تم کس دنیا کے باسی ہو؟۔۔ممتاز علی بخاری

یقین مانیے جب بھی مجھے اُس دنیا کی کوئی خبر ملتی ہے تو مجھے حیرت کا جھٹکا لگتا ہے اور بے یقینی سے میری آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔ اے میرے رب! کیا ایسا بھی ممکن ہے؟کیا ایسی بھی کوئی بستی ہے؟ کیا یہ بھی اسی دھرتی پر رونما ہونے والے واقعات ہیں؟ ہم دونوں اِسی ایک سیارے پر ہیں؟ کیا میں بھی اُن کی طرح اشرف المخلوقات ہوں؟
ذرا سوچیے گا میں کسی اور سیارے، براعظم اور ملک کی بات نہیں کر رہا ۔ میں اپنے پیارے وطن پاکستان کا ذکر کر رہا ہوں۔ یہ زرداری صاحب کے دور کا واقعہ ہے جب پورے پاکستان میں روٹی پانچ روپے کی مل رہی تھی۔ ایک روز خبر ملی کہ قومی اسمبلی کی کینٹین پر ایک روپے کی روٹی، دس روپے کا سالن اور اسی حساب سے باقی چیزیں بھی دستیاب ہیں۔ اُس وقت کی سپیکر فہمیدہ مرزا نے بذات خود کینٹین پر چھاپا مارا اور فوڈ اتھارٹی کی طرح کھانے کا معیار چیک کیا۔ ذرا دیکھیے ایک طرف اس قدر ارزانی اور دوسری طرف ہم عوام مہنگے داموں گندے اور آلودگی کا شکار کھانے کھا رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔چند سال پہلے میرا پاک سیکرٹیریٹ اسلام آباد جانا ہوا تو وہاں پر بھی سستے داموں کھانے مل رہے تھے۔ اگر آپ بہت ہی فضول خرچی کے قائل ہیں تو ستر سے اسی روپے میں آپ دوآدمی چکن بریانی کے مزے لوٹ سکتے ہیں۔ جب کہ وہی کھانا آپ ایک عام ہوٹل پر بھی کھائیں تو آپ کو دو سو سےتین سو روپے دینے پڑیں گے۔
ایک بار جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو ان سے کسی نے کہا مہنگائی ہو گئی ہے تو کہنے لگے کہاں ہے مہنگائی۔ آلو پانچ روپے کلو بک رہے ہیں۔ یاد رہے اُ سوقت آلووں کی مارکیٹ میں قیمت تیس روپے تھی۔
اسی طرح پچھلے دنوں وزیراعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر اپوزیشن نے شور بلند کیا تو وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس کا خرچہ پچپن روپے فی کلومیٹر آتا ہے گویا آپ اسے بھی موٹر سائیکل کی طرح نیوٹرل چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن رکیے جناب۔۔۔۔۔چند دن قبل میں نے کریم کا بائیک منگوایا ۔جب میں بائیک پر بیٹھا تو میں نے اُس کیپٹن سے سوال کیا کہ اگر میں بائیک پر ایک فرلانگ کا فاصلہ طے کروں تو کتنا بل بنے گا۔ بائیک والے نے جواب دیا۔ آپ کا کم ازکم بل ایک کلومیٹر کے حساب سے بنے گا اور ایک کلومیٹر کا بل چھیالیس روپے ہے یعنی ہیلی کاپٹر سے نو روپے کم۔۔۔غالباً کسی نے ایسی ہی کیفیت دیکھ کر کہا تھا نو نقد نہ تیرہ ادھار۔۔۔آپ بھلے شوق سے ہیلی کاپٹر استعمال کریں وزیراعظم صاحب  وزیر اطلاعات کو اس قسم کی بھونڈی دلیلیں دینے سے روکیے کہ جنہیں سنتے ہی انسان کی ہنسی نکل جائے۔ لیکن پھر میں سوچتا ہوں شاید کوئی سبسڈی انہیں مل رہی ہو۔ شاید ایک روپے میں جہاز کا پانچ سے دس لیٹر فیول ملتا ہو تو اس حساب سے شاید پچپن روپے ہی بن جاتے ہوں۔ آکر کار وزیر اطلاعات نے بیان دیا ہے کئی فیقے کوچوان نے بات نہیں کی۔
میں جہاں تک اس معاملے کو سمجھا ہوں تو بات کچھ یوں ہے کہ ہمارے سیاست دان اس معاملے میں  بالکل سچے ہوں گے بھلا کوئی اُن سے مہنگی چیزیں فروخت کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔۔۔ مجھے نہیں لگتا۔
آزادکشمیر کے ایک صدر صدارتی الیکشن جیتنے کے چھ ماہ بعد اپنے آبائی علاقے کا دورہ فرمانے جا رہے تھے۔ راستے میں  انہوں نے اپنے ڈرائیور سے کہا: بھئی! یہ تو ماننا پڑے گا کہ ہماری حکومت نے بے پناہ ترقیاتی کام کروائے ہیں۔ ہماری حکومت آنے سے پہلے جب بھی میں اس سڑک سے گزرتا تھا گاڑی کو اتنے ہچکولے لگتے تھے کہ چکر آنے لگتے تھے اور چند گھنٹوں کے سفر کی تھکان اتنی ہوتی تھی کہ ایک دن مکمل آرام کرنا پڑتا تھا لیکن آج دیکھو لگ ہی نہیں رہا کہ اُسی سڑک پر سفر کر رہے ہیں ۔ سفر ختم ہونے کو ہے لیکن میں بالکل فریش ہوں۔ اس پر ڈرائیور نےکہا: سر! بات کچھ یوں ہے کہ یہ سڑک کا کمال نہیں گاڑی کا کمال ہے۔اگر آپ ابھی کسی عام گاڑی میں بیٹھیں گے تو آپ کو اتنے ہی جھٹکے لگیں گے۔ سڑک نے ترقی نہیں کی گاڑی نے ترقی کی ہے۔۔۔اور ہمارے حکمرانوں کی بھی گاڑیاں ہی ترقی کر رہی ہیں۔سڑک اور سڑک کے آس پاس والی مخلوق کے شب و روز اسی پریشانی میں گزر رہے ہین جس میں کل تھے۔ پچپن روپے کا ہیلی کاپٹر کا سفر ہو، ایک روپے کی روٹی ہو، پانچ رپے کلو آلو ہوں یا پھر طویل آرام دہ سفر۔۔۔حالات بہتر ہوئے تو حکمرانوں کے۔۔۔تبدیلی آئی تو اُن کے لیے۔۔۔۔۔عوام کل بھی پِس رہےتھے آج بھی پس رہے ہیں۔

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *