی علامات کیا ہیں؟

اس بیماری کی تین بڑی علامات ہیں:

۱- فریکوئنسی یا بار بار جانا۔ دن رات میں آٹھ دفعہ سے زیادہ جیسا کہ اور ذکر ہوا۔
۲- ارجنسی یا عجلت۔ بیٹھے بیٹھے اچانک پیشاپ کی یکدم یا شدید حاجت محسوس ہونا۔
۳- ارج انکونٹی نینس یا پیشاپ خطا ہونا۔ واش روم تک پہنچتے پہنچتے پیشاپ کنٹرول نہ کر سکنا۔ یہ علامت خاص طور پر میٹنگز، فنکشنز، یا طویل سفر کے دوران پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔
ان علامات کا مجموعی نام اؤر ایکٹیو بلیڈر (OAB) ہے، مگر پہلے اس کا دوسری بیماریوں سے فرق سمجھنا ضروری ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ہمارے مثانے کی پیشاپ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پانچ سو سے لے کر چھ سو ملی لٹر تک ہوتی ہے۔ جب کسی وجہ سے یہ گنجائش کم ہوجائے یا مثانہ پورا بھرنے سے پہلے ہی خالی کیے جانے پر “اصرار” کرے، تو مندرجہ بالا علامات پیدا ہوتی ہیں۔

ان علامات کی وجوہات کیا ہیں؟

بہت چھوٹے بچوں میں اس کی وجہ مثانے پر ارادی کنٹرول کی کمی یا اینٹی ڈائیوریٹک ہارمون (ADH) کی کمی ہوتی ہے جو وقت گزرنے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔
بڑی عمر کے بچوں اور نوجوانوں یا خواتین میں اس کی بڑی وجہ نظام اخراج و تناسل کا انفیکشن (یو ٹی آئی) ہے، جو مناسب اینٹی بایوٹک ادویہ لینے سے ختم ہو جاتا ہے۔ ایک اور عام وجہ شوگر بھی ہے جس میں پیشاپ بار بار آنے کے ساتھ بار بار بھوک اور پیاس کا لگنا بھی شامل ہے۔

ایک منٹ رکیے، پہلے پرانے زمانے کے ڈاکٹروں کو خراج تحسین: کیا آپ کو معلوم ہے کہ ذیابیطس کی تشخیص کے لئے ٹیسٹ ایجاد ہونے سے پہلے ڈاکٹر مریض کے پیشاپ کو چکھ کر اس میں شوگر کی موجودگی کا اندازہ لگایا کرتے تھے؟

اگر آپ ایک مرد ہیں اور آپ کی عمر چالیس سال سے اوپر ہے تو ایسا پراسٹیٹ گلینڈ کے بڑھ جانے (BPH) کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ (خواتین میں پراسٹیٹ گلینڈ نہیں ہوتا)

خواتین میں دوران حمل مثانے کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے بھی یہ شکایت ہو سکتی ہے۔ زمین سے وزن اٹھانے کے لئے زور لگانے کی صورت میں اگر پیشاپ نکلتا ہو تو اس کو سٹریس انکونٹی نینس کہتے ہیں۔
بار بار پیشاپ آنا اینگزائٹی (تشویش) کی علامت بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ امتحانات کے دوران یا کسی جاب انٹرویو سے پہلے۔

اگر آپ میں اوپر بیان کردہ وجوہات میں سے کوئی بھی وجہ موجود نہ ہو اور پھر بھی پیشاپ بار بار آتا ہو، تو پھر اس کی وجہ مثانے کے اندرونی (ڈیٹروسر) مسلز کی کمزوری ہے۔ ایسی صورت میں یہ مسلز، مثانے کے پوری طرح سے بھر جانے سے پہلے ہی، اسے خالی کرنے کے لئے زور لگانا شروع کردیتے ہیں جس سے مذکورہ علامات پیدا ہوتی ہیں۔

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے، کہ نہیں؟

جی بالکل، ماضی کے برعکس آج کل ان علامات کا مؤثر علاج موجود ہے۔ پہلے آپ کا ڈاکٹر چند آسان ٹیسٹوں کی مدد سے آپ کی بیماری کی تشخیص کرے گا۔ اگر یہ علامات انفیکشن یا شوگر کی وجہ سے ہیں تو پہلے اس بیماری کا علاج کیا جائے گا، جس کے بعد امید ہے کہ یہ علامات خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ اور ایکٹیو بلیڈر تشخیص ہونے کی صورت میں اسی بیماری کے لئے مخصوص ٹیبلٹس دی جائیں گی جو طویل عرصے تک استعمال کی جاتی ہیں۔

کیا اس کا تعلق مثانے کی گرمی سے ہے؟

میڈیکل سائنس میں “مثانے کی گرمی” نام کی کوئی بیماری وجود نہیں رکھتی۔ غالباً یہ نام اس وقت اختیار کیا گیا تھا جب بیماریوں کو سمجھنے کے سلسلے میں ہمارا علم ابھی ابتدائی مراحل میں تھا۔

تو پھر کیا کیا جائے۔۔۔؟

اپنے ڈاکٹر کے مشوروں پر عمل کریں۔ تجویز کردہ دوائی مقررہ مدت تک استعمال کرتے رہیں۔ زیادہ کیفین اور نکوٹین والے مشروبات (چائے، کافی، کولا، انرجی ڈرنکس) سے پرہیز کریں، خاص طور پر رات کو سونے سے پہلے۔ پانی کے مناسب مقدار سے دن کے وقت ہی استفادہ کریں تاکہ رات کو پینے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ بار بار پیشاپ آنے کے ساتھ بار بار پیاس بھی لگتی ہو تو اپنے ڈاکٹر کو مطلع کریں، یہ شوگر کی علامت ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر علاج کے دوران دوائی کے استعمال کی وجہ سے منہ خشک ہوتا ہوا محسوس ہو تو یہ کوئی تشویش کی بات نہیں، دوا کا ایک سائیڈ ایفیکٹ ہے، اسے برداشت کیجئے۔

آپ اپنی مدد آپ کس طرح کر سکتے ہیں؟

اپنے پاس ایک ڈائری رکھیے۔ اس ڈائری میں روزانہ اپنے واش روم جانے کی تعداد اور وقت نوٹ کرتے رہیں چند ہفتوں میں آپ کو محسوس ہوگا کہ محض ڈائری لکھتے رہنے سے ہی آپ کی فریکوئنسی میں کافی کمی آگئی ہے۔ اس طریقے کو اگر دوا کے ساتھ اختیار کیا جائے تو اور بھی اچھے نتائج ملتے ہیں۔ یہ کوئی گھریلو ٹوٹکا نہیں بلکہ میڈیکل سائینس کا تسلیم کردہ طریقہ علاج ہے اور اسے بلیڈر ٹریننگ کہا جاتا ہے۔

اس پوسٹ میں ابھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے مگر ایک منٹ۔۔۔۔۔ پہلے میں ذرا واش روم سے ہو آؤں، تب تک آپ اس موضوع پر اپنے سوالات ترتیب دے لیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *