احساس ندامت۔۔طارق اقبال

بابا یٰسین گاؤں کی ہر دل عزیز شخصیت تھی۔ پیشے کے اعتبار سے تو وہ موچی کا  کام کرتا تھا لیکن گاؤں کے ہر چھوٹے بڑے،امیر غریب کا بابا تھا اور سب کے لیے ہی قابل احترام تھا۔ زندہ دل ایسا کہ اس عمر میں بھی اس کی باتوں اور حرکتوں میں بچپنا دکھائی دیتا تھا۔
اپنے گاؤں میں پیش آنے والے ہر واقعے کاچشم دید گواہ تھا اور کسی کا لحاظ کیے بغیر وہ ان واقعات پر بےلاگ تبصرے کرتا تھا۔

اس وقت وہ نوجوان تھا جب اس کے گاؤں کے سب ملکوں نے اکٹھے ہو کر زمینوں کے جھگڑے کی وجہ سے قریبی گاؤں پر حملہ کر دیا تھا۔اس کا گاؤں چونکہ بڑے قصبے سے پندرہ کوس دور پہاڑی علاقے میں تھا اور وہاں تک کوئی باقاعدہ سڑک  والا راستہ بھی نہیں تھا ،اس وجہ سے وہاں حکومتی عملداری نہ ہونے کے برابر تھی۔گاؤں کے ملکوں نے اس حملے میں دوسرے گاؤں کے سب لوگوں کو جہاں زیادہ تر مزارع آباد تھے آگے لگا لیا تھا اور ان کا کچھ کلومیٹر دور کوہ نمک کے پہاڑوں تک پیچھا کیا تھا۔
چونکہ وہ برچھوں اور کلہاڑیوں سے لڑائی کا دور تھا ،اس لئے کوئی بڑا جانی نقصان تو نہیں ہوا ،لیکن پھر بھی کئی لوگ زخمی ہوئے اور ایک شخص کی جان گئی تھی۔جوابی کیس ہوا،پولیس پہنچی اور گاؤں کے تقریباً سب بالغ افراد کو پکڑ کر لے گئی۔ انگریزوں کا دورتھا، سکیسر کے پہاڑی مقام پر عدالت لگتی تھی،انگریز جج نے گاؤں کے پچیس لوگوں کو پچیس پچیس سال قید سنا دی۔اس وقت اس کے گاؤں میں یہ صورت حال ہو گئی تھی کہ گاؤں میں کوئی میت ہوتی تو دوسرے گاؤں کے وہی لوگ دفنانے کے لیے آتے جن پر حملے کی وجہ سے اس گاؤں کے تقریباً سب مرد جیل میں تھے۔پھر پاکستان بننے کے بعد سب کو ایوب خان کے صدر پاکستان بننے پر رہائی ملی تھی۔

اس کے بعد بابا یٰسین نے وہ سب کچھ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا جب گاؤں کے ملکوں کی علاقے کے مشہور ڈاکو سے دشمنی ہو گئی۔اس لڑائی میں آئے دن دونوں گروپوں میں باقاعدہ مقابلے ہوتے،کئی زندگیوں کے چراغ گُل ہوئے اور گاؤں میں سب کچھ تباہ ہو گیا۔پولیس گاؤں میں مستقل ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئی اور ان کا بوجھ بھی غریب گاؤں والوں کے سر آ ن پڑا۔
اگرچہ گاؤں پر ان ملکوں کا کنٹرول تھا جو اس مشہور ڈاکو کے مقابل تھے لیکن گاؤں کے کچھ لوگ خفیہ طور پر دوسرے گروپ کی مدد اور حمایت میں تھے۔وہ ان تک اس وقت کھانا پینا اور مخالفین کے بارے میں خبریں پہنچاتے رہتے تھے جب وہ گاؤں کے اس پاس کے پہاڑی علاقے کے جنگلات میں روپوش ہوتے تھے۔ایسے وقت میں وہ لوگ ان کاموں کے لیے گاؤں کے غریب لوگوں کو استعمال کرتے تھے جو دونوں طرف کی اس لڑائی میں پس رہے تھے۔ایک طرف انھیں گاؤں کے ملکوں کا ڈر رہتا تھا تو دوسری طرف ڈاکوؤں سے ڈرا کر استعمال کیا جاتا تھا۔

بابا یٰسین اس وقت کا ایک واقعہ سناتے تھے کہ اس کو کبھی کبھار رات کے وقت ڈاکوؤں کی کمین گاہ تک کھانا پہچانے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ایک دن جب بابا یٰسین کھانا لے کر گئے تو وہاں وہ دونوں بھائی بیٹھے ہوئے تھے۔ایک نے اس سے پوچھا کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
وہ غریب آدمی تھا ڈر سے یہی بولا کہ لوگ آپ کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں بہت بہادر ہیں۔یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا لیکن پاس بیٹھے اس کے دوسرے بھائی نے غصے سے   گالی دے کر کہا کہ لوگ بکواس کرتے ہیں۔ہم جنگلوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔اس خوف سے کہ پولیس پکڑ نہ لے، دن کو سکون ہے نہ رات کو۔ ہمارے بال بچوں پر کیا بیت رہی ہے اور پولیس ان کو کیسے ذلیل کر رہی ہے ہم جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔اصل میں ہم دلیر نہیں بے غیرت ہیں۔

بابا یٰسین یہاں رکتا اور ایک لمبی آہ بھر کر کہتا کہ آج میں دیکھتا ہوں کہ جس بھائی کو اپنے کردار پر ندامت تھی اس کی اولاد سدھر گئی اور عالم بن کر مدرسے چلا رہی ہے جب کہ دوسرے بھائی کی اولاد اسی طرح کے بدمعاشوں والے کام کر رہی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *