مردار پر تکبیر کی چھری۔۔۔۔حسنین اشرف

انعام رانا بھائی کی تحریر دیکھی ، دل تو تھا کہ مکمل تحریر لکھی جائے اور بصد احترام اختلاف کی جسارت کی جائے۔ لیکن وقت کی کمی کی باعث مختصراَ چند باتیں عرض کرکے اجازت چاہوں گا۔ میں منطق و فلسفہ کی رو سے یہ نہیں بتانا چاہوں گا کہ جو احباب نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ کتنی نامناسب ہے۔ آئیے آ پ ڈائری کا ایک ورق دکھاتا ہوں۔ یہ سات ستمبر کے دن کو لکھی گئی سطر، سپاٹ صفحہ، بس ایک سطر۔

Declared Non-Muslims; cannot cope

یہ ڈاکٹر عبدالسلام کی ڈائری ہے۔ صفحہ خالی، لیکن سطر سطر کرب بیان کر رہی ہے۔یہ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ محمدرسول اللہﷺ کا دست شفقت چند لوگوں نے ایک بند کمرے میں بیٹھ کر ہمارے سروں سے صرف اس لئے ہٹا دیا  کہ ہم جس طرح سوچتے ہیں اس طرح وہ نہیں سوچتے۔

آپ اندازہ کیجیے اس کرب کا، آپ نہیں کرسکتے۔ آئیے مثال سے سمجھتے ہیں، میں راہ چلتے ایک شخص سے کہتا ہوں کہ فلاں شخص تمہارا باپ نہیں ہے۔ اب اندازہ کیجیے، کرب کا۔ آپ نے ایک گروہ سے شناخت چھین لی ہے۔ آپ کو اندازہ بھی ہے ظلم کا۔ایک مثال جو بار بار دی جاتی رہی، آج کے درس میں استاد نے بھی  اسی سے ملتی جلتی مثال کا تذکرہ کیا جیسی انعام بھائی نے اپنی تحریر میں دی۔ بارہا عرض کیا جاچکا ہے کہ یا تو ثابت کیجیے  کہ دین آپ کی جاگیر ہے یا استاذ کے الفاظ میں آپ کی اجارہ داری ہے یا پھر اس کفر کفر کےکھیل سے دستبرداری کا اعلان فرمائیے۔ آپ کی فرم تو آپ کی ملکیت ہوئی، کیا مذہب بھی آپ کی ملکیت ہے کہ کسی دوسرے نے آپ کی مِلک کو چھینا تو آپ چیخ پڑے؟ یعنی صرف  کلمہ پڑھ لینے سے دین صرف میرا اور رسول صرف میرا کیسے ہوجاتا ہے۔ یہ حق آ پ کو کس نے دیا ہے کہ خدا کی جگہ بیٹھ کر فیصلے کریں یا خدا کے رسول کی جگہ بیٹھ کر فیصلے کریں کہ ان کے دین و مذہب  کا فیصلہ کریں کہ کون نام رکھ سکتا ہے یا نہیں؟

آخر میں، بس عرض یہ ہے کہ میں کون کہ کسی کو تکفیر سے روک سکوں۔ بس اتنا کیجیے کہ مردار پر تکبیر کی چھری پھیرنے کے بعد عقلی   دلائل سےحلال مت ثابت کیجیے!

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *