عامر لیاقت حسین مزید کیا چاہتے ہیں؟۔۔۔شمس الحق نوازش

عامر لیاقت حسین سیاستدان، براڈکاسٹر، شاعر اور مذہبی شخصیت ہیں۔موصوف پاکستانی ذرائع ابلاغ میں جدید فیملی انٹرٹینمنٹ کے بانی ہیں۔ گذشتہ پندرہ برسوں سے انہوں نے خصوصی رمضان نشریات کی روایت ڈالی جسے آج تمام ٹی وی چینل فالو کر رہے ہیں ۔ان کی شخصیت کافی متنازعہ بن چکی ہے کبھی وہ اپنی جعلی ڈگری کی وجہ سے اور کبھی فرقہ واریت پر مبنی بیانات دینے کی وجہ سے زیر عتاب رہتے ہیں ۔اس سے پہلے عدالت میں ان کے خلاف کیس دائر کیا گیا تھا، عدالت میں درخواست گذار نے موقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ٹی وی ٹاک شوز میں مذہب کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے تلوار اور ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا کو   ذاتی مفاد کے لیے بھی استعمال کرتے رہتے ہیں۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین الیکٹرانک میڈیا کو نفرت انگیز تقاریر کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین مذہبی سکالر نہ ہونے کے باوجود فتوے بھی جاری کرتے ہیں جو کہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں واضح کیا تھا کہ بادی النظر میں درخِواست گزار کی طرف سے اُٹھائے گئے نکات  درست ہیں لہذا ان پر پابندی لگائی جاتی ہے، بعد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے پابندی ہٹا دی تھی ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے واضح کیا تھا، عامر لیاقت حسین کو عدالتی پالیسی کے مطابق پروگرام کرنا ہوگا اور اگر انہوں نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی ، اگر موصوف ہمارے احکامات کی پابندی نہیں کریں گے تو ٹی وی پر پروگرام نہیں کرسکیں گے۔

گزشتہ دنوں عامر  لیاقت حسین نے اپنے پروگرام میں جان بوجھ کر فرقہ ورایت کو ہوا دینے کوشش کی اور اپنے پروگرام میں غیر ضروری ایشو کو اٹھا کر اپنی  انا کو تسکین دینے کی کوشش کی ۔موصوف کے اس فعل کو مین سٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔اس سے پہلے ملک کے معروف عالم دین اور رویت ہلال کمیٹی کے چیرمین مفتی منیب الرحمن علماء کرام کو موصوف کے پروگرام میں نہ جانے کا مشورہ دے چکے ہیں ،پتہ نہیں اس کے باوجود علماء کرام ان کے پروگرام میں کیوں شامل ہوتے ہیں؟

لہذا عامر لیاقت حسین کے شر سے بچنے کےلیےتمام مکاتب فکر کے علماء کو  مل کر یہ طے کرنا ہوگا کہ مسلکی چورن بیچنے والے پروگرام میں کوئی عالم دین نہیں جائے گا ، اگر کوئی عالم اس کے فیصلے کے باوجود ان کے پروگرام میں شرکت کرے گا تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہو گا ۔عجیب غریب پروگرام چل رہے ہیں جہاں  چند لوگ مردہ گڑھے کھودنے بیٹھ جاتے ہیں ، صدیوں کے فیصلے گھنٹے کے پروگرام میں طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔علماء اٹل فیصلہ کریں پھر دیکھیں مذہبی چورن بیچنے والے کیسے مجبور ہوجاتے ہیں ؟

مختلف مسالک کے علماء کی پگڑی اچھالنا انتہائی قابل مذمت عمل ہے ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے عامر لیاقت حسین عالم دین نہ ہونے کے  باوجود فتوی کیسے جاری کرتا ہے ؟علماء ان سے پوچھیں اسے یہ اختیار کس نے دیا ہے؟

اس کے علاوہ پیمرا  محرک اور متحرک کردار ادا کرتے ہوئے ایسے پروگرموں پر پابندی عائد کرے جہاں نفرت اور فرقہ واریت کی ترویج کی جا رہی ہو۔عدالت عالیہ حالیہ دنوں میں نشر ہونے والے عامر لیاقت کے فرقہ وارانہ پروگرام کا جائزہ لے کر ان پر پابندی عائد کرے ۔ چند  ناظرین اور شہرت کے پجاری لوگوں کو پروگرام میں بلا کر کر امت میں نفرت و نفاق پھیلانے والوں کی اصلیت عوام کے سامنے لائی جائے ۔ سنجیدہ علماء کرام کو  فیصلہ کرنا ہوگا ایسے پروگرامز امت کےلیے زہر قاتل ہیں ۔ علماء کرام اور ذمہ دار ادارے بروقت اس ایشو کی طرف خصوصی توجہ نہیں دیں گے تو امت مزید انتشار کا شکار ہوجائے گی اور رہتی نسل انہیں کبھی بھی معاف نہیں کر ے گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *