سولفظوں کی کہانی ۔ جہیز

تم آخر کر کیا رہی ہو۔؟
شفقت اپنی زوجہ کوکچھ جمع تفریق کرتے دیکھ کر پوچھ ہی بیٹھا۔۔۔
آپ کو تو کچھ پتہ ہی نہیں۔۔۔
بھئی کچھ بتاؤ گی یا پہیلیاں ہی بجھوانی ہیں۔۔۔
ارے سلمیٰ کی نسبت کیئے ایک عرصہ ہوا وہ لوگ شادی کیلئے اصرار کر رہے ہیں۔ میں جو ہر ماہ آپ کی تنخواہ سے رقم پس انداز کرتی رہی ہوں اس کا زیور اور برتن خریدے ہیں ،سلمیٰ کاجہیز بنانے میں کافی مدد ہو جائے گی۔
رات چور آئے اور سب کچھ لے گئے سوائے اس کا غذ کے جس پر جہیز کے سامان کی فہرست تھی۔۔۔

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *