• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امریکی صدارتی انتخاب : آنکھوں دیکھا حا ل(حصّہ اوّل)۔۔جمال خان

امریکی صدارتی انتخاب : آنکھوں دیکھا حا ل(حصّہ اوّل)۔۔جمال خان

SHOPPING

تین نومبر-رات کے سات بج کر 5 منٹ ، مشرقی ریاستوں سے نتائج  آنا شروع ہوتے ہیں ۔پہلے مرحلے میں 100فیصد  یقینی” ریڈ سٹیٹس” سے جیت اور الیکٹرول ووٹ کا ٹرمپ کو ملنے کا آغاز ہوتا ہے ۔صدر ٹرمپ کے من میں احساس برتری اور فاتح ہونے کے جذبات بیدار  ہونا شروع ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ دیر بعد مشرقی ریاستوں سے بلیو ریاستوں” کے رزلٹ  آنا شروع ہوتے ہیں۔
“بلیو لائن” کا آغاز ہوتا ہے جو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے شروع ہوکر نیو انگلیڈ تک ہوتا ہوا نیو ہمپشائر تک جا پہنچتا ہے جو بائڈن کے الیکٹرول ووٹ بڑھ جاتے ہیں ۔

صدر ٹرمپ کے ذہن میں جو پہلا خیال آتا ہے۔۔
” کرپٹ دھوکے باز فراڈہے ڈیموکریٹس مجھ سے الیکشن چھین رہے ہیں۔۔۔ رات گئے کیلیفورنیا سمیت مغربی ریاستوں کے نتائج جو بائڈن پھر آگے صدر ٹرمپ کی بے چینی میں اضافہ ۔۔۔ ۔اب صدر ٹرمپ کی نظریں ٹی وی سکرین پر تمام سونگز سٹیٹس میں ان کی برتری جس کی صرف ایک وجہ ۔۔ کروڑوں ری پبلکنز ووٹرز نے پولنگ سٹیشنوں پر جاکر ووٹ ڈالے مشین کے اندر بیلٹ پیپرز ڈالتے ہی نتیجہ تیار ہوتا ہے۔صدر ٹرمپ انہی رزلٹ کی بنیاد پر رات ڈھائی بجے اپنی فتح کا اعلان کر دیتے ہیں کیونکہ ان کے ایک انتہائی ہمدرد ساتھی جن کا نام ” صدر ڈونلڈ ٹرمپ ” ہے انہیں بتاتے ہیں کہ اصلی اور قانونی ووٹ وہی ہوتے ہیں جو پولنگ والے دن پولنگ سٹیشنوں پر بنفس نفیس جاکر ڈالے جائیں۔اس بنیاد پر ان کی لیڈ بتا رہی ہے کہ وہ یہ انتخاب جیت چکے ہیں ۔ایک بھلے مانس مشیر جان کی امان پا کر عرض کرتا ہے ” سر” ابھی وہ دس کروڑ ووٹ جو ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ہیں ابھی ان کی گنتی پوری ہونے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔۔ آپ جلدی کرگئے ۔

صدر ٹرمپ پوچھتے ہیں مجھے صرف یہ بتاؤ کہ ڈاک والے ان ووٹوں میں سے کتنے فیصد ری پبلکنز کے ہیں جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ سر وہ بھی لاکھوں کروڑوں میں ہیں تو صدر ٹرمپ کچھ سوچ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔

بدھ چار نومبر !ریاست جارجیا پینسلوینیا نارتھ کیرولائنا مشی گن اور وسکانسن میں صدر ٹرمپ سکرین پر اپنی لیڈ دیکھ کر ابھی اپنی فتح کا دوبارہ اعلان کرنے ٹویٹر اکاؤنٹ کھولنے کا سوچ ہی رہے ہوتے ہیں کہ ان ریاستوں کے سرکاری حکام اعلان کرتے ہیں کہ اب ہم لوگ بڑی تیزی سے ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے کروڑوں ووٹوں کی گنتی کا عمل  مکمل  کر رہے ہیں۔

جیسے جیسے ان ووٹوں کی گنتی کا اعلان ہوتا ہے صدر ٹرمپ کی سبقت بڑی تیزی سے کم ہونا شروع ہوتی ہے ۔صدر ٹرمپ کے لئے یہ صورتحال قابل قبول نہیں۔پھر بیان جاری ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
“میرے وکلاء فوری طور پر عدالتوں میں گنتی روکنے کی اپیل دائر کریں ۔۔ایک مشیر کہتا ہے سر ڈاک کے ذریعے جو لاکھوں کروڑوں ووٹ ابھی باقی ہیں وہ ان علاقوں سے بھی تو ہیں جو ہمارا ” گڑھ” ہیں اور پھر سر آپ کو پاپولر ووٹ میں بھی تو برتری چاہیے نا ۔۔اس لئے ابھی گنتی روکنے کے احکامات نہ جاری کریں۔
صدر ٹرمپ اپنے مشیر کو تھپکی دیتے ہوئے کہتے ہیں  ۔۔
اوکے پھر میں یہ حکم دیتا ہوں کہ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے وہ ووٹ جو میرے حق میں ہیں وہ قانونی ہیں اور جو میرے مخالف امیدوار کے ہیں انہیں میں غیر قانونی قرار دیتا ہوں اور فوراً اپنا یہ بیان پریس کو جاری ہوجاتا ہے ۔۔

صدر ٹرمپ ریاست فلوریڈا اور آوہایو ریاستوں سے فاتح قرار دیئے جانے کے بعد اپنے ووٹرز کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں اور دونوں ریاستوں کے پولنگ عملے کو انتخاب کو شفاف اور ووٹنگ کے عمل کو دیانتداری سے ادا کرنے پر خراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں ۔اگلا نتیجہ ریاست وسکانسن اور ریاست مشی گن سے ۔جو بائڈن جیت جاتے ہیں ۔صدر ٹرمپ آپے سے باہر ۔۔اپنے ہی انتخابی نظام کی شفافیت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے۔۔۔کرپٹ ۔چور۔فراڈ۔ دھوکے باز ۔ انتخابی عملہ مجھے ہرانے کے لئے ووٹوں کی غلط گنتی کر رہا ہے ۔یہ سارا انتخابی نظام ہی کرپٹ ہے ۔۔۔میں اپنے وکلاء کو حکم دیتا ہوں فوراً  دونوں ریاستوں میں عدالتوں میں اپیل دائر کریں۔عدالتیں کہتیں ہیں ” برائے مہربانی ثبوت” دیجیے۔۔۔وکلاء فون کیمرے سے بنی ایک ویڈیو دکھاتے ہیں جس میں ایک پولنگ ورکر کے ہاتھ سے بھاری بھرکم بیلٹ باکس گر جاتا ہے ۔عدالت اتنا ” عظیم” یہ ثبوت دیکھ کر اپیل خارج کر دیتی ہے ۔

5 نومبر–جمعرات کی صبح طلوع ہوتی ہے ۔
ایک طرف ماسک پہنے جو بائیڈن امریکی عوام سے اپنی جیت پر ابھی بھی عاجزی اور انکساری سے یہ کہتے ہیں ۔۔ برائے مہربانی ووٹوں کی گنتی مکمل ھونے کا انتظار کریں ۔۔ ایک ایک ووٹ کی عزت ہے چاہیے وہ ڈیموکریٹس کا ہو یا ری پبلکن کا میرے لئے سب قابل احترام ہیں ۔ وہ بھی جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا ۔۔۔دوسری جانب ۔۔صدر ٹرمپ کی لیڈ لاکھوں ووٹوں سے کم ہوتے ہوتے چند ہزار کی رہ گئی۔جارجیا پینسلوینیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے گڑھ شہری علاقوں سے لاکھوں ووٹوں کا سمندر جو ڈاک کے ذریعے وصول ہوئے– اپنا کام بڑی تیزی سے دکھا رہے ہیں ۔۔صدر ٹرمپ کا پھر بیان ۔میں ان تمام ووٹوں کی فوری گنتی کا عمل روکنے کا حکم دیتا ہوں۔۔
میرے وکلاء فوری طور پر ایکشن لیں ۔

ایک مشیر ۔سر ریاست ایریزونا میں آپ بائڈن کی لیڈ کم کر رھے ہیں ڈاک کے ذریعے ووٹوں سے
صدر ٹرمپ —اوکے میں حکم دیتا ہوں ۔۔
کہ ریاست ایریزونا میں گنتی جاری رکھی جائے مگر باقی ریاستوں میں جہاں سے میرا “دشمن” جیت رہا ہے وہاں گنتی روکی جائے کہ وہ سارے ووٹ بوگس ہیں ۔۔

5 نومبر،جمعرات کی شام۔وائٹ ہاؤس پوڈیم سے ۔میں اپنی شکست کو نہ تسلیم کروں گا نہ ہی ان انتخابات کے نتائج کو مانتا ہوں ۔”ہمارا” پورا انتخابی نظام ہی انتہا کا کرپٹ ،بددیانت اور دھوکے باز ہے ۔۔ایک مشیر کان میں ۔سر آپ نے چھ ماہ پہلے اپنے ووٹرز سے خود ہی تو کہا تھا کہ  آپ لوگ صرف پولنگ سٹیشنوں پر جاکر ووٹ ڈالیں گے ۔۔ اور یہ کہ مجھے اپنے ڈاک کےنظام پر اعتبار نہیں —صدر ٹرمپ ۔۔ہمارے لوگوں کے جو ووٹ ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے انہیں جان بوجھ کر کوڑے دان میں پھینکا گیا ہے۔.ایک مشیر ڈرتے ڈرتے ۔۔سر ہمارے پاس ایسا ایک بھی ثبوت نہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔۔ چیختے ہوئے

SHOPPING

God   damn it… Just  Shut up….
تمہارا مطلب ہے کہ ۔۔۔میں آج اس مقام پر ثبوتوں کے ذریعے پہنچا ہوں “”
جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *