حکمت/ علم مومن کی میراث ہے۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

ترمذی اور ابنِ ماجہ سے نہایت ضعیف درجے اور ایک متروک راوی کی ایک مرفوع روایت ہے جس کا اردو ترجمہ یوں ہے کہ حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے، جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ [سنن الترمذی/ ابواب العلم (حدیث نمبر 2687)؛ سنن ابنِ ماجہ/ کتاب الزہد 15 (4169)] اس کا خلاصہ یہ کیا جاتا ہے کہ حکمت/علم مومن کی میراث ہے۔

میں جب بھی اس جملے کو سنتا ہوں تو بہت سی باتیں ذہن پر ہجوم کر دیتی ہیں۔ اس جملے کا تجزیہ کریں تو پہلی اور اہم ترین، منطقی بات یہ سامنے آتی ہے کہ حکمت (جس سے مراد یہاں علم لے لیجیے) کہیں اور تھی جو مومن کو میراث میں ملے گی (یا ملی ہے یا ملنی چاہیے)۔ مومن اگر کوشش کرلے گا تو اسے ضرور مل جائے گی (یا مل جانی چاہیے)۔ مطلب یہ کہ حکمت مومن کے پاس موجود نہیں ہے اور اس کے حاملین مومن نہیں ہیں۔ اس بات کی تفلیم ذرا توجہ مانگتی ہے۔ آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔

چار مرتبہ برطانیہ عظمیٰ کے وزیرِ اعظم رہنے والے نہایت قابل سیاستدان Sir William Ewart Gladstone قرآن کو ایک accursed book کہتے تھے اور ایک مرتبہ انھوں نے پارلیمان میں قرآن اٹھا کر کہا تھا کہ So long as there is this book there will be no peace in the world.۔ سر گلیڈ سٹون کا انتقال 1898 میں ہوا اور وہ آخری بار 1894 میں برطانوی پارلیمان میں رہے۔ یعنی یہ جملہ اس وقت کا ہے جب مسلمان ابھی بیشتر پرامن تھے اور ابھی کسی جنگ برائے امن قسم کی جنگِ مسلسل کا حصہ نہ بنے تھے۔ اس وقت میں ایک نہایت پڑھے لکھے اور حیثیت دار سیاستدان کا جس کے زیرِ نگیں دنیا کے 67 ممالک تھے، یہ جملہ کہنا غیر معمولی بات ہے۔

ذرا غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن ایام میں سر گلیڈ سٹون نے یہ بات کہی اس سے کوئی 300 سال پہلے سے انگریز (مراد غیر مسلم) بڑی توجہ سے قرآن اور دیگر مسلم مذہبی متون (حدیث و فقہ) کا مطالعہ کر رہے اور اپنا حاصلِ مطالعہ شائع کرا رہے تھے۔ اہلِ علم و نظر ان مطالعات کی علمی حیثیت اور اشاعتی تفصیلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ چنانچہ یہ جملہ مسلمانوں کی کسی فوری سیاسی سرگرمی یا حادثے کا ردِعمل نہ تھا بلکہ ایک بامطالعہ وسیع النظر حیثیت دار سیاستدان کی سوچی سمجھی علمی رائے تھی جس کا اظہار وہ پارلیمان میں اکثر کیا کرتا تھا۔

فہیم اور قابل غیر مسلموں نے قرآن اور دیگر مسلم مذہبی متون سے اپنے 300 سال سے زائد کے مطالعات میں جو کچھ اخذ کیا وہ ان کے علمی و عملی میدانوں میں زندہ نظر آنے لگا۔ برائے گفتگو یہاں صرف ایک مثال کافی رہے گی کہ انگریزی کا ایک محاورہ Sick at heart دراصل قرآن کے فقرے “فی قلوبھم مرض” کا لفظی ترجمہ ہے۔ انگریزی زبان میں اس کے استعمال کی اولین سند 1581 کی ہے۔

موضوع کی طرف آئیے۔ غیر مسلموں کی وہ کتابیں اور علوم (Disciplines) جنھوں نے دنیا میں انقلاب برپا کیا ہے اور آج چہار دانگِ عالم میں جن کا جائزہ شہرہ اور وقار ہے ان میں قرآن جیسی کتابِ حکمت اور دیگر مسلم مذہبی متون کے بلاواسطہ اثرات بہرحال موجود ہیں جن سے کسی کو انکار نہیں۔ پڑھے لکھے قابل غیر مسلموں نے اس حکمت کو اپنی اور اہلِ دنیا کی بھلائی کے لیے استعمال کیا اور دنیا پر برتری پالی۔ اگر آج مسلمان کہیں دیکھتے ہیں کہ ان کے مذہب کی اچھی اور کارآمد باتیں دنیا بھر کے عصری علوم و فنون میں کہیں کہیں جھانکتی نظر آتی ہیں تو یہ کسی نہ طور ان غیر مسلموں کے بڑوں کے علمی مطالعات ہی کا ثمر ہیں۔ مثال لیجیے کہ جب دنیا میں سوشل ازم جیسے نظام کا غلغلہ اور چلن ہوا تو اسلامی تعلیمات سے اس کے مماثلات کی ایسی کثرت اور کیفیت ہوگئی کہ “اسلامی سوشل ازم” کی اصطلاح تک ایجاد ہوگئی اور کئی قابل مسلمان اس نظام کے داعی و خواہاں بھی ہوگئے۔ یہ سب کیا تھا؟ واضح بات ہے کہ قرآن اور دیگر اسلامی متون کے مطالعات کے اثرات تھے جو سوشل ازم کی بنیاد میں کسی نہ کسی طور موجود تھے۔

الحاصل آج جہاں کہیں کوئی اچھی علمی بات یا اچھی علمی و عملی ترتیب غیر مسلموں کے علمی، انتظامی، قانونی یا دیگر شعبہ ہائے زندگی میں نظر آتی ہے تو اسے صرف اس لیے برا جاننا یا مسلمانوں کے لیے ضرر رساں سمجھنا کہ یہ غیر مسلموں کی لکھی یا چلائی ہوئی ہے، نہایت درجہ کی غفلت اور بے اکرامی ہے، اور مندرجہ بالا حدیث کی ظاہر بظاہر مخالفت و تخفیف ہے۔ یاد رہنا چاہیے کہ اس حدیث کے متن کے مطابق حکمت مومن کے پاس نہیں ہے اور میراث ہی میں ملے گی۔ خدا سمجھ دے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *