صرف میں ہدایت یافتہ ہوں۔۔۔۔مرزا مدثر نواز

ایک دفعہ ایک دوست مجھے اپنے کزن سے ملانے لے گیاجو لاہور میں رائے ونڈ روڈ پر واقع ایک مدرسے  میں مفتی بننے کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور اب مفتی ہے۔ گفتگو کے دوران میں نے مفتی صاحب سے انہی کے علاقے کے اور تقریباََ ہم مسلک عالم کا ذکر کر دیا کہ وہ بھی بہت اچھے مقرر اور عالم ہیں۔ انہوں نے مجھے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن کچھ دیر بعد اس بات کا تذکرہ اپنے ایک ہم جماعت سے کر دیا‘ جس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ انتہائی نامناسب اور غصیلے انداز میں میرے ساتھ تکرار شروع کر دی کہ آپ نے میرے دوست کو فلاں کی جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور آپ اس جماعت کے سرگرم کارکن لگتے ہیں‘ آپ نے ایسا کرنے کا سوچا بھی کیوں ؟۔۔

میں نے اس جذباتی شخص کو سمجھانے کی کوشش کی کہ بھائی جان مفتی صاحب کوئی دودھ پیتے بچے نہیں جو میری کسی بھی بات کو من و عن تسلیم کر لیں گے‘ دوسرا آپ ماشاء اللہ مفتی اور معاشرے کے مذہبی صلاح کار بننے جا رہے ہیں لہٰذا یہ سوچ اور رویہ کسی بھی زاویے سے آپ کو زیب نہیں دیتا‘ اس سوچ و رویہ سے صرف دوسروں کو گمراہ‘ جاہل‘ کمتر اور کفر کے فتووں سے ہی نوازا جا سکتا ہے‘ اگر صرف اپنے آپ کو ہدایت یافتہ تصور کر تے ہوئے دوسرے سے بات کی جائے تو اصلاح کی بجائے انتشار ہی جنم لے گا‘ ہم مسلک جو کچھ مسائل میں آپ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا اس کے متعلق آپ کے دل میں اس قدر نفرت ہے کہ اس کا نام بھی سننا پسند نہیں کرتے تو کل کلاں معاشرے کے دوسرے طبقوں تک پیغام اصلاح کیسے پہنچائیں گے اور تبلیغ جیسے عظیم فریضہ کو کیسے سر انجام دیں گے؟ کیا یہی سنت نبویﷺ ہے کہ آپ نے مسلمانوں کے علاوہ ہر طبقے سے بائیکاٹ کر دیا تھا؟جو آ پ کی بات سے اتفاق نہیں کرے گا کیا تلوار لے کر اسے مار دیں گے اور ہم خیالوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی ترغیب دیں گے؟ خود کو عقل کل‘ ہدایت یافتہ اور اپنی بات کو حرف آخر سمجھ کر کسی بھی قسم کی گفتگو صرف مباحثہ ہو گی جو سراسر لا حاصل فعل ہے جبکہ مکالمہ ہمیشہ معلومات میں اضافے کا سبب ہے۔ یہی وہ سوچ اور تربیت ہے جس کی بدولت اندرون ملک ‘ موم بتی ‘ لبرل اور مذہب سے بیزار طبقہ اور بیرونی دنیا مدارس سے فارغ التحصیل طلباء و مذہبی رہنماؤں کو متشدد‘ برداشت سے عاری اور شدت پسند سمجھتی ہے۔

ایک مذہبی جماعت جس کے اکابرین نے عوام تک دین کی اصل روح پہنچانے اور انہیں شرک و بدعات سے دور رکھنے کے لیے بے انتہا اور دل و جان سے محنت کی اور ایک وقت تھا کہ ملک میں اس جماعت کو ایک مقام حاصل تھا لیکن بعد میں محنت و جذبہ ماند پڑتا گیا اور آج کوئی اس کے نام سے بھی واقف نہیں اور تحصیل و ضلع کی سطح پر عہدیدار ڈھونڈنے میں بھی اس کو مشکلات کا سامنا ہے۔ قصے کہانیوں و کرامات کی بجائے منبر پر قرآن و سنت کی تعلیمات کی علمبردار اس جماعت نے اپنے آپ کو صرف اپنے ہم خیال لوگوں تک محدود اور دوسروں سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ آپ دوسرے مسالک کے ساتھ میل جول نہیں رکھیں گے‘ ان کے پروگرامز میں شرکت کریں گے نہ اپنے پروگرامز میں ان کو مدعو کریں گے‘ ایک دوسرے کے ساتھ مکالمے کو فروغ نہیں دیں گے‘ دور سے ہی بم چلاتے رہیں گے‘ بات چیت کا بائیکاٹ ہی رکھیں گے تو اپنے خیالات‘ تحقیق‘ عقائد کو غیر  ہم خیال لوگوں تک کیسے پہنچائیں گے اور کوئی کیسے آپ سے متاثر ہو گا؟ کیا دین کی تبلیغ صرف اپنے لوگوں کی تربیت کا ہی نام ہے یا کا ئنات کے ہر شخص تک اللہ اور اس کے رسولﷺ کا پیغام پہنچانے کو کہتے ہیں؟ جو ماں کے پیٹ سے آپ کا ہم آواز بن کر آئے‘ کیا صرف وہی آپ کے نزدیک ہدایت یافتہ ہے‘ اسی سے میل جول رکھا جا سکتا ہے‘ اسی کے سامنے خطبے دیے جا سکتے ہیں‘ اسی کا غم کھایا جا سکتا ہے‘ اسی کے ساتھ پیار سے بات کی جا سکتی ہے؟۔۔تمام کلمہ گو فخر انسانیتﷺ کی امت ہے اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں و ہدایات سے دور ہو رہے ہیں‘ ان کی گاڑی غلط پٹڑی پر دوڑ رہی ہے تو ان تمام کی ہدایت کے لیے کاوش و دعا کرنا‘ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہی اصل میں توحید و سنت کی اشاعت ہے۔

کوئی کتنا ہی اہل علم کیوں نہ ہو وہ اس میدان میں کامل ہونے کا دعوٰی نہیں کرسکتا اور ذاتِ بزرگ و برتر سے علم میں اضافے اور ہدایت کی دعاؤں کا محتاج ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جس کے دل میں رشدوہدایت کی جستجو ہو اسے یہ سرمایہ مل ہی جاتا ہے ۔ ایک وقت تھا کہ میں کچھ مسائل میں اپنے یقین کو حتمی سمجھتا تھا اور بڑی سختی سے کاربند تھا لیکن انہی مسائل پر دوسروں کی تحقیق پڑھ و پرکھ کر اورمطالعہ سے آج ویسا خیال نہیں کرتا۔ امام اعظم جناب ابو حنیفہؒ نے ایسا فرمایا ہو گا کہ میرے قول کے مقابلے میں کوئی صحیح حدیث مل جائے تو میرے قول کو پھینکنے میں دیر نہ کرنا اور حدیث کے مطابق عمل کرنا۔ علم ایک سمندر ہے لہٰذا ہر معاملے میں تحقیق سے کام لیں اور دوسرے کے خیالات سننے کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی مطالعے کو وسعت دیں‘ معبود برحق سے دین و دنیا کے معاملات میں ہدایت مانگیں‘صرف خود کو ہدایت یافتہ تصور نہ کریں۔

یاد رکھیں کہ اس جہان فانی میں سب کچھ آپ کی منشاء و خواہشات کے مطابق نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے خالق کائنات کو پہچانا‘ مکالمے کو فروغ دیں یہ آپ کے علم و برداشت میں بے پناہ اضافے کا سبب بنے گا‘ کفر کے فتوؤں سے اجتناب کریں‘ مخالف و حمایتی کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کریں کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ سو فیصدلوگ آپ کی بات سے اتفاق کریں‘ دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش و آرزو نہ کریں‘ جیئیں اور جینے دیں اور صرف جینے کے لیے نہ جیئیں‘ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حق ادا کرنے کی کوشش و دعا کریں۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *