بینظیر انکم سپورٹ پروگرام۔ ایک تاریخی جرم

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2008 میں شروع کیا گیا جو آج نواز شریف کی حکومت میں بھی جاری ہے، کیونکہ اس پروگرام کو جاری رکھ کر یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ یہ حکومت بھی غریبوں کی بہت ہمدرد ہے۔ میں نے یہ مضمون 2013 میں لکھا اور اسی سال یہ شائع بھی ہوا تھا۔ اس مضمون کو دوبارہ شائع کرنے کا مقصد ان لوگوں کو آگاہی دینی ہے جو اس پروگرام کے بارے میں نہیں جانتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرپشن، کرپشن، کرپشن۔ جی ہاں کرپشن پاکستانی سیاستدانوں اورسرکاری اداروں کا سب سے محبوب مشغلہ ہے۔ کرپشن ہمارے ملک میں کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ کرپشن کا کینسرنہ صرف ہمارے سیاستدانوں، سرکاری اداروں بلکہ عام لوگوں میں بھی سرائیت کر چکا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم میں تھوڑے یا زیادہ کرپشن کے جراثیم ضرور پائے جاتے ہیں ۔ کرپشن کی بہت سی اقسام ہیں، مثلاً سیاسی کرپشن ،معاشی کرپشن ، رشوت، اقربا پروری ،دھونس، دھاندلی، زمینوں پر قبضہ، سیاسی اور سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال ، یہ تمام کرپشن ہم روز دیکھتے یا سنتے ہیں۔مگر آج ایک نئے کرپشن پر بات ہوگی اور وہ ہے غریبوں سے ہمدردی کے بہانے لوٹ مار کی کرپشن۔ موجودہ حکومت کے دور میں ا س طرح کے دو کرپشن کیس ہمارے سامنے آئے، ایک پنجاب میں “سستی روٹی اسکیم”جس میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوئی مگر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی بدنامی سے بچنےکے لیے سستی روٹی ا سکیم ختم کر دی اور اعلان کیا کہ اس اسکیم کی رقم سیلاب زدگان کی بحالی پر خرچ کی جائےگی، نہ پنجاب کے لوگوں کو سستی روٹی ملی اور نہ ہی سیلاب زدگان کو امداد، ہاں یہ ضرور ہوا کہ صوبہ کے حکمراں ٹولے کو لوٹ مار کرکے اپنے لیے روٹی اور سستی پڑنے لگی۔سستی روٹی ا سکیم کی کرپشن صرف صوبہ پنجاب تک محدود تھی مگر دوسری کرپشن جس کو “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” کہا جاتا ہے پورے ملک میں 2008 سےجاری ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق اس پروگرام کو 34 ارب روپے سے شروع کیا گیا جبکہ آج اس کا بجٹ 70 ارب روپے ہے۔ 2008-09 میں 35 لاکھ خاندان کی امداد کرنے والا یہ پروگرام 2012-13 میں 55 لاکھ خاندان یعنی پاکستان کی کل آبادی کے 18فیصد اور غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے 40 فیصدلوگوں کی امداد کادعویدار ہے، اسی ویب سائٹ پر ایک وضاحتی خط میں کہا گیا کہ اس پروگرام سے 4 کروڑافرادکوفائدہ پہنچ رہا ہے۔ویب سائٹ کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہررجسٹرڈ خاندان کو 1000 روپےماہانہ کے حساب سے سال میں چار مرتبہ مالی امداد دی جاتی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن محترمہ فرزانہ راجہ کا کہنا ہے کہ”بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب خاندانوں کو خودکفیل بنانے کیلئے اپنی کارکردگی اور سٹریٹیجی مزید بہتر بنائے گا۔ اس پروگرام نے سماجی شعبہ میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے جس نے انتہائی غریب خاندانوں تک رسائی حا صل کرکے ان کے گزر بسر میں مدددی ۔اس پروگرام کے تحت شروع کیے گئے مختلف منصوبوں کی بدولت نہ صرف ملک سے غربت کے خاتمہ میں مدد مل رہی ہے بلکہ غریب اور بے سہارا افراد تعلیم، صحت اور روزگار سے بنیادی مسائل بھی حل ہورہے ہیں”۔

محترمہ بینظیر بھٹو روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کےساتھ حکومت میں آئی تھیں۔ ان کے پہلے دورِحکومت میں”پیپلز پروگرام” چلا جبکہ پیپلز پارٹی کے چوتھی حکومت کےاس دور میں ان کی جماعت کا”بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” چل رہاہے۔ اس پروگرام کوشروع کرتے وقت چند شرائط بھی رکھی گئیں جن کے مطابق اس پروگرام سے غریب اور نادار افراد کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی مستفید ہو سکیں گے جن کی ماہانہ تنخواہ چھ ہزار روپے تک ہوگی جبکہ جو لوگ پنشن لے رہے ہیں یا بیت المال سے مستفید ہو رہے ہیں وہ اس پروگرام میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں۔ پاکستان کی کل آبادی کے 18فیصدیا 4 کروڑ لوگ جن میں خواتین کی اکثریت ہے اس پروگرام سے کس طرح “مستفید” ہورہے ہیں اس کا اندازہ تو کسی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر کے اندر اور باہر کے مناظر دیکھ کر ہی لگایا جاسکتا ہے،جہاں سینکڑوں مردو خواتین تپتی دھوپ اور ٹھٹھرتی سردی میں سرکاری ملازمین سےاپنی عزت کا جنازہ نکلواتے ہیں اور جہاں عورت ذات کے تقدس،پاکیزگی،نسوانیت اور حرمت کو بری طرح پامال کیا جاتا ہے۔

کیا تین ماہ بعد تین ہزار روپے سے ایک غریب خاندان کےگھرکا چولہاجل سکتاہے، کیا وہ بجلی کا بل ادا کرسکتا ہے؟ جس ملک میں اوسطِ پانچ افرادکے ایک متوسط کنبے کا کسی طورپر بھی اتنی مہنگائی کے عالم میں جس میں گھرکا راشن،بجلی،گیس،پانی کے بل، سفری اخراجات،تعلیم اور بیماری کے اخراجات، پھر پیدائش اور موت پچیس یاتیس ہزار روپے ماہانہ سےسے کم نہ ہواور جس میں حکومت کے مطابق 34فیصد اور ورلڈ بنک کے مطابق64فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے رہتے ہوں، بے روزگاری کی شرح حکومت کے مطابق 12فیصد اور حقیقی طور کئی گنا زیادہ ہو، وہاں غربت،افلاس اور پسماندگی کا حل روزگار کے وسائل پیدا کرنے سے ہوتا ہے، نام نہاد انکم سپورٹ پروگرام کے ذ ریعےبھیک یا خیرات سے مسئلے حل نہیں ہوتے ہاں کرپشن کرکےاپنے مفادات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ امداد ان ممالک میں لوگوں کو دی جاتی ہے جہاں ایک دو فیصد اس کے حقدارہوتے ہیں اور وہ محتاجی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ غیرملکی امداد سے چلنے والےاس نام نہاد انکم سپورٹ پروگرام میں کچھ لوگوں کی غربت کم ہوئی ہے اور یہ لوگ اس پروگرام کو چلانے والے ٹھیکے دار ہیں جن کو صرف فارم پرکرنے کی مد میں چار ارب روپے کی خطیر رقم مل چکی ہے، باقی معاوضہ علیحدہ سے ہے۔ اگر جعلی ناموں اور فرموں والے ان ٹھیکے داروں نے اتنا مال کمایا ہے تو پھر کرپشن میں ڈوبے ہوئے حکمراں ٹولےنے اس کرپشن کے دریا میں کتنا غسل کیا ہوگااس کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔

اس پروگرام سے کتنی غربت کم ہوئی اس کا اندازہ سوشل پالیسی اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر کی ایک رپورٹ سے ہوتا ہے، رپورٹ کے مطابق پچھلے چھ سال سے پاکستان میں مزید ایک کروڑ اسی لاکھ لوگ غربت کی لکیرسےنیچےجاچکے ہیں ۔آج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 70ارب روپے رکھےگئے ہیں پھرکیا وجہ ہے ہر سال تیس لاکھ پاکستانی مزید غریب ہوجاتے ہیں۔ اگرمختلف سطحوں پر ہونے والی بدعنوانی اور اس ذلت کو فراموش کربھی دیا جائے جو اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والی مردوخواتین اور غریب لوگوں کا مقدر بن چکی ہےتب بھی ایک خاندان کو ملازمت یا روزگار کا موقع دینے کی بجائے ایک ہزار روپے ماہانہ دے کر یہ سمجھ لیا جائے کہ اس سے غربت کم ہورہی ہے ایک احمقانہ سوچ ہے۔ غربت میں کمی صرف اسی وقت ہوسکتی ہے جب غریبوں کےمفادات پر مبنی پالیسی بنائی جائیں اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔جاگیرداروں اورسرمایہ داروں کے مفادات کے لئے چلائے جانے والے نظام میں غریبوں کو صرف ذلت آمیز بھیک ہی دی جاسکتی ہے۔حکمران طبقہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لوگوں کی نفسیات کوبدلنا چاہتا ہے تاکہ لوگ ہاتھ پھیلانے،بے چارگی،خود ترسی اور خود کو لاچارو بے کار اوربھیکاری سمجھ کر دوسروں پر انحصار کریں ۔ بھکا ری اور کرپٹ حکمرانوں کی یہ پالیسی ایک تاریخی جرم ہے ،جس پراگر آج نہیں تو کل کا تاریخ داں ضروراسکوایک تاریخی جرم کے طورلکھےگا ۔

یہ مثال تو آپ نےسنی ہوگی،”مرے پر سات درے” بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے اس مثال پر پورا پورا عمل ہورہا ہے۔ جرائم پیشہ لوگ ان ضرروتمند غریبوں کو لوٹ رہے ہیں جو اس پروگرام میں شامل ہیں یا شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ پاک پتن کے چک 73 میں دو افراد نے مسجد میں اعلان کروایا کہ بینظیر انکم سپورٹ اسکیم میں جن لوگوں کو رقم نہیں ملی فی کس 200 روپے رقم جمع کروائیں، 50 لوگوں نے درخواستیں جمع کروائیں ، نوسرباز بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر 10 ہزار روپے لے کر رفو چکر ہو گئے۔ خیبر پختونخوا میں صوبے اور قبائلی علاقوں کے لیے 72 ہزار لوگوں کے لیے امدادی رقم بھیجی جاتی ہے ۔ ہزاروں افراد تک یہ رقم نہیں پہنچتی، متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے نام پر کوئی اور رقم وصول کر لیتا ہے اور انہیں آج تک ایک روپیہ بھی نہیں ملا ،نیب حکام کے مطابق ابتدائی تحقیق میں کروڑوں روپے کے گھپلے ہوئے ہیں اس میں جی پی او جنرل پوسٹ آفس پشاور اور دوسرے پوسٹ آفسز کے عملے کی ملی بھگت سے یہ گھپلے ہو رہے ہیں ۔ کچھ افراد نے ڈسکہ و گردو نواح کےلوگوں کو بینظیر انکم سپورٹ اسکیم کے نام پر غلط میسج کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں تحریر کیا ہو تا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ سروے کے تحت آپکو 25ہزار رو پے مبارک ہوں جس سے میسج پڑھنے والاخوشی سے پھولا نہیں سماتا اور جب یہ لوگ متعلقہ فون نمبر پر رابطہ کر تے ہیں تو دوسری جانب سے ایزی لوڈ کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے، ایزی لوڈ کی ڈیمانڈ پوری ہونے کے بعد یہ نمبر یا تو بندہوتے ہیں یا پھر جواب نہیں دیاجاتا جس پر لوگ مایوس ہو جاتے ہیں۔

اگر بینظیر انکم سپورٹ اسکیم کی جگہ صرف پچاس ارب روپے سالانہ کے حساب سے پاکستان میں مختلف صنعتیں لگائی جاتیں اورجن میں فزیکل انفراسٹرکچر بطور خاص بجلی کی فراہمی کے معاملے میں خرچ کرکے بحران سے نکلا جاسکتا تھا اور پانی کے ذریعے بہت ہی سستی بجلی پیدا کی جاسکتی تھی جس سے مہنگائی کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا تھا۔ ایک لاکھ میگا واٹ بجلی کی گنجائش اور 59ہزار میگاواٹ کے ادھورے منصوبوں کو پایہ تکمیل پہنچا کر نہ صرف صنعتوں کی ترقی میں رکاوٹ دور کی جاسکتی تھی بلکہ تیل کے اوپرخرچ ہونے والے بھاری زرمبادلہ میں کافی کمی کی جاسکتی تھی۔ہر سال کم از کم پچاس ہزار خاندانوں کو تاحیات عزت و آبرو والا روزگارمہیا کیا جاسکتا تھا جس سے انکا معیار زندگی بلند نہیں تو غربت کی لکیر سے اوپرآسکتا تھا۔اس معاشی پروگرام سے محض سالانہ پچاس ہزار افراد کو براہ راست روزگار ہی مہیا نہیں ہوتا بلکہ اس معاشی دائرے کی وسعت سے دیگرکروڑوں لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا۔ اگر بجلی 24گھنٹے مہیا ہو تو روزانہ پرائیویٹ جنریٹرز میں جلنے والے کروڑوں لٹر پٹرول،ڈیزل اور اتنی ہی گیس کو بچایا جاسکتا ہے۔اس تمام عمل کا اثربہتر معیشت کی شکل میں ظاہرہوتا، بیرونی سرمایہ کاری بڑھتی اورملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا۔ مگر جس پارٹی میں ایک بھی قابل معیشت دان نہ ہو، ایک بھی قوم سے ہمدردی رکھنے والا نہ ہووہاں اس قسم کی بات دیوانے کی بڑہوتی ہے اور کچھ نہیں۔ اس پروگرام کی انچارج محترمہ فرزانہ راجہ جو اس بھاری رقم کو اس نام نہاد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زریعے ضائع کررہی ہیں اُن کو ملک کااعلی اعزاز”ملک میں بھیکاریوں میں اضافہ” کی بنا پر دیتے تو بہتر ہوتا۔یہ پروگرام غربت کا مذا ق اڑانے کے متراد ف ہے اسے ختم کرکے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جاتے تو بہتر ہوتا۔

2013 کوپاکستان میں الیکشن کا سال کہا جارہا ہے اور آج ہر سیاسی جماعت آپ کا مقدر بدلنے کادعوی کررہی ہےاور ایساپہلی مرتبہ نہیں ہورہا ہے۔ آنے والے الیکشن میں پیپلز پارٹی” بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” کا کارڈ کھیلنے کا پروگرام بناچکی ہے اس لیے ہی آ ج کل اخبارات اور ٹی وی چینل پراشتہارات کے ذریعے اس کا بہت چرچا کررہی ہے، مگرشایدیہ کامیاب نہ ہو۔ پاکستان میں کرپشن کی وجوہات میں کمزور سول سوسائٹی ، احتساب کا ناقص نظام، ایک مخصوص طبقہ کا سیاست پر حکمرانی ہو سکتی ہیں۔ترقی یافتہ ا قوام نےاپنے کرپشن زدہ مجرموں کو جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ تھے دوسروں کے لئے عبرت کا ایک نشان بنا دیا۔ چین کی مثالیں موجود ہیں وہاں بڑے بڑے وزراکو صرف کرپشن کے الزام میں پھانسی پرلٹکادیا گیا، یہ ہی وجہ ہے کہ چین میں کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں عوام ابھی تک اپنے حقوق حاصل کرنےکے لیے تیارنہیں ہیں ۔ سرسیداحمد خان نے کہا تھا جو قومیں اپنے مسائل کے حل کے لئے کسی معجزہ یا کسی بیرونی نجات دہندہ کا انتظار کر تی ہیں ہمیشہ ناکام و نامراد رہتی ہیں۔ پاکستان میں ایک ایسے نظام کی شدت سے ضرورت ہےجو کرپٹ حکمرانوں کاسخت احتساب کرسکے جنہوں نے پاکستان کومعاشی طور تباہ و برباد کرنے کاذمہ لے رکھا ہے۔

سید انورمحمود
سید انورمحمود
سچ کڑوا ہوتا ہے۔ میں تاریخ کو سامنےرکھ کرلکھتا ہوں اور تاریخ میں لکھی سچائی کبھی کبھی کڑوی بھی ہوتی ہے۔​ سید انور محمود​

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *