• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • خواتین اوراقلیتوں کی نمائندگی کے بغیر بلوچستان کی 11رکنی کابینہ تشکیل

خواتین اوراقلیتوں کی نمائندگی کے بغیر بلوچستان کی 11رکنی کابینہ تشکیل

کوئٹہ: بلوچستان میں پہلے مرحلے میں 11 اراکین پرمشتمل صوبائی کابینہ کی تشکیل مکمل ہو گئی ہے لیکن اس میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی نہیں ہے۔

پہلے مرحلے میں کابینہ میں جن اراکین کو شامل کیا گیا ہے ان میں زیادہ تر قبائلی عمائدین ہیں،گورنر ہاؤس کوئٹہ میں پیر کو ہونے والی تقریبِ حلف برداری میں وزرا ءنے حلف لیا۔

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد کے لحاظ سے کابینہ مجموعی طور پر 19 اراکین پر مشتمل ہو گی جن میں 14 وزیر اور 5 مشیر شامل ہوں گے، پہلے مرحلے میں 10اراکین کو وزیر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت میں 6 جماعتی اتحاد پر مشتمل ہے،دیگر جماعتوں میں تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی)، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ کابینہ کی تشکیل مرحلہ وار ہو گی۔

پہلے مرحلے میں کابینہ کے جن 10 اراکین نے وزیر کی حیثیت سے حلف لیا ان کا تعلق بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل تین جماعتوں میں سے ہے۔

ان میں سے میرعارف محمد حسنی، میر ضیا لانگو، میر سلیم خان کھوسہ، سردار عبد الرحمان کھیتران، سردار سرفراز ڈومکی، نوابزدہ طارق مگسی، سردار صالح بھوتانی اور نورمحمد دومڑ کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔

انجنیئر زمرک خان اچکزئی کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی اور نصیب اللہ مری کا تعلق تحریک انصاف سے ہے،ان میں ضیا لانگو، نورمحمد دمڑ، نوابزادہ طارق مگسی اور نصیب اللہ مری پہلی مرتبہ کسی صوبائی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔

کابینہ میں مٹھاخان کاکڑ کو مشیر کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے جن کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔

پہلے مرحلے میں مخلوط حکومت میں شامل جن جماعتوں کو کابینہ میں نمائندگی نہیں ملی ہے ان میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) اور جمہوری وطن پارٹی شامل ہیں۔

جہاں کابینہ کے پہلے مرحلے میں تین جماعتوں کو نمائندگی نہیں ملی ہے وہاں تاحال خواتین اور اقلیتوں کو بھی نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی سے جن اراکین اسمبلی کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ان میں سے 3 قبائلی سردار ہیں جبکہ 3 کا تعلق مختلف قبیلوں کے سربراہ خاندانوں سے ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *