جو دکھتا ہے، وہی بکتا ہے( سٹریس ویکسین سیریز)قسط4۔۔عارف انیس

سٹریس میں آپ کیا سوچتے /سوچتی، دیکھتے/دیکھتی ہیں؟
جب آپ کو کسی چیز پر توجہ دینے میں مسئلہ درپیش آئے، یادداشت جواب دیتی نظر آئے، زندگی اور اپنے متعلق اور ارد گرد کے لوگوں کے بارے میں زیادہ تر منفی خیالات آنے لگیں، کوئی پریشان کُن خیال مسلسل چمٹ جائیں اور دماغ میں چکر کھاتا رہے، دل گھٹنا شروع ہو جائے، اپنے اوپر اور زندگی پر اعتماد گرتا ہوا محسوس ہو، ایسا لگے کہ ہر وقت کسی خوف یا درد کے حصار میں ہیں، جسم کے مختلف حصوں میں درد اور تناؤ محسوس ہو، سونے میں دشواری پیش آئے یا ہر وقت سونے کو دل کرے، تنہائی میں رچاؤ محسوس ہو، اور زندگی کی ناؤ اچھلتی کودتی لہروں کے بہاؤ میں ہچکولے کھاتی محسوس ہو۔

یہی نہیں مزید جسمانی علامات بھی موجود ہوسکتی ہیں۔ نظام ہضم بطور خاص متاثر ہوسکتا ہے، جسم بھاری اور ڈھیلا محسوس ہوسکتا ہے، متلی کی کیفیت بھی پائی جاسکتی ہے، دل کی دھڑکن تیز تر ہوسکتی ہے، بھوک نہ لگنے یا بے تحاشا بھوک محسوس ہونے کی علامات بھی دیکھی گئی ہیں۔
سٹریس کے بیرونی عوامل میں زندگی میں آنے والے بحران شامل ہیں، جذباتی رشتوں میں اتار چڑھاؤ، مالی پریشانیوں میں مبتلا ہونا، قریبی خاندان کا کسی بحران میں مبتلا ہونا، بہت زیادہ مصروفیات کا شکار ہوجانا اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جانا، سب سٹریس کی ٹیاؤں ٹیاؤں کا بٹن دبا سکتے ہیں۔
سٹریس کے اندرونی عوامل جو آپ کی اپنی ذات سے وابستہ ہیں ان میں منفی سوچ، غیر یقینی حالات کا سامنا نہ کرسکنا، اپنے آپ کے ساتھ مسلسل منفی گفتگو، زندگی اور گرد وپیش موجود لوگوں سے غیر حقیقی توقعات، ضدی پن وغیرہ شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ خاندان میں کوئی قریبی عزیز فوت ہو جائے، میاں بیوی میں سے کوئی دم توڑ دے، رشتہ ختم ہوجائے اور علیحدگی یا طلاق وغیرہ ہوجائے، کوئی لمبی یا موذی بیماری ہوجائے، شادی شدہ زندگی بحران کا شکار ہو جائے، ملازمت وغیرہ ختم ہو اور کھانے پینے، نان نفقے کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہو، کسی ایک ملک سے دوسرے ملک جانا پڑ جائے، حتیٰ کہ ریٹائرمنٹ کا موقع آجائے تو اس سے بھی سٹریس کے دریا میں طغیانی آجاتی ہے۔

سٹریس کے تمام معاملات سوچ سے شروع ہوتے ہیں۔ یہی سوچ آپ کی پرسیپشن اور تصورات کا منبع بنتی ہے۔ پہلے بھی بیان کیا کہ انسانی سوچ یا تصور میں بڑی طاقت ہے۔ دماغ کا باہر والا بڑا حصہ جو سیریبریم کہلاتا ہے، ہماری سوچوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ بایاں حصہ ہمارے جسم کے دائیں حصے، اور دایاں حصہ بائیں کو قابو میں رکھتا ہے۔

سوچ میں بڑی طاقت ہے اور یہی طاقت، اگر قابو سے باہر ہو جائے تو بند توڑ سیلابی کیفیت سے دوچار کرسکتی ہے۔ سوچ، آپ کے تصورات کی ماں ہے۔ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کے ارد گرد موجود لوگ بہت خود غرض ہیں اور وہ ہاتھ دھو کر آپ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، آپ کو دھوکہ دیا جارہا ہے، آپ کے خلاف سازش کی جارہی ہے، تو آپ کا سٹریس کا نظام اسی سوچ کے حساب سے کام کرے گا، چاہے آپ کی سوچ سو فیصد غلط ہو۔

اس ساری گفتگو میں جو ایک سب سے قیمتی بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کا دماغ کا سوچنے والا حصہ جو کچھ سوچتا ہے، دماغ کا یقین کرنے والا حصہ، اس ہر ایمان لے آتا ہے، یوں جو آپ سوچ، سمجھ رہے ہیں، وہی آپ جو نظر آنا اور سنائی دینا شروع ہوجاتا ہے۔

آپ یقیناً ہڑبڑائیں گی /گے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ آپ کا دماغ ایک خود غرض مشین ہے۔ ہزاروں سال کے سفر میں دماغ نے یہ سیکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دیر زندہ رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جس جسم میں یہ دماغ موجود ہے، اسے بچا لیا جائے اور تمام تر خطرات سے امان میں رکھا جائے۔ جیسے اس امر پر پہلے بات ہوچکی ہے کہ یہ سٹریس کے نظام کی خوبی بھی اور خامی بھی۔ خوبی اس لیے کہ خطرے کی صورت میں فورا ہوٹر بجا کر آپ کو یہ ٹریفک سے نکال لے جاتا ہے۔ خامی اس وقت، جب خطرہ موجودہ نہ ہو، لیکن ہوٹر بجنا شروع ہو جائے اور زندگی کی ٹریفک درہم برہم ہوکر رہ جائے۔

ماہرین نفسیات، نیورولوجسٹس اورسائنس دانوں نے دماغ پر سیکڑوں تجربات سے کچھ نتائج اخذ کیے ہیں۔ دیکھا گیا کہ بھونکتا ہوا کتا، بھاری بھرکم مکڑی، یا اسی طرح کی کوئی اور خطرناک چیز، جب دماغ میں سوچی گئی تو اس نے جسم پر اسی طرح کے اثرات مرتب کیے جیسے وہ حقیقی خطرہ ہو۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ سازش ہورہی ہے، لوگ آپ کے تعاقب میں ہیں اور دشمن وار کرنے والا ہے، تو اگر یہ سب کچھ وہم بھی ہو تو پھر بھی آپ کے جسم میں سٹریس ہارمون کی لہر آجائے گی اور جسمانی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ آپ کا دماغ آپ کو خطرے میں دیکھ کر فوری طور پر آپ کو محفوظ مقام تک لے جانے کی کوشش کرے گا اور جسم میں بھونچال آجائے گا۔

اگر آپ کو یہ بات سمجھنے میں مزید آسانی چاہیے تو اربوں ڈالر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور فلموں کا تصور کیجئے۔ آپ کو معلوم ہے کہ فلاں اداکارہ یا اداکار نے کروڑوں روپے لے کر یہ کردار ادا کیا ہے، مگر آپ اس بالکل من گھڑت ڈرامے کو سچا سمجھتے ہیں اور کہانی کے ساتھ ساتھ آپ کا دل ڈوبتا ہے، ابھرتا ہے، آپ مٹھیاں بھینچتے ہیں، کرداروں سے محبت یا نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، کبھی ان کے ساتھ نعرے لگاتے ہیں، کبھی ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور کبھی ان کی خوشی میں آپ کا دل رقصاں ہوجاتا ہے۔ آج کل ارطغرل کا فسانہ چھایا ہوا ہے اور اگر آپ کشتگان ارطغرل ہیں تو آپ ان سبھی کیفیات سے گزر چکےہوں گے۔ بس سمجھ لیں کہ جب آپ کے دماغ کا دل کرتا ہے وہ حقیقی زندگی میں بھی ایسا ہی سیریل پردہ سکرین پر چلا دیتا ہے اور آپ جو کچھ سکرین پر دیکھتے ہیں، اسی کے حساب سے ردعمل دینے لگتے /لگتی ہیں، اور یہیں معاملہ گڑبڑ ہوجاتا ہے۔

چلیں ایک اور تجربہ کرتے ہیں، آپ چونکہ یہ سطور پڑھ رہے ہیں تو آپ اس تجربے کو پڑھنے کے بعد اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ یوں تو کافی گھسا پٹا تجربہ ہے اور ہوسکتا ہے آپ اس میں پہلے بھی شامل رہ چکے ہوں۔ اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ یہ سطور بول دے اور آپ کی آنکھیں بند ہوں تو زیادہ اچھا ہے۔ یہ لیموں نچوڑ ورزش ہے۔
“آنکھیں بند کر کے جسم ڈھیلا چھوڑ دیں۔ دو تین گہرے سانس لیں اور تصور کریں آپ اپنی پسند کے ہوٹل کی لابی میں موجود ہیں۔ آس ہاس خوب چہل پہل ہے، لوگ رنگ رنگ ملبوسات میں گھوم رہے ہیں۔ لابی میں پیانو بجنے کی مدھر آواز آپ کے کانوں سے ٹکراتی ہے۔ آپ کی پسندیدہ دھن بج رہی ہے۔ آپ ایک گول شیشے کی میز کے سامنے ایک آرام دہ سنہری رنگ کی کرسی ہر بیٹھے/بیٹھی ہیں۔

تھوڑی دیر میں سفید وردی میں ملبوس ایک ویٹرس چہرے پر مسکراہٹ سجائے آپ کی طرف بڑھتی ہے۔ آپ  اُسے لیمونیڈ کا آرڈر دیتے ہیں کہ آپ کو اس ہوٹل کا لیمونیڈ بہت پسند ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ویٹرس چاندی کی ٹرے میں لیمونیڈ کا یخ گلاس لے کر آتی ہے تو اس میں تروتازہ، کٹے ہوئے لیموں کی تین پھانکیں موجودہ ہوتی ہیں۔ آپ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ٹھنڈا ٹھار گلاس اپنے ہاتھ میں اٹھاتے/اٹھاتی ہیں۔ لیکن پہلا سپ لینے سے بیشتر ایک خیال آتا ہے۔
“کیسا تازہ کٹا ہوا لیموں ہے۔ کچھ چکھنا چاہیے” ۔

یہ سوچ کر آپ ٹرے میں سے لیموں کی ایک بڑی پھانک اٹھاتے /اٹھاتی ہیں اور منہ کے قریب لا کر جبڑا کھولتے /کھولتی ہیں۔ پھر لیموں کو مزید اوپر اٹھاتے ہوئے لیموں کو زور سے نچوڑتے /نچوڑتی ہیں۔ ایک دھندلی، کھٹی، کھٹیلی، رسیلی تازہ لیموں کی دھار آپ کے منہ میں پڑتی ہے اور آپ کو مزہ آجاتا ہے ”
99 فیصد پڑھنے والے یا سننے والے اس لیموں کو اپنے منہ میں محسوس کررہے ہیں ہوں گے۔ یہی نہیں آپ کے منہ میں بعینہ وہی لعاب پیدا ہو چکا ہے کو اصلی لیموں کے اثر سے جنم لیتا ہے، جبکہ یہ سارے کا سارا اثر محض ایک خیال اور تصور کی بدولت ہے، لیکن اس کا سوفیصد جسمانی اثر آپ کے سامنے ہے۔
ہارر موویز اور پورن موویز آپ کے تصور کی طاقت کی ایک اور بڑی مثال ہیں جن کے اثرات جسمانی طور پر مرتب ہوتے ہیں۔

چلیں، اب پتہ چل گیا کہ محشر خیال نفسیاتی اور جسمانی بھونچال کا ذمہ دار ہے تو آگے کیا، کیا جائے؟ اگلی قسط میں آپ کو اس جن /دیو کو چراغ میں بند کرنے کا فارمولا شیئر کرتے ہیں، آزمائش شرط ہے۔
( مصنف کی زیر تعمیر کتاب “صبح بخیر زندگی” سے اقتباس )

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *