گدھا خوری اور سیاسی منطق

چند دن پہلے بیگم سے کسی بات پر ان بن ہو گئی اور باوجود کوشش کے پختون خون نے علم بغاوت بلند کر لیا اور میں اپنی بات پر اڑ گیا۔معاملہ جب شام کو والد صاحب کی عدالت میں پیش ہوا تو پتہ چلا کے زوجہ ماجدہ سفارتی اور سیاسی گراونڈ پر پہلے ہی کام کر چکی ہیں اور وزارت داخلہ و قانون گھرداری مطلب اپنی ساس صاحبہ کی ہمدردیاں اور ووٹ سمیٹ چکی ہیں لیکن میں اپنے ہی زعم میں”زمین جنبد نا جنبد گل محمد” ۔جیسے ہی طرفین کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے تو اسی وقت جج صاحب کی طرف سے سولات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی، تو جناب معلوم یہ ہوا کہ جن پہ تکیہ تھا ،وہی پتے ہوا دینے لگے مطلب وہ تو واٹس ایپ والے جج نکلے کیونکہ زوجہ نے دوپہر کو ہی تمام تفصیلات بذریعہ واٹس ایپ کال ان کے گوش گزار کر دی تھیں ۔خیرمقابلہ تو خوب کیا دلِ ناتواں نے، لیکن والد صاحب کی ایک بات نے میرے اسٹانس کو ایسے گرا دیا جیسے 20 منزلہ عمارت کو بم لگا کر سیکنڈز میں گرا دیا جاتا ہے۔ ” جب تم پیدا ہوئے تھے تو کاش کہ اس وقت تمہیں گھٹی میں شہد کے ساتھ ساتھ گدھے کا کان کاٹ کر تھوڑا خون بھی چٹا دیتے، تاکہ صدیوں پرانی روایت بھی زندہ ہو جاتی اور تمہارے اندر کی اکڑ بھی ختم ہو جاتی”۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی گدھے کی کچھ خاص خصلتوں کی جس میں سرفہرست ہے مالک کا ہر حال میں حکم ماننا، چاہے کھانے کو کچھ ملے نہ ملے، ہر طرح کی سختی سہنا، سرد گرم موسم میں بھی سر پھینک کر کام میں لگے رہنا جیسے پنجابی میں ایک کہاوت ہے” مراثی دے کھوتے وانگوں سر سٹ کے رہنا “۔یہ سب باتیں تو ہیں تابعداری کی لیکن اگر ہم آج کل اپنے اردگرد نظر دڑائیں تو ان سب چیزوں اور باتوں کو انتہائی ہتک آمیز اور طنزیہ انداز میں لیا جاتا ہے، جبکہ ایک سیاسی پارٹی تو اس بات پر بضد ہے کہ جو بندہ ان کی پارٹی کو ووٹ اور سپورٹ نہ کرے وہ کھوتا خور ہے، اور دماغ بھی ویسا ہی رکھتا ہے ۔

آنحضرت کے دور میں ایک وقت تک گدھے کا گوشت باقاعدہ خوراک کا حصہ بھی تھا، ایک جنگ کے موقع پر بذریعہ وحی اس کو مکروہ قرار دیا گیا اور پکتی ہوئی ہنڈیاں الٹ دی گئیں(بحوالہ،تاریخ اسلام،جلد اول،اکبر شاہ نجیب آبادی)،۔ واپس آتے ہیں پاکستان میں گدھا خوری کے موضوع پر اور اس بات کی جانب توجہ پنجاب کی ایک دبنگ خاتون آفیسر نے مبذول کروائی، جنہوں نے پے در پے چھاپے مارے اور لاکھوں من گدھے کا گوشت مختلف ہوٹلوں، اور گوشت کی دکانوں سے برآمد کیا۔اور اتنا گوشت فروخت ہونے کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ ہر سال پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں گدھے کی کھالیں چین اسمگل ہو رہی تھیں ۔اور سال 2012-13 میں کم از کم تقریباً ڈیڑھ لاکھ کھالوں کا شور مچا کر اتنے جانوروں کی کھالیں تو نکال لیں اور گوشت عوام کو کھلا دیا گیا۔کچھ لوگوں کے مطابق لوگوں نے گدھوں کی چوری ،کھال چوری کے ساتھ ساتھ یہاں تک بھی کہا کہ انہوں نے چند ایسے بھی گدھے دیکھے جو زندہ حالت میں تھے لیکن ان کے جسم پر کھال تک نہ تھی۔

اسی بات کو بنیاد بنا کر ایک سیاسی جماعت جو کہ 2013 کے الیکشن میں بہت زور و شور کے ساتھ حصہ لے رہی تھی نے اپنی ہار کی وجہ پنجاب میں گدھا خوری بتایا۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی کل آبادی میں سے ،10 لاکھ افراد گدھا خوری کرتے ہیں، مطلب یہ کہ جو بندہ ان کی جماعت کو اگر ووٹ اور سپورٹ نہیں دیتا وہ گدھا خور اور پٹواری نسل سے ہے۔جو بھی ہے لیکن گدھوں کی نسل کشی کو بچانے کے لیے ایک خاتون نے علم سنبھالا اور کافی حوصلہ افزا نتائج آنے شروع ہو گئے، بقول اس سیاسی جماعت کے، کہ اب ان کا ووٹ بنک کافی بڑھ چکا ہے۔ لیکن گدھوں کی نسل کے لیے انتہائی پر آشوب اور خطرناک وقت میں ARY اور DAWN نیوز پر ایک خبر چلی کہ امسال گدھوں کی تعداد انتہائی نسل کشی کے باوجود 4.9 ملین سے بڑھ کر پورے 5 ملین ہو گئی، اب سوچنے والی بات یہ ہے اگر آبادی بڑھ رہی تھی تو ہم کیا کھا رہے تھے اور ایک مخصوص طبقہ کیوں اس معاملے کو مسلسل ہوا دے رہا تھا، کہیں وہ اپنی کمزوریاں تو نہیں چھپا رہے تھے۔

اب آتے ہیں بلدیاتی الیکشن میں جہاں بقول ساتھیو کے مقابلہ صرف Brain of Pakistan اور گدھا خور عوام کے درمیان ہوگا، لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا، اور بقول ان کے گدھا خور جیت گئے، اور اس کا عذر اس طرح پیش کیا کہ جناب بلدیاتی الیکشن تو ہمیشہ حکمران جماعت ہی جیت جاتی ہے اور کم ٹرن آؤٹ کے باعث ہمارا ووٹر باہر نہیں نکلا، تو اس کے علاوہ آپ جناب نے ضمنی الیکشن میں جب بھی حصہ لیا اس کا رزلٹ بھی ایسا ہی نکلا، لیکن جب بھی سوشل میڈیا پر کوئی سروے ہوا اس میں ان کی جماعت نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور حقیقت میں نتیجہ ہمیشہ الٹ جس کی تازہ ترین مثال کراچی کا حالیہ ضمنی الیکشن ہے۔

اب ہم آتے ہیں دوبارہ اپنے موضوع کی جانب۔۔ ایک رپورٹ پڑھی جس میں کے پی کے حکومت نے چائنہ گدھے ایکسپورٹ کرنے کا معاہدہ کیا ہے، اور یہ معاہدہ اسی سیاسی جماعت نے کیا جس کے ووٹر اور سپورٹر اپنے خلاف ووٹ کرنے اور کسی بھی قسم کی تنقید کرنے والوں کو عقلی، شعوری اور جسمانی طور پر انسان سمجھتے ہی نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صوبائی حکومت عملی طور پر اس کام کو مکمل کرنا چاہتی ہے اور صوبہ بھر میں جگہ جگہ گدھوں کی افزائش نسل کے سینٹر بنائے ہیں یا بقول ان کے پاکستان کی 22 کروڑ عوام میں سے 75 لاکھ ان کے ووٹر اور باقی اکیس کروڑ پچیس لاکھ انہوں نے چائنہ ایکسپورٹ کر کے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ کر دینا ہے۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”گدھا خوری اور سیاسی منطق

  1. گھوڑے کی شکل ایک حد تک گدھے سے ملتی ہے، بعض لوگ گدھے گھوڑے کو برابر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ دونوں کو ایک تھان پر باندھتے ہیں، یا ایک لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ شاعروں نے بھی گدھے کی ایک خوبی کی تعریف کی ہے، خرِ عیسٰی ہو یا کوئی اور گدھا اگر وہ مکہ بھی ہو آئے تو گدھا ہی رہتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو گدھے اورکتےکی سیاست سے نجات دلائے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *