انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں؟۔۔۔۔۔عبدالباسط ذوالفقار

ملک کے بائیسویں وزیراعظم کے حلف اٹھاتے وقت پورا مجمع دم سادھے بیٹھا تھا۔ خاموشی کا یہ عالم تھا کہ اڑتی ہوئی مکھی کی بھنبھناہٹ بھی صاف سنائی دیتی۔ جب وہ لڑکھڑائے، اٹکے اور ہنس کر گزر گئے۔ جب سے ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کے حلف اٹھانے کی تقریب دیکھی تب سے ترک شاعر رسول حمزہ توف کا ایک قول سامنے آرہا ہے۔ ”بیٹا ماں کی زبان بھول جائے یہ ایک بددعا سمجھی جاتی ہے”۔ ساتھ ہی مجھے ایک خاتون یاد آئیں جنہوں نے کوسنا دیا تھا کہ ”خدا کرے یہ جس قوم کا حکمران بنے اس کی زبان بھول جائے.” معلوم نہیں وہ خاتون کیوں غصہ تھیں لیکن ان کا کوسنا ٹھیک ہوتا معلوم ہوا جب ہمارے دھرتی ماں کے حکمران اپنی قومی زبان میں حلف لیتے وقت اٹکتے نظر آئے۔ اٹکن اور پھر اس پر مسکراہٹ کے ساتھ درستی کے باوجود الفاظ ٹھیک سے ادا نہ کر سکنا شاید نروس تھے تب یا شاید کسی کے پیچھے پیچھے پڑھنا ان کے اسٹینڈر کے برعکس تھا۔ ویسے صدر صاحب کا شکریہ جو انہوں نے ایوان صدر میں اردو کو رواج دیا۔ صدر صاحب کی اردو سنی تو لگا ”وہ عطر دان سا لہجہ میرے بزرگوں کا”۔

خدا تعالیٰ کا شکر ہے مجمع میں قومی زبان کا کوئی سرپھرا پرستار موجود نہ تھا نامعلوم کیا اٹھا کر پٹخ دیتا۔ غلط ادائیگی پر بعض اہل زبان بہت بھڑک جاتے تھے۔ جیسے میرے محلے کے پروفیسر، لفظِ غلط کے ”لام” پر جزم پڑھنے پر اچھی خاصی سنا دیتے ہیں۔ ایک تقریب میں تو مقرر کو اتنا ڈانٹا کہ وہ تقریب چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔ ویسے یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے کہ رابطہ عامہ کی زبان ہمیں نہیں آتی۔ ہمارے ہاں تو اولاد کے صاف اردو بولنے پر ماں باپ کے دل میں یہ سوچ کر ہول اٹھنے لگتے ہیں ’شاید اس کی انگریزی اچھی نہیں، اسی لیے انگریزی الفاظ کا ٹانکا لگائے بغیر صاف سیدھی اردو میں پورے پورے جملے بول رہا ہے، اب اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ ویسے زبانیں تو بے زبان ہوتی ہیں ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔ ایک دو الفاظ کا زبان پر نہ چڑھنا یا بھول جانا بشری تقاضا ہے۔ سیانے کہتے ہیں اس پر تنقید کی بجائے وطن عزیز کی ترقی کے لیے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔ خیر! ”امید کی جانی چاہیے کہ منتخب وزیر اعظم سماجی و ثقافتی میراث کے خزانے کی حفاظت کرتے ہوئے غلطیوں سے پرہیز کریں گے” نہیں تو کھوئی ہوئی حرارت والے الفاظ کے اضافے سے لغات کے دیوان ضرور مرتب ہو جائیں گے۔

تفنن برطرف حلف اٹھانے کے بعد سے مصائب کے جبڑوں میں پستی قوم کی نظریں خان صاحب پر ہیں۔ گزشتہ روز نومنتخب وزیراعظم کا قوم سے پہلا باضابطہ خطاب روایتی خطابات سے بالکل مختلف تھا۔ میں تو سن کر ششدر رہ گیا یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ وہی گزشتہ روز حلف کی تقریب میں اٹکنے والے وزیراعظم ہیں۔ جو سوئی ہوئی امنگ کو بیدار کر رہے ہیں۔ میں ماضی مرحوم کے ساتھ بیٹھا خطاب سن رہا تھا۔ وہ دل سے پھوٹتے الفاظ، گویا قوم کے پسے ہوئے طبقے کے ہونٹوں سے چُرائے گئے ارمان تھے۔ وہ خواب تھے جو پاکستانیوں نے آنکھوں میں سجا رکھے تھے۔ ان کی باتیں احساسِ محرومی سے پڑتے زخموں پر پھاہا تھیں۔ فکر و تعمق کے سائے تلے امید تھی، روشنی تھی۔ بلاشبہ بہترین خطاب جس پر داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ قوم کی توقعات پہلے بھی ان سے وابستہ تھیں اب مزید نظریں ان پر مرکوز ہیں۔ مدارس کے طلباء کے لیے، معاشرے کے مظلوم طبقوں کے لیے، ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کا وقت ملا ہے۔ خدا کرے سرخروئی مقدر ہو کہ یہ ملک و قوم کا فخر ہو گا۔ خطاب سن کر لگا ”ابھی کلیوں میں چٹک، گل میں مہک باقی ہے/ دل میں رونق، ابھی آنکھوں میں چمک باقی ہے۔”

پرامید ہیں کہ قوم کی عدم تکمیل آرزوؤں، امنگوں، کی تکمیل ہو گی۔ اسی طرح خان صاحب نے جو متعفّن نظام کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کا عزم بالجزم کیا۔ خدا کرے وہ اس پر پورا اتریں۔ ملک و قوم کے لیے اچھا کریں گے تو ہمیں دوش بدوش پائیں گے وگرنہ سراب کے پیچھے تو ہم سالوں سے دوڑ رہے ہیں۔ پہلے صرف نعرے تھے اب تمام امور کی زمام تصرف میر کارواں (وزیراعظم) کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے سوئی ہوئی امنگ کو بیدار تو کیا ایسا نہ ہو ہم جھوٹ کے بلبلے پر کھڑے ہوں جب وہ پھٹ جائے تو سب ختم۔ خدا نہ کرے عوامی فلاح کے کے نعرے بقول شخصے محبوب کے وعدے ثابت ہوں۔ ایسا نہ ہو وہ بولیں ”میں اپنے قول کا مالک ہوں چاہوں تو اس کا پاس رکھوں اور چاہوں تو اسے نظر انداز کر دوں ”۔ وہ انقلاب لانے کا عزم مصمم بھی رکھتے ہیں۔ سنا تھا انقلاب خون مانگتا ہے۔ کہیں ہمارے خوابوں، امیدوں، توقعات کا خون ہی نہ کر دیا جائے۔ خیر! یہ میرے دل میں بنی خوف کی تصویر ہے۔ امید رکھیں خدا اچھا کرے گا۔ بزرگ کہتے ہیں ڈرتے رہنا چاہیے۔ اب قوم الجھن کی سلجھن چاہتی ہے۔ خان صاحب لوگوں کی امیدوں کو باؤنسر مت ماریے گا۔ باقی غلطیاں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *