تزکیہ نفس اور قربانی۔۔۔۔عائشہ یاسین

ارشادِ ربانی ہے ۔۔۔
ونفس وما سوّاھا فالھمھا فجورھا و تقوٰھا قدافلح من زکّاھا وقد خاب من دسّاھا

(اور شاہد ہے نفس اور جیسا اس کو بنایا پس اس کو سمجھ دی نیکی اور بدی کی ،اس نے فلاح پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور وہ نامراد ہوا جس نے اس کی گندگیوں پر پردہ ڈالا)۔

اس فرمان کو سمجھنے سے پہلے ہم کو جاننا ہوگا کہ تزکیہ نفس کے معنی کیا ہے۔
تزکیہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب کسی شئے کو سنوارنا۔ صاف ستھرا کرنا یا اس کی تربیت و اصلاح کرنا ہے۔ جبکہ نفس خواہشات اور دنیا کی چاہت کا نام ہے۔ جب ہم تزکیہ نفس کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ساتھ ہی ہمیں ہمارے سامنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات آجاتی ہیں جو کہ  تزکیہ نفس کا نمونہ ہیں ۔
تزکیہ نفس ہے کیا؟ یہ ان خواہشوں کی توڑ جوڑ ہے جو اللہ کے احکامات کی حامی اور منافی ہے۔ یعنی وہ جذبات و احساسات اور اعمال جس کو اللہ نے پسند کیا اور راضی ہوا اور وہ منع کردہ فعل جس کو اللہ تعالی نے ناپسند کیا اور اس سے بچنے کا حکم دیا۔
ان خواہشات میں وہ سارے عناصر شامل ہیں جن سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو تکمیل ملتی ہے۔ حقوق اللہ جن میں نماز روزہ حج زکوہ شامل ہیں ۔ اس زمرے میں یہ نفس ہی ہے جو ہم کو ان فرائض کی تکمیل سے روکتا ہے کبھی نیند کی صورت تو کبھی سستی غفلت یا کبھی وقت کی کمی وغیرہ۔ شیطان کا واحد کام اکسانا ہے ۔وہ ہمارے کانوں میں غلط مشورے انڈیلتا رہتا ہے۔ کبھی نماز سے غافل کر دیتا ہے تو کبھی نا فرمانی کا گناہ سر زرد کروا دیتا ہے۔ اس کی سرگوشیاں کبھی کبھی ضمیر کی آواز پر غالب آجاتی ہیں  تو کبھی ضمیر اس کی آواز پر۔ عبادات اور ان کی ادائیگی میں نکھار لانا ہی تزکیہ نفس ہے ۔ اور ہر چیز میں توازن لانا نفس کی تربیت ہے۔
نفس کی  کیسے تربیت کی جائے ؟ یہ سب سے اہم پہلو ہے۔ چاہے وہ حقوق العباد ہوں یا  تکمیل حقوق اللہ ،تزکیہ نفس اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ہمیں  عمل صالح کا ادراک حاصل ہوجائے۔ یعنی کہ ہر وہ عمل جس کے کرنے سے آپ کی خواہشات کی   مرمت ہو اور وہ خواہش ناصرف آپ کو اطمینان و سکون کی دولت سے ہمکنار کرے بلکہ اس کا پلس پوائنٹ آپ کو اللہ کی  رضا کی صورت میں بھی ملے اس کو تزکیہ نفس کہتے ہیں ۔
اس کی مثال یوں ہے کہ میرے پاس ایک روٹی ہے۔ نفس وہ ہے جو یہ خواہش کرے کہ یہ پوری روٹی صرف میں ہی شکم سیر ہوکر کھاؤں ۔ اور اگر اسی وقت کوئی میرا اپنا ہمسایہ یا کوئی اجنبی شخص بھی آ پہنچے تو جبلتی تقاضا  تو یہ ہی ہے کہ میں اپنی روٹی خود اکیلے ہی کھاوں اور تزکیہ نفس یہ ہے کہ میں خوش دلی سے روٹی کے دو ٹکڑے کروں اور مل کر دونوں کھائیں ۔
یہی اخلاص اور بھائی چارہ زندگی کے ہر شعبے میں درکار ہے۔ اپنے  نفس یعنی اپنے غصے اور   لالچ پر قابو پا کر اس میں ہمدردی اور خلوص کی چاشنی ملا دی جائے۔ اپنی انا کو اس بات کی پریکٹس کر وائی جائے کہ اس رب جل جلال کے تابع رہنا اور اس کے ہر حکم کو ماننا ہی بندگی ہے۔
اس کی رضا پر راضی رہنا ہی دنیا و آخرت میں نجات ہے۔

عید قربان اس بات کا عملی نمونہ ہے۔ قربانی ہمیں صبر و اطاعت سکھا تا ہے۔ بندگی اور رواداری سکھاتا ہے۔اللہ کی راہ میں اپنے مال کا خرچ کرنا۔ اپنی استطاعت کے مطابق خوبصورت اور تندرست جانور خریدنا اور اس کو پالنا۔ پھر سنت ابراہیمی کے مطابق ہر سال 10 ذوالحج کو اس کے خون کو بہانا ۔اس کے گوشت کے تین حصے کرکے اس کو تقسیم کرنا، فرض کی ادائیگی کا طریقہ کار ہے جو کہ ہر مسلمان صاحب حیثیت پر فرض ہے۔
یہ بات مسلم ہے کہ اللہ کو قربانی پسند ہے ۔ قربانی کسی بھی طرح کی ہوسکتی ہے۔ چاہے ہم اپنے مال و دولت یا اپنے نفسانی خواہشات کی قربانی دیں۔ یا اپنی نیند و آرام کی ۔خوب سے خوب تر بننے کی تمناؤں کو مسمار کرنے کی یا اعلی طرز زندگی کو ترک کرنے کی۔
یہ سب نفس کی عطا کردہ ہے۔ دنیا کو فتح کرکے اس پر راج کرنا ۔خود کو طاقتور بنانا ۔ اپنی انا کی پرورش کرنا یہی حاصل نفس اور دنیا کا مقصد سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ قربانی تزکیہ نفس سکھاتی، کسر نفسی، عجز و انکساری ،صلا رحمی کا درس دیتی  ہے۔
قربانی تزکیہ نفس کا نام ہے جہاں ہم اپنی انا کو قربان کرتے ہیں ۔رب کے حکم کو بجا لاتے ہیں ۔ اس کے لئے صلح کا راستہ اپناتے ہیں اور اپنی تمناون کو اللہ کی رضا کے لئے ذبح کرتے ہیں ۔ یہ چھری ہم صرف اس حلال جانور کے گلے ہر ہی نہیں پھیرتے بلکہ نمود و نمائش اور اپنی شان و شوکت پر بھی پھیلتے ہیں ۔
قربانی کی کئی قسمیں ہیں ۔یہ قربانی ہی ہے کہ کسی کی غلطی کو معاف کرکے آگے بڑھ کے گلے سے لگا لیا جائے۔ یہ نفس کی قربانی ہی ہے کہ اپنے مفاد کو پس پشت ڈال کر کسی دوسرے کا بھلا کر دیا جائے ۔ یہ نفس کی قربانی ہی ہے کہ کسی کی خوشی کے لئے اپنی خوشی دوسرے کی جھولی میں ڈال دی جائے۔
بدلہ اور انتقام نہ لینا بھی قربانی ہے۔ اپنے راشن میں سے تھوڑا دوسرے کو دے دینا بھی قربانی ہے۔ کسی کو اس کی کمزوری یا ناکامی کا طعنہ نہ دینا بھی قربانی ہے۔ ہر وہ جذبہ جس میں ایثار شامل ہو قربانی ہے ۔کسی پر غصہ نہ اتارنا بھی قربانی ہے۔اپنی باری آنے پر کسی ضعیف کو ڈاکٹر کے پاس بھیج دینا یہ بھی قربانی ہے یا بس میں سفر کرتے ہوئے اپنی سیٹ کسی بوڑھی عورت کو دے دینا بھی قربانی ہی ہے اور اپنے دشمن کو سجو و خشوع کے ساتھ معاف کرنا بھی قربانی ہے۔
ایک دفعہ جنگ کے دوران جب ایک کافر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زیر تاب آگیا۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تلوار اس کے گردن اڑانے کو تھی کہ اس نے آپ کے چہرے مبارک پہ تھوک دیا تو آپ نے اپنی تلوار اس کی  گردن سے پیچھے کردی اور اس کی جان بخش دی۔ لوگوں نے ماجرہ دریافت کیا کہ وہ گستاخ آپ کی دسترس میں تھا آپ نے اس کو جانے کیوں دیا۔ تو شیر خدا نے فرمایا کہ پہلے جب میں اس کی  جان لینے کے درپے تھا تو میں اس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر کی حیثیت سے مار رہا تھا لیکن جب اس نے مجھ پر تھوکا تو وہ میرے اپنی عزت نفس پہ وار تھا ۔اگر میں اس کی گردن اڑا دیتا تو وہ میرا  اپنا انتقام ہوتا اس لیے میں نے اس کو اپنے نفس کی خاطر معاف کیا۔

آئیے ہم اس عید قربان پر اپنے انا اورخواہشوں کو اپنے پڑوسی اور اپنے بھائی بہنوں کے لئے قربان کرتے ہیں ۔ اپنوں اور غیروں کے لیے آسانیاں فراہم کرتے ہیں ۔ اپنی خوشیوں میں سے تھوڑا سا حصہ ان میں بھی بانٹ دیتے ہیں ۔
یقین جائیے یہ خوشی  ساری زندگی جاری رہتی ہے۔ نیکی کرنے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ دوسروں کی خدمت اپنا ہی مزہ دیتی ہے۔ انسان خود کو بڑا پر کیف محسوس کرتا ہے۔ ہماری روح خوشی سے سرشار ہوجاتی ہے۔
یہ ایثار کا جذبہ اپنے بچوں میں بھی پیدا کریں ۔ ایدھی صاحب کی ماں کی طرح ان کو روز یاد دلائیں کہ ان کی جیب خرچ میں سے کسی ضرورت مند کا بھی حصہ ہے۔
یہ چھوٹی چھوٹی تربیت ہی تزکیہ نفس کا باعث بنتی ہے اور ہم پر قربانی کے معنی اور مفہوم آشکار کرتی ہے۔
پھر ہم سمجھ پائیں گے کہ اللہ نے یہ قربانی فرض کیوں کی اور اللہ کو قربانی کیوں اچھی لگتی ہے۔ آیئے مل کر یہ فرض ادا کرتے ہیں ۔ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں ۔اپنے آس پڑوس اور مستحقین کو ان کا حق بانٹتے ہیں ۔
اللہ ہم سب کا حافظ و ناصر ہو ۔آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *