وزیر اعظم کے نام خط۔۔۔۔۔ سخاوت حسین

ڈئیر وزیر اعظم   پاکستان!
سر! میں گلگت بلتستان کا ایک مظلوم شہری ہوں۔ آج کل ہر طر ف آپ کی تقریر کی باتیں ہورہی ہیں۔ ہر کوئی آپ کی تقریر کے اقتباس پیش کر رہا ہے۔ پورے ملک کو آپ سے امید سی ہو چلی ہے۔ غریب آپ کو اپنا مسیحا سمجھ رہے ہیں۔ محنت کشوں کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں۔ بیوہ عورتیں اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہی ہیں۔ سر ! مجھے بھی آپ سے امید ہے۔ میں نے بھی آپ سے وہی امیدیں وابستہ کی ہیں جو عام پاکستانی نے وابستہ کی ہیں۔میں نےپہلے دن سے ہی آپ کو نجات دہندہ سمجھا تھا۔ میں نے پہلے دن سے آپ کی جیت کی دعائیں کی تھیں۔آج آپ جیت گئے ۔ وزیر اعظم بن گئے میں بہت خوش ہوں۔

لیکن میرے عزیز وزیراعظم! آپ کی پوری تقریر میں نے غور سے سنی۔ آپ نے ایوان وزیراعظم کی شاہ خرچیوں سے لے کرعام آدمی کے مسائل پر بات کی۔ آپ نے صوبوں کے اصلاحات کی بات کی۔ آپ نے مسائل کو حل کرنے کی بات کی۔ آپ نے نوجوانوں کی بات کی۔آپ نے مملکت عزیز کو آگے لے جانے کی بات کی۔ جب آپ تقریر کررہے تھے میرا من جیسے بلیوں اچھل رہا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے آپ ہی وہی ہیں جو اس مملکت کو روشنی کے میناروں میں لے کر جائیں گے۔ آپ اس مملکت کو نئی جہت تک لے کر جائیں گے۔

مگر سر! آپ نے اس علاقے کی بات ہی نہ کی، جس نے آج تک پاکستان کے لیے قربانیاں دیں۔جس علاقے نے اپنے خون سے اس ملک کو سینچا۔ وہ علاقہ جس کے محافظوں نے ماں سے بڑھ کر اس مملکت کی حفاظت کی۔ خواہ وہ 65 ہو 71 ہو یا کارگل آپریشن یا پھر اندرونی لڑائیاں یہاں کے سپوتوں نے ہر میدان میں دل وجان سے قربانیاں دیں اور یہاں کی خا ک میں مٹ کر انمٹ ہوگئے۔ مگر سر!یہ بے آئین خطہ ، مجبور علاقہ، جو آج آپ کی تقریر میں اپنے لیے توجہ نہ پاسکا میں آپ کو بتادوں اسے “گلگت بلتستان” کہتے ہیں۔ سر! یہ علاقہ جس نے ہر دور میں آئینی زخموں کو اپنے بدن پر اٹھا کر آپ سمیت ہر وزیر اعظم کی آس اور امید کا دیا روشن کرکے تقریر سنی، اس علاقے کو اب امید ہو چلی تھی کہ عمران خان ہی وہ ہستی ہے جو اس کی امید کو پار لگائے گا۔ جو اسے وفا کا جام پلائے گا مگر سر آپ کی پوری تقریر میں اس علاقے کا ذکر تک نہیں تھا۔ آپ نے دیامر بھاشا کی بات کی۔ آپ نے خوب صورت بھاشا میں سب باتیں کیں۔۔

مگر سر! آپ بھول گئے دیامر بھاشا گلگت بلتستان میں بنے گا۔ آپ بھول گئےکہ پاکستان کو سیراب کرنے والا سب سے بڑا دریا ، دریائے سندھ، گلگت بلتستان کی خوب صورت وادی سے گزرتا ہے۔ آپ بھول گئے کہ آئین کے آرٹیکل 1 اور 57 کے تحت یہاں کی عوام خود کو پاکستانی نہیں کہہ سکتی۔ آئین ہی انہیں پاکستانی نہیں کہتا مگر پھر بھی اس علاقے نے اپنے وسائل کا منہ مملکت عزیز کے لیے کھولا ہوا ہے۔ آپ بھول گئے کہ سی پیک کا بنیادی روٹ یہی علاقہ ہے۔ آپ بھول گئے کہ پوری دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ کے -ٹو اسی علاقے میں واقع ہے ۔ سر! آپ یہ بھی بھول گئے کہ سیاچن جیسا دفاعی میدان بھی یہیں واقع ہے۔ آپ کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ دیوسائی جیسا خوبصورت اور دفاعی میدان بھی یہیں واقع ہے۔ سر آپ کو یہ بھی یا دنہیں رہا کہ یہاں کوئی معیاری کالج اور یونیورسٹی کے نہ ہوتے ہوئے بھی تعلیمی معیار باقی صوبوں سے بہت آگے ہے۔

یہاں کا ہنزہ، یہاں کا غذر، یہاں کا گلگت، یہاں کا دیامر، یہاں کا چلاس ، سر ! آپ سب ہی بھول گئے اور ایک دفعہ بھی اس علاقے کے بارے میں بات کرنا آپ کو کیسے یاد نہیں رہا۔ کیسے آپ بھول گئے کہ آپ نے الیکشن سے پہلے یہاں آکر کتنے وعدےکئے تھے کہ اسے اس کا حق دلائیں گے۔ سر یہاں کے لوگ ہر قسم کا ٹیکس دیتے ہیں۔یہاں کی سرزمیں آج بہت خوش تھی۔ یہاں کی مٹی خوشبو سے مہک رہی تھی۔ اسے امید تھی کہ آپ آج اس کا نام لیں گے۔ اسے نور عطا کریں گے مگر سر ! آج آپ نے اس خطے کو بہت مایوس کیا۔

کاش آپ ایک دفعہ کہتے ۔ ایک دفعہ گلگت بلتستان سے مخاطب ہوکر کہتے کہ:
“گلگت بلتستان والو! تبدیلی کے لیے تیار ہوجاو۔ میں تمھاری بھی سنو ں گا۔ یہاں کے سب سے مظلوم تم ہو۔ تمھیں تو تمھاری پہچان تک نہیں ملی۔ تمہیں تو تمھارا نام تک نہیں ملا۔ تمھیں ووٹ کا حق نہیں ملا۔ تمہیں سینیٹ میں نمائندگی حاصل نہیں۔ تم قومی اسمبلی کا سیٹ نہیں لڑ سکتے۔ آئینی لحاظ سے تم متنازعہ ہو پھر بھی تم سارے ٹیکسز دیتے ہو۔ تمھیں حقوق حاصل نہیں مگر فرائض تم سارے انجام دیتے ہو۔ آج سے ایسا نہیں ہوگا۔ آج سے تمھیں تمھارے حقوق ملیں گے۔ میں تمھاری آواز بنوں گا۔ میں تمھارے لیے لڑوں گا۔ میں تمھیں تمھارے حقوق دلاوں گا۔

سر! امید تھی آپ اس بے آئین سرزمیں کے لیےبھی اپنی  تقریر کے  صفحات میں جگہ رکھتے۔ سر!دیامر بھاشا ڈیم وہیں بن رہا ہے۔ سی پیک وہیں سے گزر رہا ہے۔ جنگلات، دریا، سیاحت، معدنیات اور وسائل اسی کے استعمال ہورہے ہیں مگر سر! اس خطے کو سو فی صد وسائل لے کر واپسی پر 2 فی صد دیا جاتا ہے اس پر بھی اسے ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اسے این ایف سی ایوارڈ میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔ یہاں کی ڈمی اسمبلی کو اتنے بھی اختیارات نہیں کہ یہ اپنے لیے اچھا سا بل پاس کرسکے۔ یہاں کی اٹھارہ لاکھ آبادی ایک وسیع وعریض رقبہ رکھنے کے باوجود، معدنیا ت ، سیاحت اور آبی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملازمتوں کے لیے دوسرے شہروں میں دربدر ہوتی ہے۔ اچھے تعلیمی تو چھوڑیں سر ! یہاں ایک میڈیکل اور انجنئیرنگ کالج تک نہیں۔ یہاں ایک فیکٹری تک نہیں۔ یہاں کا ایم فل کیا ہوا طالب علم آٹھ سے دس ہزار میں کسی پرائیویٹ سکول میں ملازمت کر رہا ہے۔ دیگر کوئی پرائیویٹ ادارہ یہاں ہے ہی نہیں جہاں وہ ملازمت کر سکے۔ یہاں کا ہسپتال دیکھ لیجئے سر!، یہاں کی صحت کی سہولیات دیکھ لیجئے ۔ سہولیات کے لحاظ سے دیکھیں تو سر یہ علاقہ بلوچستان سے سو گنا پیچھے ہے۔ یہاں ابھی تھری جی نہیں چلتا ہے۔

میں آپ سے گزارش کروں گا آپ ایک دفعہ یہاں کا تفصیلی دورہ کریں۔ یہاں کے مسائل کو لیڈر کی آنکھ سے دیکھیں اور لیڈر بن کر سوچیں اور لیڈر بن کر یہاں کے مسائل حل کریں۔ ہمیں آپ سے اب بھی امید ہے اگرچہ آپ نے اپنی تقریر میں بھی ہمارا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ سر ! آئیے ہمارا ہاتھ تھامئے۔ ہماری آواز بنئے۔ آپ اس مملکت کو مدینہ جیسا بنانا چاہتے ہیں تو سر ہمیں بھی دیکھ لیجئے۔
ہم آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ہمیں ہمارا حق چاہیے۔ ہمیں ہمارا تشخص چاہیے۔ ہمیں ہماری پہچان چاہیے۔ ہمیں ہمارا حصہ چاہیے۔ ہمیں ہمارا حق دے دیجئے سر!، ہمیں مکمل صوبہ یا آزاد کشمیر جیسا سیٹ اپ دے کر ہمارے تعلیمی، صحت ، روزگار اور دیگر تمام مسائل حل کیجئے سر!
امید ہے آپ ایسا ضرور کریں گے۔
فقط ایک عام گلگت بلتستانی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *