تھر کے بچے اور سندھ حکومت۔۔۔۔قمر نقیب خان

مٹی کی چار دیواری جس پر صحرائی گھاس رکھ کر جھونپڑی بنائی گئی ہے، رات کا تیسرا پہر ہے اور اس چھپر کے ایک کونے میں ماں اپنے تین سالہ بچے کو گود میں لیے بیٹھی خلا میں گھور رہی ہے، اس کے ہونٹ دعا میں ہل رہے ہیں “یا اللہ، میرے بچے کی موت آسان کر دے”. اس ماں کے ان الفاظ نے عرش ہلا دیا ہو گا، میں نے یہ الفاظ سنے تو میری ٹانگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا، میں اپنے ہی قدموں پر گر پڑا۔۔۔ماں خود بھی چار دن سے بھوکی تھی لیکن اس وقت اسے صرف اپنے بچے کی فکر تھی، بچہ بھوک سے دو دن تک روتا رہا تھا، پھر اس پر بےہوشی کی سی کیفیت طاری ہو گئی، سورج ڈھلنے پر بچے کے جسم میں آخری بار حرکت ہوئی تھی. دور کہیں سے  اذان کی آواز آئی اور اس کے ساتھ ہی بچے کی روح بھی پرواز کر گئی..
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو۔۔؟

ضلع تھرپارکر کے ہر گوٹھ کی یہی کہانی ہے، روہی راڑو، گولیو، مورانو، کیہڑی، تانیلو، گنگا لچ، سگروڑ، تانیلی، ڈاندو بھیل اور وہیلنجا کے ہر گھر میں ایک ایک لاش پڑی ہے.. پچھلے دس سال میں یہاں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے. بھوک اور افلاس کی وجہ سے خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، لوگ بچوں سمیت اندھے کنؤیں میں چھلانگ لگا دیتے ہیں، درختوں پر جھول جاتے ہیں. سرکاری اعداد و شمار (جوکہ ہمیشہ کم بتائے جاتے ہیں) کی بات کی جائے تو پیپلز پارٹی حکومت کے آخری تین سال میں 469 بچے مارے گئے جن کی عمر پانچ سال سے کم تھی، 2010ء میں 140، 2011ء میں 195، 2012ء میں 134 اور 2013 میں 130 بچے ہلاک ہوئے، اس تمام عرصے میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سید مراد علی شاہ صاحب نوٹس پر نوٹس لیتے رہے.. تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے 2014 میں ایک عدالتی کمیشن بنایا گیا، بلاول بھٹو زرداری نے نوٹس لے لیا 2015 میں دوسرا عدالتی کمیشن بنایا گیا، دونوں کمیشنوں کی رپورٹس بھاڑ میں پھینکتے ہوئے 2016 میں ایک اور عدالتی کمیشن بنا دیا گیا لیکن کسی بھی عدالتی کمیشن کی رپورٹ پر کسی بھی قسم کا کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا. پچھلے سال 2017 کے پہلے دو مہینوں میں 81 بچے لقمہ اجل بنے.. بچے کھچے لوگ مٹھی، بدین، سانگھڑ، میرپور خاص اور دیگر شہروں کو نقل مکانی کر گئے.

حکومتی اداروں اور تنخواہ دار دانشوروں کا کہنا ہے کہ تھر میں قحط پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اموات واقع ہوتی ہیں. حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، اگر چالیس ہزار ٹن گندم افغانستان تک مفت پہنچائی جا سکتی ہے تو پھر کراچی سے محض چھے گھنٹے کی مسافت پر واقع ضلع تھرپارکر تک خوراک پہنچانا کونسا مشکل کام ہے؟ حق بات تو یہ ہے کہ صوبہ سندھ پر مسلسل چالیس سال حکومت کرنے والی پیپلزپارٹی ہر سال سندھ فیسٹیول کے نام پر کروڑوں روپے ناچ گانے پر لگا دیتی ہے، سال بھر کی حکومتی عیاشی پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن ان بچوں تک روٹی پانی نہیں پہنچایا جاتا. تھر باسیوں کو میٹھا پانی سال میں ایک بار ملتا ہے جب بارش ہوتی ہے، باقی سارا سال گدلا اور مٹیالہ پانی پیتے ہیں. حکومت اور این جی اوز کی طرف سے صرف او آر ایس کے پیکٹ ہی ملتے ہیں. او آر ایس جب اس کھارے مٹیالے پانی میں ملا کر پیا جاتا ہے تو مزید بیماریوں کا ہی باعث بنتا ہے. این جی اوز نے تین سال پہلے بتا دیا تھا کہ خشک سالی کے باعث اگلے سال خوراک کی کمی رہے گی. اگست 2018 میں ڈپٹی کمشنر تھرپارکر غلام قادر بخش جونیجو نے ایک خط حکومت سندھ کو لکھ کر تھرپارکر میں ایمرجنسی بنیادوں پر خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کی سفارشات کیں لیکن حکومت سندھ نے تمام تر گزارشات و سفارشات پس پشت ڈال دیں. اسی لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ پچھلے دو ماہ میں پچاس سے زائد بچے مر چکے ہیں.

حکومتی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ضلع تھرپارکر کے کاغذات میں ساڑھے تین سو ڈسپنسریاں ہیں لیکن زمین پر انکا وجود برائے نام ہی ہے. دو سو پینتالیس ڈسپنسریاں بھوت بنگلہ بنی ہوئی ہیں. کسی کی دیوار نہیں تو کسی کی چھت نہیں، کہیں جانور بندھے ہیں تو کہیں منشیات فروشوں کا قبضہ ہے. بقایا سو ڈسپنسریوں میں نہ ادویات ہیں نہ سہولیات رہی سہی کسر کرپشن سے نکل جاتی ہے. حقیقت تو یہ ہے کہ اگر سندھ حکومت کام کرنا چاہتی تو دس سالہ دور حکومت میں بہت کچھ کر سکتی تھی. آگے بھی پانچ سال پیپلزپارٹی کے پاس پڑے ہیں. تھر اور چولستان کے یہی صحرا انڈیا کے پاس بھی ہیں لیکن انڈیا نے اپنے راجستھان کو بہت بہتر کر لیا ہے. جودھ پور، بیکانیر، جےپور اور جیسلمیر کی جھیلوں کو بڑا کیا گیا ہے، نہریں اور کاریزیں بنا کر پانی دور دراز علاقوں میں پہنچایا گیا ہے. بارشیں نہ ہونے اور قحط سالی کی صورت میں ڈیموں سے پانی استعمال کیا جاتا ہے. انڈیا نے ڈیزرٹیفیکیشن سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت ماسٹر پلان بنائے، کنونشن اور پروگرام منعقد کروائے، دیہاتیوں کو تربیتی کورس کرائے گئے. آج راجستھان انڈیا کی سیاحت میں چوتھے نمبر پر آتا ہے اور سالانہ کروڑوں ڈالر زرمبادلہ کما کر دیتا ہے. ابوظہبی، دبئی اور شارجہ نے اپنے صحراؤں کو ہمارے شہروں سے بھی بہتر بنا لیا. آج دبئی دنیا کا فنانشل حب ہے، دنیا کا نمبر ون ائیر پورٹ دبئی میں ہے، سب سے زیادہ فلائیٹس دبئی میں ہیں. دبئی کا ونڈر پارک دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے، صحرا کے بیچوں بیچ دنیا بھر کے پھول دیکھ کر انسان واقعی حیران ہو جاتا ہے.

پاکستان میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں، ضرورت ہے تو صرف ایمانداری سے کام کرنے کی لیکن ہمارے حکمرانوں کو اپنی تجوریاں بھرنے سے ہی فرصت نہیں. آصف علی زرداری کو پوری پیپلزپارٹی میں کوئی قابل آدمی نظر نہیں آتا، اپنی بہن عذرا پیجو کو وزیر صحت بنا رکھا ہے. عذرا بی بی نے پچھلے دنوں بیان جاری کیا تھا کہ تھر میں بچوں کی اموات کی زمے دار ان کی مائیں ہیں. عام طور پر عذرا بی بی کا کام مہینے میں ایک بار ایک بچے کو قطرے پلا کر پولیو مہم کا آغاز کرنا ہوتا ہے.

بھوک پھرتی ہے میرے ملک میں ننگے پاؤں
رزق ظالم کی تجوری میں چھپا بیٹھا ہے..!

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *