کبھی ایسا بھی تو ہو۔۔۔ محمد حسنین اشرف

جی چاہتا ہے کہ شہر کی روشنیوں اور معاش کی فکر سے پرے کہیں ایک جھونپڑی بنائی جائے، ایک گھر بسایا جائے۔ وہ دور اوپر جنگل میں کسی سپاٹ مقام پر لکڑی کا ایک گھر، جس کی کھڑکی سے نیچے وادی کا منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔ سرسبز وادی، جس کی نرم گھاس پر جانور منہ مارتے اٹھکیلیاں کرتے پھر رہے ہیں وادی کے بیچوں بیچ ایک دریا سست روی سے بہہ رہا ہے۔ جس کی چال وادی کا سُکوت برباد نہیں کر رہی، شام ڈھل رہی ہے۔ ذرا گردن گھمائی تو معلوم ہوا کہ سورج پر موت کی سختی طاری ہے پیلا پڑتا  جا رہا ہے۔ ایسے جیسے جان ابھی نکلنے کو ہے۔ وادی کے مغربی حصے پر موجود پہاڑی سلسلے کی نوک پر سورج نے اپنا سر رکھ دیا ہے کہ جیسے بعد از موت اسکا مدفن یہی پہاڑی ہوگی۔ اس کی زرد کرنیں اور بڑھتا اندھیرا  موت کا پیغام لا رہا ہے۔ اس بات سے باخبر ،سورج، آخر ی بار وادی پر نظر ڈالتا ہے، بہتے دریا کے پانی تک اپنی آواز، اپنی کرنیں پُہنچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن بے سود، مدھم ہوتا، بجھتا، اپنی محبوب پہاڑی سے آخری بار ہمکلام ہوتا، شاید اظہار محبت کرتا، نیچے وادی میں بکھری زندگی  پر اُچٹتی سی نگاہ ڈالتا اور غروب ہوجاتا ہے، سورج اپنا وجود کھو چکا لیکن کچھ  آخری کرنیں ابھی باقی ہیں۔ اندھیرا اپنی طاقت جمع کرتا  ہے اور آخری وار کرنے کی تیاری پکڑتا ہے پھر آخر کار یہ چراغ نئی صبح کے لئے دم توڑ دیتا ہے۔نیچے وادی میں اب کچھ نظر نہیں آ رہا، ہر طرف اندھیرا، ایسے جیسے نیچے، وادی میں، رواں دواں زندگی ، دم توڑ چکی ہے۔

عشاء کا وقت داخل ہو رہا ہے، نیچے وادی میں ایک ٹوٹی صف پر چند ایک لوگ جمع ہیں، کچھ وضو کرکے ابھی پہنچ رہے ہیں۔ ایک عجیب پرسکون فضاء ہے، سکوت طاری ہے  لوگ سرگوشیاں کر رہے ہیں، کچھ لوگ زیر لب مسکرا رہے ہیں اور کچھ کمر مسجد کی دیوار سے ٹکائے، ہاتھ میں تسبیح لئےبیٹھے ہیں۔  صاف ستھرے چہرے، سینے کینہ  و بغض سے پاک، ڈاڑھیوں سے ٹپکتا وضو کا پانی، کوئی ابھی وضو بنا کر فارغ ہوا ہے تو وہ اپنی آستینیں چڑھا رہا ہے۔ آپ متانت اور سنجیدگی سے چلتے ہوئے مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔ آہستگی سے سلام کرتے وہیں صف پر بیٹھ جاتے ہیں۔ داہنے طرف ایک بزرگ ہیں جن سے بیٹھتے ہی احتراماَ آپ نے مصافحہ کیا،   ہر کوئی اپنی مصروفیت کو جاری رکھے ہوئے مولوی صاحب کا منتظر ہے۔دروازے سے مولوی صاحب جلدی جلدی  داخل ہو کر مصلےپر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ نماز سے فراغت کے بعد آپ وہیں قریب ہوٹل کا رخ کرتے ہیں۔ ہوٹل  کے احاطے میں بھیڑ ہے، لوگ قہقہے بلند کر رہے ہیں، قصہ گو، قصے سنا رہے ہیں اور ساتھ ہی کھانا بھی کھایا جارہا ہے۔ ہوٹل کی عمارت دریا کے بلکل کنارے واقع ہے، آپ عمارت میں داخل ہوتے ہیں، یہاں قدرے خاموشی ہے۔ مودب بیرے، صاف ستھری جگہ اور ہلکی موسیقی۔ ایک بیرا آگے بڑھ کر آپ کی جائے طعام کی طرف راہنمائی کرتا ہے، کھانے کے متعلق پوچھتا ہے ۔ آپ اب ٹیک لگائے، ہلکی آواز میں رباب اور ستار کی تاروں  کی جنگ سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ درمیان میں بانسری ، ہارمونیم، گٹار اور پیانو بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اس سارے ماحول میں دریاکا شور ، بلکل آپ کے سر کی جانب، ایسا شور کہ پانی پتھروں سے، عمارت کے در و دیوار سے، یوں سر ٹکراتا پھرے، جیسے مجنوں لیلا کی ایک جھلک دیکھنے کو گریباں چاک، زخمی قدموں سے،  گلیوں میں مارا مارا پھرتا ہو، کبھی کسی گھر پر دستک دیتا ہو، کبھی کسی چوکھٹ پہ گرتا ہو، کبھی وہ  پتھروں سے سر ٹکراتا تو کبھی پتھر ا س سے ٹکراتے، لیل و نہار کی گردش سے بے خبر، رو گرداں، ہر دم، ہر لحظہ ، ہر گھڑی، اپنے محبوب کی تلاش میں۔ لوگ اپنے گھر کے در، اپنی کھڑکھیوں کے پٹ یہ سوچ کر بند کرلیتے ہوں کہ شاید خود ہی، تھک ہار کر،  اس دیوانے کو قرار آ جائے، لیکن وہ دیوانہ ہی کیا جسے قرار آ جائے۔ اس وقت تک سرگرم عمل، جب تک وہ گردش میں یا یہ دنیا۔

رات کا ایک حصہ بیت چکا، چاند پوری آب و تاب کے ساتھ سیاہ آسمان پر، ہلکی سفید روشنی کی پھوار ڈال رہا ہے، ستارے جگمگا رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کسی دوشیزہ نے  کالی  زلفوں پر سیاہ چادر اوڑھ لی ہو۔ اور ایک سر پھرے نے آگے  بڑھ کر، اس چادر پر سفید موتی جڑ دئیے ہوں۔ اب  یہ چادر ان ملائم بالوں سے سرکے جاتی ہے اور وہ ہوش رُبا اس نفاست سے اسے سنوارتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے جیسے چادر پر پڑے موتی حرکت کر رہے ہیں کہ ایک لمس کو ترستے ہیں ۔ اس ماحول نے آپ کی نیند آپ کی آنکھوں سے چرا لی  اور آپ خوابگاہ کا رخ کرنے کی بجائے داخلی سیڑھیوں پر اس انداز میں چوکٹے کے ساتھ کمر ٹکائے بیٹھے ہیں کہ تاروں  سےبھر پورا آسمان آپ کے سامنےہے اور چاند تو جیسے آپ ہی سے ہمکلام  ہوا چاہتاہے۔ اس کی سفید، دودھیا روشنی، عجیب پاکیزگی نچھاور کر رہی ہے۔  چاند  ایسے، جیسے اپنی جناب سے نور کی خیرات آپ کی جھولی میں ڈالنا چاہتا ہو۔ جیسے آپ سے قوت گویائی چھین کر آپ کو سماع و بصر کی طاقت سے نوازنا چاہتا ہو۔ جیسے کوئی بات، کوئی قصہ، کوئی کہانی آپ کے دل میں القاء کرنا چاہتا ہو،  جیسےآپ کے دل کے در  کھول کر کشف کی نعمت سے نوازنا چاہتا ہو۔ کچھ دیر اس نظارے میں گم رہنے کے بعد احساس ہو رہا ہے کہ واقعی ہی نور اندر اتر گیا ہے۔ اب یہ وقت ہے کہ آپ پر عُقدے کُھلنے لگیں، یہ وقت ہے کہ فلسفے سمجھ میں آنے لگیں اور یہ وقت ہے کہ گُتھیاں سلجھنے لگیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ مقصدِ زندگی پا گئے، آپ پر رازِ حیات افشاء ہوچکا ، جیسے ایک معمہ حل ہوچُکنے کے بعد کندھوں سے بھاری بوجھ اتر جائے، جیسے  ایک عرصے سے  افسانے کے کردار خاموش ہوں اور اب وہ بولنے لگیں۔ جیسےکئی سالوں کی ریاضت اور بھوک پیاس نے آپ کو بُدھا بنا دیا ہو، گیانی کردیا ہو۔

چاند آہستہ آہستہ، سرکتا سرکتا، غیر محسوس انداز میں، آپ کے سر کے اوپر آن کھڑا ہوا ہے۔ جیسے تخلیہ چاہتا ہو، آپ اٹھ کر خوابگاہ کی طرف قدم بڑھاتےہیں، نیند آنکھوں کو لوٹا دی جاتی ہے۔ اب آنکھوں کو مزید جگائے رکھنا بدتہذیبی شمار ہوگی۔ نرم بستر، مدھم روشنی اور جنگل کا سکوت اور کبھی کبھی اس سکوت کو چیرتی ، ٹراتی مینڈکی  کی آواز۔آپ لحاف اوڑھتے ہیں، گرم بستر میں کسی بچے کی طرح، سمٹے ہوئے، ہاتھ ٹانگوں میں دبائے، نیند کی آغوش میں ، جیسے مشفق ماں نوزائیدہ کو گود میں لئےسہلاتی ہو، لوری سناتی ہو۔ جی چاہتا ہےکبھی ایسا بھی تو ہو!

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *