مختصر مختصر۔۔۔ رانا اظہر کمال

گزشتہ روز کی خبروں کا خلاصہ اور مختصر تبصرہ

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں نئے سپیکر اسد قیصر ایوان میں ہلڑ بازی کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دئیے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ن لیگی ڈراموں کے عادی نہیں (رفتہ رفتہ ہو جائیں گے) اور دوسری، وہ چاہتے تھے کہ قائد ایوان کے انتخاب کا مرحلہ کسی نہ کسی طرح نمٹ جائے، شوہدے ارکان سے بعد میں نمٹ لوں گا۔

وزیر اعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی نے حصہ نہ لے کر ایک طرف تو شہباز شریف کو ان کی حیثیت یاد دلا دی اور دوسری طرف یہ بھی بتا دیا کہ متحدہ اپوزیشن کا ناٹک صرف ایکٹ پر مشتمل مختصر دورانیے کا کھیل تھا۔

اسی انتخاب میں جماعت اسلامی کے واحد رکن نے بھی حصہ نہ لیتے ہوئے متحدہ مجلس عمل میں دراڑ کی نشاندہی کر دی۔

عمران خان 176 ووٹ لے منتخب ہوئے تو ن لیگ نے حسب سابق خواتین ارکان کو آگے کر کے اسی طرح کی ہنگامہ آرائی کی جیسے 90 کی دہائی میں کرنا اس جماعت کا معمول تھا۔ البتہ اس ہنگامہ آرائی اور طوفان بدتمیزی کا ن لیگی ووٹرز پر بھی برا اثر پڑا اور بیچارے خفت چھپانے کے لیے بلاول بھٹو کی تقریر کی تعریف کرتے پائے گئے۔

بلاول بھٹو نے بلا شبہ ایک بہترین تقریر کی اور ثابت کیا کہ وہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں۔
اگر 2008 سے 2013 کے درمیان پیپلز پارٹی کی کارکردگی اس قدر بری نہ رہی ہوتی تو آج یہ دیکھنا نہ پڑتا۔ دوسری جانب بلاول کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ان کے والد اور پھوپی کی وہ مبینہ کرپشن ہے جس سے جتنی جلد چھٹکارہ ہو جائے، بلاول کے سیاسی کیرئر کے لیے اتنا بہتر ہے۔

عمران خان کی بطور وزیر اعظم پہلی تقریر ن لیگ کی ہنگامہ آرائی کے باعث ری ایکٹیو تھی۔ میری ذاتی رائے میں انہیں تھوڑا سا ڈپلومیٹک ہونے کی ضرورت تھی لیکن انہوں نے اپنی افتاد طبع کے مطابق کھل کر وہ کچھ کہہ ڈالا جو وہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔ خدا کرے وہ یہ کچھ واقعی کر جائیں، چاہے ان پر سیاسی انتقام کا لیبل لگے یا کچھ اور ۔۔۔۔ لیکن جو کہا ہے، وہ ہونا چاہیے۔ ویسے بھی برطانوی وزیر اعظم ٹریز مے نے فون پر عمران کے ساتھ منی لانڈرنگ کے معاملے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

قومی اسمبلی میں جینوئن بلوچ رہنما جناب اختر مینگل کی تقریر بہت عمدہ اور حقیقت پر مبنی تھی۔ دعا ہے کہ ان کے ساتھ بلوچستان کے معاملے پر جو وعدے کیے گئے ہیں، ان پر پوری طرح عملدرآمد ہو اور بلوچ دوستوں کے گلے شکوے دور ہوں۔ جناب اختر مینگل جیسے لوگ بلوچستان کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ ماضی کے ارکان اسمبلی کی طرح اپنے پورے خاندان کے لیے فوائد سمیٹنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے عمران خان نے حسب توقع ایک کمزور امیدوار کا نام فائنل کیا ہے جو جہانگیر ترین کے انگوٹھے کے نیچے بخوبی کام کرے گا۔ آخر ترین صاحب کے احسانات کا بدلہ بھی تو چکانا ہے۔ خیر اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ۔۔۔۔۔ نا بالغ کہیں سے ڈھونڈ کر غلام حیدر وائیں کی وزارت اعلیٰ تلاش کر لیں ۔۔۔۔ البتہ جنوبی پنجاب سے وزیر اعلیٰ منتخب کرنے سے ایک فائدہ ہو گا کہ فوری طور پر جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبے کا مطالبہ ذرا دب جائے گا کیونکہ نیا صوبہ بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے پاس مطلوبہ اکثریت نہ پنجاب اسمبلی میں ہے اور نہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں۔ سو انصافی دوست فی الحال گزارہ کریں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *