بڑھتی ہوئی تنہائی اور انسانی معاشرے۔۔۔۔عبدالغنی

انسان کے ساتھیوں میں سے تنہائی بہترین ساتھی ہے کیونکہ یہ کسی بھی وقت ساتھ نہیں چھوڑتی ہے ، اس سے بےوفائی اور جفاکا کوئی ڈر نہیں ہوتاہے ، جب سبھی لوگ ساتھ چھوڑجائیں تو آخری سہارا تنہائی ہی ہوتی ہے ۔تنہائی بذات خود کوئی چیز ہوتی ہے یا اس میں کچھ  چیزیں  ایسی ہوتی ہیں جو اکیلے میں انسان کی رفیق ثابت ہوتی ہیں ۔ میرے خیال میں تنہائی بذات خود بھی کوئی چیز ضرور ہے لیکن اس میں موجود اور اس سے ملحق چیزیں ایسی ہیں جو کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتی ہیں ، اور اگر یہ چیزیں جدا ہوجائیں تو اس حالت کو ہم موت کے سوا کسی حالت سے تعبیر نہیں کر سکتے ہیں ۔ تنہائی میں عام طور پر سوچیں ، خیالات اور یادیں ہوتی ہیں ، تنہائی میں غور و فکر ہوتاہے ، تنہائی میں دماغ کی مشق ہوتی ہے ۔ ان کے علاوہ تنہائی بوریت ، ذہنی تھکان ، پریشانی اور اکیلے پن کا نام بن جاتی ہے ۔ تنہائی  کے بارے میں اگر غور کیا جائے تو   دیگر بہت سی چیزوں کی مانند یہ بھی اپنی ذات میں  مثبت اور منفی دونوں پہلو  سموئے ہوئے ہے ۔ تنہائی کے مثبت پہلو کو دیکھا جائے تو اس میں بہت سے فوائد ہیں ؛ اکیلے پن اور خلوت نشینی میں انسانی سوچ اور فکر صحیح معنوں میں بیدار ہو جاتی ہے ، اگر چہ بہت سے تنہائی پسندوں کو افکار و خیالات سے یہی شکایت ہے کہ وہ ان کی تنہائی میں مخل واقع ہوتے ہیں   اور ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے ہیں اور بعض لوگ تو  اکیلے پن کو پسند کرنے میں ان سے بھی آگے گزر گئے ہیں ان  کو خود تنہائی سے شکایت ہے کہ وہ بھی ان کے  ساتھ کیوں ہوتی ہے ، آخر ان کا ساتھ چھوڑ کیوں نہیں دیتی  اور بعض لوگوں کو تو خود اپنے آپ سے یہی شکایت ہے کہ ان کی ذا ت ان  کو تنہانہیں ہونے دیتی لیکن یہ سب ادبی اور فکری باتیں ہیں ۔ میرے خیال میں  ایک زندہ انسان کے لیے سوچ ، فکر اور خیالات لازمی چیز ہیں ، دماغ تو کسی بھی حالت میں بھی  کام کرنا بند نہیں کرتاہے چاہے انسان تنہا ہو ، سویا ہو یا پاگل ہو چکاہو ۔ یہ کسی نا کسی طرح اپنا کام کرتاہی رہتاہے ۔ بہرحال آدمی جب تنہاہوتاہے تو اس  کے خیالات کو یکسانیت ملتی ہے اور اس کو ارتکاز توجہ کی کیفیت حاصل ہوتی ہے، انسان کے سوچنے کی حس بہتر طور پر کام کرنے لگتی ہے ، اب اس کے ہاں نئے خیالات ، افکار اور سوچیں جنم لیتی ہیں ۔نئے آئیڈیا ز اور سوچوں سے نئے منصوبے ذہن میں آتے ہیں جن کی تکمیل میں انسان کی ذاتی ، سماجی اور قومی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے ۔ ان نئے منصوبوں کو ماضی کی معلومات اور تجربات کی روشنی میں  آزمانے والے لوگ ہی بالآخر کامیاب ہوتے ہیں اور معاشرے میں ممتاز مقام حاصل کرتے ہیں ۔ انسان کی ترقی کا تمام  سفر اسی طرح ہی  طے ہوا ہے کہ یہ دوسروں سے معلوم حاصل کرتاہے ، اپنی دانش و ادراک میں اضافہ کرتاہے پھر ان معلومات کو ری سائیکل کرتاہے ، ان میں اپنا ذاتی غور وفکر اور تجربات کو شامل کرتاہے اور ان کو دوسروں تک پہنچا دیتاہے ۔ اس لیے معلومات کو حاصل کرنے کے لیے جس قدر معاشرے سے وابستگی ضروری اور مفید ہے ، ان معلومات میں اپنا ذاتی غورو فکر شامل کرنے اور ان کو ری سائیکل کرنے کے لیے اسی قدر تنہائی بھی ضروری اور فائدہ مند ہے ۔ خلوت کے ذریعے جہاں سو چ و فکر کو جلاء ملتی ہے، انسان کی ناپختہ صلاحیتیں پختگی حاصل کرتی  ہیں ،  وہیں انسان اپنی ذات ، کردار ، خوبیوں  ،  خامیوں اور شخصیت سازی   کے حوالے سے بھی غور و فکر کرپاتاہے ، انسانی شخصیت کی تکمیل و تزئین کا عمل اسی طرح مکمل ہوتاہے ۔    خلوت صرف ذہنی مشق ہی کا نام نہیں بلکہ جلوت کی تھکاوٹوں کے بعد خلوت کے  ذریعے انسان کوراحت ، سکون اور آرام حاصل ہوتاہے ،  ہماری  مصروفیت میں اعتدال آجاتاہے ،خوشی وفرحت کا احساس ہوتاہے، یہ عمل ذہن کو تازہ دم کردیتاہے ۔

انبیاء ، صوفیاء ، فلاسفرز، شعراء ، ادباء ، مصنفین اور مفکرین یہ سب وہ لوگ ہیں  جو تنہائی پسند واقع ہوئے ہیں ، انہوں نےاپنی تنہائیوں کو قیمتی بنایا ، ان میں تنہائی مشترک تھی اگر چہ اس کی نوعیت  اور پھر اس میں ان کے سوچنے کے انداز مختلف تھے ۔ ان لوگوں کی کامیابیوں کا سفر تنہائیوں سے ہوتاہوا لوگوں کی جلوتوں اور خلوتوں کو معطر کر گیا ۔

مذاہب میں اگر دیکھا جائے تو انبیاء ، صوفیاء اور اولیاء کا سفر تنہائی سے ہی شروع ہوا جس میں اپنی ذات میں انہماک و استغراق  ، خودی کی پہچان ، حق کی تلاش ، مخلو ق خدا کی بھلائی کی فکر اور برائی کاقلع قمع کرنے کی تمنا ان لوگوں کی باطنی آگ کو دو آتشہ کرتی رہی جس کے ان کے ظاہر پر ایسے اثرات مرتب ہوئے   کہ وہ مرجع خلائق اور رہبر و رہنما بن گئے ۔تمام انبیاء کی تعلیمات کے جامع ہمارے آخری نبی حضرت محمدﷺ بھی ابتدائی طور پر تنہائی میں جا کر متفکر  رہتے تھے ، اسی تنہائی میں کئی کئی دن گزار دیتےتھے اور پھر اسی تنہائی میں ان کو پیغا م حق  ملا ۔ آپ سےپہلے  ابرہیمی مذاہب میں سے یہودیت کے رہنما حضرت موسیٰ اللہ سے ہم کلام ہونے  اور کلام مقدس کو حاصل کرنے کے لیے کوہ طور پر خلوت نشین ہوتے  تھے ، عیسائیت کے رہنما حضرت مسیح  بھی انجیل کے مطابق یوحنا سے بپتسمہ لینے کے بعد Judean desert یہودیہ کے صحراء میں تنہاہوگئے تھے ، بعض مذاہب تو خالصتا خانقاہی اور تجریدی طر ز  کے ہیں ، ہندومت ، بدھ مت ، جین مت اور سکھ مت میں  تنہائی ، خلوت نشینی اور رہبانیت کی بہت اہمیت ہے ۔ بدھ مت کے رہنما گوتم بدھ کو نروان تنہائی میں ہی جنگلوں میں جا کر ملا تھا ، جین مت کے بانی مہاریر کا شمار چوبیس تیر تھنکروں میں تنہائیوں کے بعد ہی ہوا تھا ، سکھ مت کے بابا گورونانک بھی جنگلوں اور مختلف درباروں پر تنہاچلہ کشی کرتے رہے ، فلسفیانہ  مذاہب میں سے کنفیوشس اور لاؤزے  نے بھی انسانیت کی معراج کو تنہائی میں تلاش کیاتھا ۔ ان سب لوگوں نے عرفان ذات و حق کو تنہائیوں میں تلاش کیا اور پھر گوہر نایاب کو پاکر مخلوق خدا کو فائدہ پہنچایا ۔انبیاء کے بعد صوفیاء ، اتقیاء اور اولیاء سبھی تنہائی کے بہترین ساتھی رہے ہیں ، کیوں نہ ہوتے تنہائی میں  ہی صفت احسان حاصل ہوتی ہے  جب انسان کا دماغ اس نہج میں سوچنے لگتا ہے  کہ وہ عبادت یا نیک کام رب کو دیکھ  کر رہا  ہے یا رب اس کو دیکھ رہا ہے ، تنہائی میں  انسان کو تقویٰ کا اعلیٰ درجہ نصیب ہوتاہے جب  وہ صرف ذات باری کے خوف سے گناہوں سے بچ رہا ہوتاہے ۔ تنہائی  میں عرفان حق اور وصال  کی کیفیت حاصل ہوتی ہے ، تنہائی میں باطنی قوتوں کو تقویت اور روشنی ملتی ہے ۔ لیکن اسلام اور دیگر مذاہب کے بہت سے رہنماؤں نے جلوت اور خلوت میں اعتدال کی تلقین کی ہے ۔ ایسی تنہائی جو انسانی معاشرتی زندگی کی قاتل ہو اس کو ناپسند اور ممنوع قرار دیاگیا ۔ باوجوداس  کے کہ حضور نے تنہائیوں میں بہت سا وقت گزارا صرف نبوت سے قبل ہی نہیں بلکہ نبوت کے بعد  بھی آپ کی راتیں تنہائیوں میں رب تعالیٰ کے ساتھ راز و نیا ز میں گزرتی تھیں لیکن آپ نے رہبانیت سے منع کیا ، ایسی تنہائی سے منع کیا جس میں معاشرتی زندگی ، اس کے تقاضوں اور ضروریات  کو نظر انداز کر دیا جائے ۔ اس لیے تنہائی میں  بھی حد اعتدال ضروری ہے ، کسی بھی چیز میں جب اعتدال کا دامن چھوٹتاہے تو وہ فائدے کی بجائے نقصان کی طرف چلے جاتی ہے ۔ آسمانی مذاہب اور انبیاء کی تعلیمات کے وارثین کو آج بھی اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی تنہائیوں میں اعتدال ہے کہ نہیں ؟ ان کی تنہائیاں ان کو ملک و ملت ، معاشرہ ، خاندان اور رشتہ داروں سے الگ تھلگ  تو نہیں کیے ہوئے ہیں ؟ ان کی سوچ و فکر کے زاویے معاشرتی زندگی کی بجائے خانقاہی زندگی تو نہیں جنم دے رہے ہیں ؟ غرضیکہ مذاہب میں تنہائی کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ باطنی قوتوں کے احیاء و نمو ،  نفس کی اصلاح و محاسبہ ، اپنی ذات اور مخلوق کے حوالے سے تفکر کی صلاحیتوں کو بیدار کرتی اور  ان کو تقویت پہنچاتی ہے ۔

مذہب کے بعد اگر فلسفہ کی طرف دیکھا جائے تو یہ نام ہی ذہنی مشق کا ہے جس میں مذہب کی مانند کوئی عملی چیز نہیں ہوتی  ہے ، ذہنی مشق ، سوچ اور فکر کی تنہائیوں کے ساتھ خداواسطے کی دوستی ہے ۔ قدیم ہندی یا یونانی فلاسفہ اور موجودہ سائنسدان تنہائیوں میں ہی عقل کی گھتیوں کی سلجاتے ہیں ، وجود کائنات ، تخلیق کائنات ، اس کی نوعیت اور ماہیت بہت سے اہم سوالوں پر آج تک جو غور و فکر ہوا ہے وہ تنہائی کا مرہون منت ہے ۔ یونانی فلاسفہ کے غورو فکر کے مقامات ایکرو پولس ، ایتھنون اور ایتھینز  کی دیگر جگہیں آبادی سے الگ تھلگ تھیں ۔

ادباء اور شعراء بھی  بہت تنہائی دوست ہوتے ہیں ، تنہائی اور خاموشی میں ان پر طرح طرح کے خیالات وارد ہوتے ہیں جن کو احاطہ قلم میں لانا ہی ان کی زندگی کا مقصد ہوتاہے ۔ اردو شاعر ی میں بھی  شعراء نے تنہائی کو بہت زیادہ موضوع بنایا ہے  کیونکہ اردو شاعر کا ایک بڑا حصہ عشق کے گرد گھومتاہے اور عشق میں وصل اور فراق دو ہی اہم کیفیات ہوتی ہیں ، عاشق کبھی وصل کی خواہش میں اکیلا اور تنہا تڑپتا رہتا ہے اور کبھی وصل کے بعدیا وصل سے مایوس ہوکر غم فراق میں  تڑپتا رہتاہے ۔ عشاق کی زندگی میں آنے والی تنہائیاں یادوں کے سہارے یا وصال کی امید پر  ہوتی ہیں ، یہ سہارا اس قدر مضبوط ہوتاہے کہ عشاق ساری زندگی اسی ایک سہارے پر اس طرح  گزار دیتے ہیں  کہ ان کو عالم تنہائی میں کسی اور کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہے ۔ شعراء اور ادباء کے علاوہ مصنفین کی زندگیاں بھی تنہائیوں سے بھرپور ہوتی ہیں ۔ غرضیکہ دنیا کابہترین ادب ، کمال شاعری ، لا زوال اور انمٹ نقوش چھوڑنے والی تصنیفات  اور افکار تنہائیوں کا ہی عظیم شاہکار ہیں  ۔

تنہائی کے  مثبت پہلو کے ساتھ اس کا منفی پہلو بھی ہے ۔ اس کا مثبت پہلو جس قدر خوب صورت لیے ہوئے ہے اس کامنفی پہلو اسی قدر بھیانک صورت سے بھرپور ہے  ۔ تنہائی جہاں غور و فکر ، تفکر و تدبر ، تلاش ، عرفا ن ، تخلیق اور نمو سے عبارت ہے وہیں  تنہائی ویرانے ، وحشت اور اجڑے پن سے عبارت ہے ۔ تنہائی تاریکی معلوم ہوتی ہے ، تنہائی ہجر ، علیحدگی اور فراق کا نام ہے ، تنہائی میں اکیلا ہونا بے یار ومددگار ہونے  سے عبارت ہے ۔  تنہائی سے پریشانی ، غم ، یاس اور ناامیدی ٹپکتی ہے ، تنہائی احسا س کمتری و کہتری کا مظہر ہے ۔تنہائی خلاف فطرت چیز کا نام ہے ، فطرت انسان کی سرشت میں داخل کسی  چیز کا نام ہے یا ایک طویل عرصہ تک اپنائے رکھنے والی عادات کی پختگی کا نام ہے ، کچھ بھی ہو انسان ایک معاشرتی جانورہے جو ہمیشہ سے کنبوں ، قبیلوں اور معاشروں میں رہتا آیا ہے ۔ اس نے ہر دور میں مختلف تمدن اور تہذیبوں کے ذریعے مختلف ممالک ،علاقوں اور مقامات کو رونق بخشی ہے ۔قدیم دور میں بھی اور آج بھی تنہائی تو سزا سمجھی جا تی ہے ۔ قدیم دور میں جلا وطن کرکے تنہاکیاجاتا تھا جبکہ آج جیل کی کال کوٹھریوں میں تنہا کر دیا جاتاہے ۔ تو پھر تنہائی آزادی تو نہ ہوئی  ؟ لیکن آج کا انسان اس کو آزادی سمجھتا ہے ، آج کا انسان فطرت کے خلاف تنہا ہونے کو پسند کرتاہے ، یہ کنبے ، قبیلے اور خاندان سے تنہائی چاہتاہے ، یہ رشتہ داروں ، محلہ داروں اور پڑوسیوں سے تنہائی چاہتاہے ، اور تو اور اس کو اپنے والدین  ، بہن بھائیوں ، خاوند ، بیوی بچوں  سے بھی تنہا رہنا ہے ۔ ہر ایک کو اپنی پرائیوٹ زندگی گزارنا ہے جس میں اس کی پرائیویسی میں کوئی دخل نہ دے ۔ اس کو صرف اپنی زندگی میں مگن رہنا ہے ایک ایسی زندگی جس میں صرف اس کو اپنی ذات کے حوالے سے سوچنا ہے ، اپنے فائدے ، نقصان کے حوالے سے سوچنا ہے باقی اس کوہر چیز سے تنہاہونا ہے ۔ لیکن یہ سب کیوں ہے ؟ مشینی دور نے ہر ایک چیز میں تیزی پیدا کردی ، دنوں اور مہینوں کاسفر منٹوں میں طے کرنے والاانسان  اب بہت تیز ہو چکا ہے ، اس کو تیز چلنا ہے جو چیز اس کی تیزی میں رکاوٹ ہو گی اس رکاوٹ کو ایک جانب کرنا ہے ، اس کو زندگی میں دوسروں سے ہر حال میں سروائو کرنا  ہے ، یہ ڈارون کے حیاتیاتی قوانین سے واقف ہو چکاہے ، اس کو معلوم ہے کہ اس زمین پر صرف اصلح کی گنجائش ہے باقی سب ختم ہو جاتاہے اس لیے اس کو سروائو کرنے کے لیے اصلح بننا ہے چاہے جس طرح بھی ہو ۔ لائف اسٹائل کو بہتر بنانے کی دوڑ انسانوں کو دن بدن تنہاکرتی جار ہی ہے ، خاوند کے  پاس بیوی  اور اولاد کے لیے وقت نہیں ہے تو بیوی کے پاس بھی  خاوند اور بچوں کے لیے  وقت نہیں ہے ، بچے بھی والدین سے یکسر بے نیاز ہیں ۔ کسی کے پاس بھی کسی کے لیے وقت نہیں ہے ، مشینی اور صنعتی دور نے کس قدر مہنگا کر دیا وقت کو ، آخر انسان کو ترقی بھی تو کرنی ہے ،  انسان وقت کی اسی قدر کی وجہ سے تاریخ میں ترقی کے سب سے اعلیٰ مقام پر کھڑاہے ۔ لیکن اس مہنگے وقت نے جذبات  اور احساسات کا بہت بے رحمی سے قتل کیا ہے ۔ اس مہنگے وقت نے رشتوں اور ناطو ں کی حرمت اور تقدس کو بہت بری طرح پاؤں تلے دبادیا ہے ۔ آج کے اس مشینی دور میں لائف اسٹائل کو بہتر بنانے کے لیے لگی دوڑ  میں جو لوگ کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں وہ خود کو الیٹ کلاس کے طور پر دوسروں سے تنہاکر رہے ہوتے ہیں جبکہ جو لوگ اس دوڑ میں ناکامی کا منہ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ لور کلاس کاتصور لیے خود کو تنہا کررہے ہوتے ہیں ۔ الیٹ کلاس کو احسا س برتری اور زعم فوقیت دوسروں سے تنہاکیے ہوئے ہے جب کہ لو ر کلاس کو احسا س کمتری و کہتری دوسروں سے تنہاکیے ہوئے ہے ۔نفسا نفسی کے عالم میں  تنہاہر کوئی ہے ،اس تنہائی کی سب سے بری صورت جیتے جاگتے انسانوں میں اٹھتے بیٹھتے بھی تنہا ہونا ہے ۔ جذبات اور احساسات کے قتل نے تنہائی کی یہ سب سے بری صورت پیدا کی ہے ۔

آج تنہائی کا بڑھتا رحجان اور اس کے نقصان دہ پہلو  دنیا  بھر میں سنجیدہ مسئلے کا روپ دھا ر چکے ہیں جس کے حل کے لیے مفکرین و دانشور سر جوڑ کر سوچوں میں سرگردان ہیں ۔ جھنگ اخبار کی ایک رپور ٹ  ملاحظہ کیجئے جس میں مذکور ہو ش ربا اعداد و شمار اس مسئلہ کی حساسیت کونمایاں کرتے ہیں ” ایک اندازے کے مطابق اس وقت صرف امریکا میں 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 4 کروڑ 26 لاکھ افراد کو ’’طویل مدتی تنہائی‘‘ کا سامنا ہے جس کی وجہ یا تو ان کا اپنا مزاج ہے یا پھر معاشرے کی ان کے ساتھ لاتعلقی ہے۔اگرچہ ساری دنیا کے بارے میں طویل مدتی تنہائی سے متعلق اعداد و شمار تو دستیاب نہیں لیکن ممکنہ طور پر اس کیفیت میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد 1 ارب سے زیادہ ہوسکتی ہے۔  جنگ 10 اگست 2017 ، برطانیہ کے حوالے سے  بی بی سی کی  ایک رپورٹ  ملاحظہ فرمائیں جہاں حکومت نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے باقاعدہ ایک وزارت قائم کر رکھی ہے  : ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں 75 سال اور اس سے زائد عمر کی نصف آبادی تنہا رہتی ہے اور ان میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ وہ کئی دن اور کئی ہفتے کوئی سماجی رابطہ نہیں رکھتے۔ تنہائی  صرف بوڑھوں کو ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

تنہائی ذہنی و جسمانی صحت پر کئی منفی اثرات کی حامل ہوتی ہے۔ بی بی سی اور دیگر چینلز نے تنہائی کے مضر صحت ہونے کےحوالے سےمختلف اداروں ، یونیورسٹیوں اور ماہرین  کی مرتب کر دہ رپورٹس بھی نشر کی ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ تنہارہنا یا تنہائی کا شکار ہوجانا کسی شخص کی قبل از وقت موت کا سبب  بھی بن سکتا ہے۔لوگوں سے گھلنا ملنا اور غیر رسمی تعلق رکھنا جسمانی صحت کی بہتری کے لیے ایک ضرورت ہے۔ تنہا رہنے کے سبب دل کی بیماری اور دورے کے خطرے میں ایک تہائی اضافہ ہو جاتاہے ۔ بلڈ پریشر بڑھ جاتاہے  ، غصہ  ، چڑچڑا پن ، بدمزاجی میں اضافہ ہو جاتاہے ، ہارمونز میں بے قاعدگی آجاتی ہے ، نیند ٹھیک طرح سے نہیں آتی ہے ۔ یہ تمام وہ نقصانات ہیں جو تنہائی کے سبب پیدا ہوتے ہیں ،  میرے خیال میں انسان کے اندر اصل چیز جذبات اور احساسات ہیں جب آدمی دوسروں سے گھلتاملتاہے تو ان کا اخراج ہوتاہے لیکن تنہا رہنے والے شخص کے جذبات دب جاتے ہیں اور پھر مرجاتے ہیں جن کےاخراج کی کوئی  مناسب صورت اس کے پاس نہیں ہوتی ہے ۔

اب یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ افراد اور معاشروں کی یہ تنہائی خود بخود پیداہوگئی یا اس کو پیدا کیاگیا ؟ میں ہر چیز میں سازشیں تلاش کرنے کے خلاف ہوں، سازشی تھیوری کے حق میں نہیں ہوں  کیونکہ یہ کسی بھی چیز کی ایک خاص سبب کی طرف نسبت کرکے اصل بات کو دبا دیتی ہے ایسے میں اکثر اوقات لوگ اصل اسباب و محرکات اور ان کے اثرات سے واقف نہیں ہو پاتے ہیں ۔ لیکن یہاں سازش سے زیادہ میں یہ کہوں گا کہ دنیا کی غالب قوموں نے اپنے کاروباری مفادات کے لیے کچھ ایسے اقدامات کر دیے جن کا مابعد کی نسلوں کو فائدے سےزیادہ  نقصان ہوا ۔تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ  انسان اپنی ابتداء سے ہی جس دور میں یہ شکار پر گزارہ کر تےتھے ، جتھوں کی شکل میں رہتے تھے جن سے کمیونٹیز اور قبائل کا سسٹم وجود میں آیا ، ان میں قبیلہ فرد کی ہر اچھی بری چیز کا ذمہ دار ہوتا تھا، خاندان میں   اچھی حیثیت والے لوگ دوسروں کی کفالت کے ذمہ دار ہوتے تھے ، ضرورت کے موقع پر ہر فرد دوسرے کے کام آتاتھا ، گویا تعاون باہمی کے اصول پر معاشرہ چلتاتھا  ۔ فرد اور خاندان ، کنبے ، قبیلے کے درمیان بہت مضبوط تعلق موجود تھا ۔ اس سسٹم کی بھی یقینا کچھ خرابیاں تھیں لیکن اس سسٹم کی بنیادی بات یہ تھی کہ فرد کا سوسائٹی سے ربط بہت مضبوط تھا ۔ جب انسانوں نے اجناس کو کرنسی کی شکل میں ڈھالنا اور محفوظ بنانا سیکھ لیا تب سے سوسائٹیوں کے تیور میں تبدیلی آنے لگی ، لیکن اصل تبدیلی سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ آئی جس میں جمع شدہ پیسے کو فارغ نہیں رہنے دیا جاتاہے  بلکہ اس کو انویسٹ کرکے اس میں مزید اور مزید اضافہ کیا جاتاہے ۔ موجودہ دور کی تمام ترقی میں ایک بڑا ہاتھ اس سرمایہ دارانہ نظام کا ہے ، اسی نظام کے اصول پر تمام بینک چل رہے ہیں جو اصل رقم سے کئی گناہ اضافےکے معاملات کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس نظام نےانسانوں میں حرص ، طمع ، لالچ ، دھوکہ ، فراڈ اور بہت سی خرابیوں کو جنم دیا ، یہی سرمایہ داری کا نظام جب سائنس کے ساتھ ملا تو ایک مشینی دور کی ابتداء ہوئی جس میں ہرچیز میں تیزی آگئی اور پھر مشینوں کے ذریعے صنعتی دور آگیا جس میں انسان نے سہولیات کے لیے ہزاروں لاکھوں چیزیں ایجاد کرلیں ۔ اب ایک بڑا مسئلہ سرمایہ دارانہ نظام پیدا کر چکا تھا کہ جس میں سرمایہ کو دوگنا چوگنا کرنے کی حرص و تمنا تھی دوسرا بڑا مسئلہ بدلتے دور کے ساتھ پیدا ہو ا۔ جب صنعتی نظام سے خواہشات کی تکمیل کے لیے ہزاروں لاکھوں سہولتیں ایجاد ہو چکیں تو ان کو حاصل کرنے کے لیے انسانوں میں مقابلہ سازی شروع ہوگئی ۔ اب ہر فرد کا جمع شدہ سرمایہ ان سہولیات کو حاصل کرنے اور خواہشات کی تکمیل میں لگنے لگا ۔ یوں نفسا نفسی کا ایسا عالم بپا ہوا کہ اپنی ذات سے ہٹ کر کسی کی بھی فکر نہ رہی ۔ جذبات ، احساسات ، محبتیں ، عقیدتیں  ، رشتے ، تقدس ہر چیز کے بندھن کاروبار کی شکل اختیار کر گئے ، وفا ، خلوص اور محبت یہ سب عنقاء ہوگئے ۔ ان حالات میں انسان مشین سے زیادہ کچھ نہ رہا ۔ جب ہر چیز سے سچائی رخصت ہوگئی تو انسان بالکل اکیلا رہ گیا ، لوگوں کے ہجوم ، انسانوں کی بھیڑ ، دوستوں کی محفل ، رشتہ داروں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں تنہا ہوگیا ۔ ہر جگہ موجود ہوکر بھی تنہا رہنے والے انسان نے سچ مچ میں تنہائی اختیار کرنا شروع کر دی ، لوگوں سے علیحدہ ، رشتہ داروں سے علیحدہ ، والدین اور اولاد سے علیحدہ ، بیوی بچوں سے علیحدہ ہو کر زندگی بسر کرنا شروع کردی ۔ اور اس پر آزادی ، پرائیویسی والے خوشنما نعروں کا لیپ چڑھادیا گیا  ۔ انسانی کمیونٹیز اور قبائل کو فری مارکیٹ نے باقاعدہ طے شدہ پروگرام کے تحت تباہ کیا کیونکہ یہ ان کے کاروباری  مفادات میں حائل  تھے  ،فیملی اور لوکل کمیونٹی سسٹم کو ختم کرکے اس کی بجائے ریاستی اور مارکیٹ سسٹم شروع کیاگیا ۔ ہر چیز میں انفرادیت کو بڑھا وا دیا گیا اور اجتماعیت کی ہر شکل کو ختم کر دیاگیا ہر چیز کا ذمہ دار خود فرد ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔عورت اور بچے کو بھی انفرادی حقوق دیے گئے ۔مغرب کے ہاں آزادی اور انفرادیت کے جتنے بھی تصورات نظر آتے ہیں وہ مارکیٹ سسٹم کی وجہ سے ہیں ۔ اب تخیلاتی کمیونٹیز وجود میں آنے لگیں  جن میں نہ جاننے والے لوگ اکٹھے ہوتے اور رہتے ہیں ۔تخیلاتی سوسائٹیوں میں ملکوں کا موجودہ سیٹ اپ بھی ہے۔ انہوں نے قومیت کا نظام تخلیق کیا اور اس میں باہمی مشترکات اور مفادات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ۔

اب جب فرد تنہا رہ گیا تو اس کی تنہائی کو پر کرنے کے لیے بھی سرمایہ دارانہ اور صنعتی نظام حرکت میں آیا اور مصنوعی  طریقے سے اس کی تنہائی کو پر کرنے کی کوشش شروع ہوگئی ۔ سوشل میڈیا اور اس طرح کی تما چیزیں انسان کی تنہائی کو پر کرنے اور اس کو تنہائی کی دلدل میں مزید دھکیلنے کے لیے بنائی گئیں ۔ چنانچہ ان چیزوں کےبعد انسان لا شعوری طور پر  مزید تنہا ہوتاجا رہا ہے ، اور اس تنہائی  میں نفسیاتی اور صحت کے مسائل مسلسل اس کے ساتھ ہیں نتیجہ سب آسائش اور سہولیات حاصل کرکے بھی انسان نامکمل اور ادھوراہے ، بے چین اور کسی چیز کا متلاشی ہے ۔ دنیا بھر کے ماہر نفسیات اس سوال پر غور کر رہے کہ سوشل کی میڈیا کی وجہ سے بڑھنے والی تنہائی اور پیداہونے والی ایک تصوراتی اور خیالی  دنیا انسانوں کو کس طرف لے جائے گی ؟ ان حالات میں  جو کہ پیدا ہو چکے ہیں اور جن میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے ہمیں کیا کرنا ہے ؟ ہم  لوگوں کو جن کا خاندانی سسٹم ابھی تک  کسی نا کسی حد تک محفوظ اور مضبوط ہے خاندانی سسٹم کی حفاظت کرنی چاہیے ، رشتہ داروں اور خاندان کے لوگوں کواہمیت دینی چاہیے ، جن خاندانوں کے تعلقات کمزور ہیں ان کو باہمی تعلقات کو از سر نو منظم ، مربوط اور مضبوط کرنے کی فکر کرنی چاہیے ۔ ایک ایسے دور میں جہاںساتھ والے گھر کے بارے کچھ پتہ نہیں ہوتا ہے ہمیں ہمسایوں کے حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ شفقت ، مودت اور محبت والا تعلق پیدا کرنا چاہیے ۔ خاندان اور ہمسایوں سے بڑھنے والا یہ تعلق ایک  اچھے اور خوشگوار معاشرے کو جنم دے گا ، ایک ایسا معاشرہ جس میں ہر فرد دوسرے کے بارے میں فکر مند ہوگا ، اس کا غمخوارہوگا۔دوسروں کے اچھے ، برے حالات سے آگاہ ہوگا، ان کی حاجات و ضروریات کے لیے خود کو وقف کرنے کو تیا رہوگا ۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور صنعتی انقلاب واپس تو نہیں جاسکتاہے تاہم اس کے مضر اثرات سے ممکن حد تک خود کو کیسے بچائیں ۔ یورپ اور جدید دنیا کے جتنے ممالک ہیں ان کی تلاش اور پیا س میرےخیال میں روحانی نظام ہے جس میں  جذبات اور احساسات کو مناسب اہمیت دی جاتی ہے جس کے ذریعے انسانی مجموعی زندگی میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنے روحانی نظام کو بہتر بناتے ہوئے دنیا کے دیگر لوگوں کو بھی اس نظام سے متعارف کروانا ہے ، اس پر ہم جس قدر محنت کر لیں گے ہم کامیاب رہیں گے ۔ باقی ہر چیز تو ہم جدید دنیا  سے لے رہے ہیں لیکن روحانی نظام جس کی مضبوط بنیادیں ہمارے پاس محفوظ ہیں ان کو دینے کی کوشش کریں جس سے انسانیت کو موجودہ دلدل سے نکلنے میں مدد ملے گی ، انسانوں کی انفرادیت اور تنہائی کم اور معاشرتی زندگی مضبوط ہوگی ۔

عبدالغنی
عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *