ظالم غریب اور غریدہ فاروقی

شملہ مرچ کا کیا ریٹ ہے
120 روپے کلو
کچھ خدا کا خوف کرو
کیوں صاحب کیا ریٹ ہے
یہی کوئی 70، 80 روپے کلو۔۔۔۔
سر آپ 80 روپے دے دیں ۔۔۔
اور میں اسی ریٹ پہ خرید کے گھر پہنچا ۔۔ اور واٹس ایپ پہ بھیجے گئے ایک آن لائن سبزی فروش “سبزی منڈیٗ”کی پرائس لسٹ نکال کے چیک کیا تو ریٹ اس دن 45 روپے کلو تھا۔
دل ہی دل میں اس سبزی فروش کو گالیاں دیں اور سوچنے لگا کہ ہماری سوسائٹی کے غریب غربا، پھل فروش، سبزی فروش، ٹھیلے والے، رکشہ ڈرائیور ، گھروں میں کام والیاں اور اس کیٹیگری میں آنے والے اکثر و بیشتر لوگ ۔۔ جھوٹے، فریبی، فراڈیے اور دغا باز ہوتے۔۔۔
لوگ ان کی بظاہر معاشی حالت پہ ترس کھاتے اور یہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کے اس کو exploit کرتے ۔۔ آپ ایک مزدور کو گھر، کام پہ بلائیں تو 99 فیصد کیسیز میں وہ ڈنڈی مارے گا ۔۔ کام وقت پہ مکمل نہیں کرے گا۔۔۔ یا میٹر یل میں ہیرا پھیری کرے گا۔۔۔
غریدہ فاروقی پہ کی جانے والی لعن طعن ہر طرف جاری و ساری ہے ۔۔ اس وائس کلپ میں کی جانے والی گفتگو میں غریدہ کا لہجہ نامناسب ہے لیکن صاحب اس وائس کلپ کو بغور سنا جائے تو اس میں ایڈیٹنگ صاف معلوم ہوتی ہے۔۔۔ کال میں موجود دوسری خاتون کا سٹائل کبھی مظلومانہ ہو جاتا ہے اور کبھی provocative…۔
گھروں میں کام کرنے والیوں کے جتنے ڈرامے ہوتے اورجتنا یہ تنگ کرتی ہیں ۔۔ اس سے روزمرہ کا پالا ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ہے ۔۔ ایک ایڈیٹیڈ وائس کال کی بنیاد پہ کسی فرد کے خلاف اتنا محاذ کھڑا کر دینا، اس کی کردار کشی کی پوری مہم چلا دینا کہاں کا انصاف ہے ۔۔۔ چائلڈ لیبر چائلڈ لیبر کا ڈھنڈورا یوں پیٹا جا رہا ہے کہ جیسے یہ کام اس ملک میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے ۔۔
ہر دوسری ورکشاپ پہ استاد کی مغلظات سنتے، ڈھابوں پہ کام کرتے ، مارکیٹوں میں غبارے بیچتے یہ “چھوٹے”روزانہ ہی تو دکھتے ہیں ۔
اچانک غریدہ فاروقی کے واقعہ سے دانشوروں کے پیٹ میں اٹھنے والے چائلڈ لیبر کے مروڑ حب علی تو نہیں بغض معاویہ ضرور ہیں ۔۔ کالم نگاروں اور ٹاک شوز میں اینکروں کی صورت میں بیٹھے گدھ ایک نیا منجن بیچ رہے کہ چار دن کے لیے ان کے راشن کا انتظام ہو چکا ۔۔چایلڈ لیبر کی حمایت کسی بھی صورت نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے سد باب کے لیے چار دن کی وقتی چیخ و پکار کیا کافی ہے
اس کے لیے
1. سب سے پہلے حکومت کو معاشرے میں ان غریب بچوں کے لیے خوراک، تعلیم، صحت جیسی بنیادی سہولتیں مہیا کرنا ہوں گی ۔
2.چائلڈ لیبر کے حوالے سے قانون کی عملداری کو ممکن بنانا ۔
3۔ اور اس کے ساتھ ہی معاشرے میں ان حوالوں سے شعور کی بیداری پہ کام کرنا ۔
ان تین پہلوووں پہ کام کے بغیر یہ چار دن کا شور و غوغا صرف باسی کڑھی میں ابال کے مترادف ہے ۔

Avatar
حمزه صديق
Free thinker , a bit rebellious , social person , Love to connect to more and more thirsty souls

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *