محبت اور فلسفہ محبت ؟

محبت یوں تو کہنے کو فقط الفاظ ہیں مگر اس کے معنی کیا ہیں ؟ کیا یہ جذبہ وجود رکھتاہے ؟ کیا اس کو ہم ثابت کرسکتے ہیں کیونکہ آج کا دور ثابت کرنے کا دور ہے عقلی دلیل سے ک،یا لوگ محبت میں مر کر اس کو ثابت کرسکے یا محبت فقط ایک خوبصور لفظ ہے اور کہیں وجود نہیں رکھتا. میں کہوں گا محبت کائنات کی بنیاد ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات میں سب چیزیں ایک دوسرے سے جُڑی ہیں، اس جُڑے رہنے کا نام محبت ہے جس کی وجہ سے کائنات ہمیں حسین لگتی ہے اسی کی وجہ سے اس کے سب رنگ اونچائیاں گہرائیاں زمین کا ٹھہراؤ سب کے میل جول سے کائنات ہے . اگر اب اگر اس لفظ محبت کو انسانی جذبات کے سانچے میں رکھ کر جانچیں تو دیکھیں کہ جب ماں بچے کو گود میں لیتی ہےاپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے،اسی طرح دیگر لوگ اسے اپنی گود میں لے کر اپنا احساس دلاتے ہیں ،جبکہ اجنبی لمس پاتے ہی بچہ رونے لگتا ہے۔یعنی اپنائیت کا احساس محبت ہے .

اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک جنس کا دوسری جنس کے احساس کو قبول کرنے کا نام محبت ہے . دیکھا جائے تو پھول کا ٹہنی کانٹوں و پتوں کے درمیان کھلنا یعنی سب کی محبت سمیٹ کر وہ ایک خوبصورت پھول کھلتا ہے سب کے احساس کو خود میں سمو کر مگر کیا وجہ ہے انسان کے اندر محبت ہوتے ہوئے بھی اس کو نفرت نے گھیر رکھا ہے؟۔۔۔ دراصل یہ مسئلہ دسرے کے ساتھ نہیں بلکہ خود ہمارے اندر ہے کہ ہم نے نفرت کو اپنے اوپر طاری کر لیا ہے،جس کی وجہ سے محبت کا جذبہ ہمارے اندر ہی کہیں دفن ہو کر رہ گیا ہے۔ اوشو اس بارے میں بڑی خوبصورت مثال دیتے ہیں کہ” ہزاروں سال کا سفر طے کرکے کوئلہ ہیرا بن جاتا ہے جب کہ انسان شعور رکھتے ہوئے بھی اپنی انا و تکبر کے بُت کو نہ توڑسکا” ۔اس کی وجہ آپس کی نفرت اور بیزاری ہے۔یہاں سب ایک دوسرے سے نالا ں دکھائی دیتے ہیں ۔

محبت صرف عورت مرد کے بیچ موجود جذبے کا نام نہیں ،بلکہ یہ دو افراد کے مابین پروان چڑھتی ہے،پھر ان کا تعلق اور رشتہ چاہے جو بھی ہو۔لیکن ہمارے معاشرے میں مرد عورت کی محبت بھی مشکل سے ہی پنپ پاتی ہے کہ یہاں ہر سُو جنسی گھٹن نے اپنے پنچے گاڑ رکھے ہیں ۔آپ کوئلے کی مثال لیں ۔۔کہ جب اپنی مدت پوری نہ کرے تو وہ کالک پھیلانے کا باعث بنتا ہے اور مدت پوری ہوتے ہی ہیرا بن جاتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ انسانوں کے اندر چھپی محبت باہر لانے کے اسباب کیے جائیں ، ورنہ نفرت کی کالک سے کائنات سیاہ ہوجائے گی ۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”محبت اور فلسفہ محبت ؟

  1. محبت ہی جہاں میں باعثِ تخلیقِ آدم ہے
    محبت معرفت ہے، اور یہ ہی مقصودِ عالَم ہے
    محبت ہی سے پیدا ہوتی ہے، انساں میں درویشی
    محبت درحقیقت جوہرِ ارواحِ آدم ہے ۔۔
    شاعر- جی ایم وامِق

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *