میرا تجسس مجھے خوبصورت بناتا گیا۔۔۔خالد حسین مرزا

ٹھہراو سمندر کے بہتے ہوئے واٹر فال کی مانند ہے۔ بہت ہی مشکل سے اپنے اندر لانے کی کوشش کر رہا ہوں، مگر اب بھی بہت  سی مشقیں درکار ہیں۔ کبھی وہ وقت تھا جو بہتے ہوئے پانی کی طرح لگتا تھا کہ  گزرے  جا رہا ہے اور مجھے میری کوششوں کا کچھ صلا نہیں مل رہا، مگر میں اس وقت اس بات سے نا واقف تھا کہ  اس طرح سمندر کے پاس بیٹھے بھی رہو تو مہکتی ہوئی ہوا آپ کے پاس سے گزرتی رہتی ہے۔

ٹھہراو آیا تو کچھ رکنا سیکھا، اور اس بات کا علم ہوا کہ  میں ہر بات کے بارے میں علم نہیں رکھ سکتا، اور اپنی ہی ذات میں تجسس پیدا ہوا کہ  پہلے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو توجہ دے کر بڑی بڑی باتوں کو نظر انداز کرتا رہا ہوں ( مثال   آپ کوئی  اپنی زندگی میں تلاش کر سکتے ہیں)۔

اس کے بعد ہی دل میں کوئی مثبت کام ( جس سے عوام الناس کا فائدہ ہو) سیکھنے کی امنگ پیدا ہوئی اور اپنے کی بورڈ پر اس طرح ٹائپنگ شروع کر دی ، جس طرح پیانو بجا رہا ہوں اور جب مجھے اس پیانو سے نکلے سُر خود سمجھ آنے  لگ گئے، مجھ میں محنت کی چاہ پیدا ہوئی،اور میں سمجھتا ہوں کہ  مجھے وہی محنت خوبصورت بناتی گئی۔
حسن کے پنپنے کی اس وقت دو مثالیں ذہن میں آ رہی ہیں۔ اک تو وہ کچا سا پھول جو اکثر کسی پھل کے مکمل تیار ہونے سے پہلے کمزور سی حالت میں ہوتا ہے۔دوسرا وہ جوکر جو جگلنگ سیکھتے وقت بہت دفعہ ناکامی کا سامنا کرتا ہے، مگر آخر کار جب سیکھ جاتا ہے تو سب اس کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔

پھل جب پک کر تیار ہوتا ہے پھر کیا ہی خوبصورتی کی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ اور جگلر تو ویسے ہی میکڈونلڈز کی رونق  ہوتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *