آزادی؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

دوکان کے اندرونی کمرے میں رکھا ٹیپ ریکارڈ آنے والے یوم آزادی کی نوید سنائے جا رہا تھا۔ 

“جنون سے اور عشق سے۔۔ ملتی ہے۔۔ آزادی

قربانی کی راہوں میں۔۔۔ ملتی ہے۔۔۔ آزادی”

“بھائی یہ کیا ہے؟ دکھانا ذرا”۔ بلاول نے لکڑی کے بنے اس لٹو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

دوکاندار نے لٹو اٹھا کر پوچھا، “یہ؟ یہ لٹو ہے۔ میں نے پنجاب سے منگوایا ہے۔ یہ دیکھ کیسے مزے سے گھومتا ہے۔ گاؤں میں نہیں ملے گا تجھے۔ نکال دو سو روپیہ اگر خریدنا ہے تو ورنہ بھاگ یہاں سے، وقت ضائع نہ کر میرا”۔ 

دو سو روپیہ قیمت سن کر بلاول بجھ سا گیا۔ دس روپیہ روزانہ وہ ابا کے ہاتھ پہ رکھا کرتا۔ ابا خود بھی سارا دن کوڑا کرکٹ چنتا رہتا مگر پھر بھی بمشکل کھانے کا بندوبست کر پاتا۔ بس وہ موم جیسی بھوری رنگت کی چیز ضرور خریدتا جسے سگریٹ میں ڈال کر پینے کے بعد ابا سکون سے ایک جگہ پڑ جاتا۔ بلاول ابا کو پرسکون دیکھ کر خوب خوش ہوتا مگر عموماً اس دن اسے رات کا کھانا نصیب نہ ہوتا۔ ابا کا سکون دیکھ کر وہ بھوک بھی سہہ جایا کرتا۔

گمبٹ کے قریب جی ٹی روڈ پر واقع یہ ہوٹل ٹرک ڈرائیوروں کی پسندیدہ جگہ تھی کہ یہاں کھانے اور چائے کے سوا بھری سگریٹ، برہنہ فلمیں اور کبھی کبھار جنسی بھوک مٹانے واسطے جسم بھی مل جایا کرتے۔ آٹھ سالہ بلاول اسی ہوٹل میں فجر سے مغرب تک کام کیا کرتا۔ بلاول کو استاد میں ابا کی جھلک دکھائی دیا کرتی۔ وہ استاد کے ہوٹل کا پسندیدہ لڑکا تھا۔ برتن دھونے سے لے کر چائے بنانے اور آرڈر لینے تک سبھی کچھ کیا کرتا۔ بدلے میں استاد اس کا خوب خیال رکھتا۔ دس روپے روزانہ کے علاوہ کھانا پینا اور سال میں ایک جوڑی کپڑے بھی خرید کر دیتا۔

اس دن ہوٹل پہنچ کر بھی بلاول لٹو کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ “روزانہ کے دس روپے تو ابا کو دینے ہوتے ہیں، میں دو سو روپیہ کیسے جمع کر سکتا ہوں؟” وہ سوچنے لگا۔ لگتا ہے استاد سے بات کرنی پڑے گی۔ 

استاد کی بیوی ملتان میں ہوا کرتی تھی۔ شادی کو سات برس ہونے کے باوجود وہ اب تک بچوں سے محروم تھا۔ بلاول کی شکل میں اسے ملازم، اولاد اور بیوی سبھی کچھ مل جایا کرتے۔ کام کرتا ملازم، بات مانتی اولاد اور کام میں آتے ہوئے بیوی۔ بلاول کو شروعات میں استاد کی کچھ عادتیں عجیب سی لگیں مگر پھر وہ عادی ہوگیا۔ ہر تیسرے دن استاد کے کمرے میں پہنچ کر اپنے ننھے ہاتھوں سے استاد کو جنسی سکون پہنچانے پہ بلاول کو پانچ روپے الگ سے ملتے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ استاد سے یہ پیسا بڑھوانا ہے۔ 

“استاد وہ ایک بات کرنی تھی”۔ بلاول نے آنکھیں میچے استاد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ 

“او رک جا بیغیرت، مینوں مزے تے لین دے، حالے کم مکیا نئی تینوں گلاں یاد آندیاں نیں”۔ استاد جو اب تک بلاول کے ہاتھوں کے ذریعے اپنی بیگم کے پہلو کا احساس ڈھونڈے جارہا تھا، نے بیزاری سے جواب دیا۔ 

بلاول نے کمرے سے متصل غسل خانے میں پڑی بالٹی سے ہاتھ دھوئے اور واپس استاد کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ “استاد، یہ والی محنت کے پیسے بڑھا دے ناں”۔ پیسوں کا نام سن کر استاد نے بیگم کے تخیلاتی پہلو پر لعنت بھیجی اور بلاول کے چہرے پہ ایک زور دار تھپڑ رسید کر ڈالا۔ “او سور دیا پتراں، اس میں محنت کون سی ہے؟ یہ تو میری محبت ہے جو میں تجھے الگ سے پیسے دے دیتا ہوں۔ خبردار جو آج کے بعد اس قسم کی بات کی۔ اور بات سن۔ یہ پکڑ بیس روپے، کل آتے ہوئے دوکان سے جھنڈیاں لا کر ہوٹل سجا دینا۔ پتہ تو چلے کہ ہم آزاد ہیں”۔

“لٹو تو میں لے کر رہوں گا۔ ہر حال میں”۔ استاد کے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے اس کی نظر دوکاندار پر پڑی جو کن انکھیوں سے تمام منظر دیکھ چکا تھا۔ بلاول اداس آنکھوں سے اس کی جانب دیکھتا ہوا باہر آرڈر لینے نکل پڑا۔ مغرب کے بعد گھر پہنچا تو ابا پھر چرس کے حصول میں کامیاب ہوچکا تھا۔ بلاول کو آج بھوکا ہی سونا تھا۔ 

صبح 14 اگست تھی۔ آزادی کے مفہوم سے نابلد بلاول آنکھ کھلتے ہی منہ ہاتھ دھو کر ہوٹل نکل پڑا۔ راستے میں لٹو والی دوکان پڑنی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح لٹو خرید لے اور جس دن ابا رات کا کھانا نہ دے اس گھومتے لٹو کو دیکھ کر اپنا وقت گزار لیا کرے۔ دوکان سے اسے استاد کے ہوٹل کے لیے جھنڈیاں بھی لینی تھیں۔ وہ دوکان پہنچا اور لٹو کی جانب گھورتے ہوئے دوکاندار سے جھنڈیاں مانگیں۔ 

“بات سن، ادھر آجا، یہاں اندر، جھنڈیاں بھی دیکھ لے اور لٹو بھی”۔ دوکاندار کی پیش کش سن کر اسے یقین نہ آیا۔

“چاچا، دیر ہوگئی تو استاد مارے گا، کیوں مذاق مذاق میں میری کمر ادھڑوانے کے چکر میں ہے”۔ بلاول نے ٹالنے کی کوشش کی۔ 

“پتر مذاق کوئی نہیں، تو آ تو سہی”۔ اب کی بار دوکاندار نے مزید سنجیدگی سے کہا۔ بلاول اندر آگیا۔ 

“یہ پکڑ لٹو، تیرا ہوا، مگر ایک شرط ہے”۔ بلاول لٹو میں کھو چکا تھا۔ اس کھلونے کو پانے کے لیے آٹھ سالہ یہ بچہ ہر شرط ماننے کو تیار تھا۔ 

“بول چاچا، جو تو کہے، بس یہ لٹو میرا ہے”۔ بلاول کی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی۔ 

“اے شاباشے، چل پھر اندر جا، یہ اندر والے کمرے میں، میں ابھی آیا”۔ دوکاندار نے معنی خیز نظروں سے اسے اندر دھکیل دیا، دوکان کا شٹر گرایا اور ٹیپ ریکارڈ کی آواز آخری حد تک اونچی کر ڈالی۔ دوکان کے اندرونی کمرے میں سات آدمی مزید موجود تھے۔ جب تک بلاول معاملہ سمجھ پاتا، دوکاندار سمیت یہ آٹھوں گِدھ معصوم بلاول کے جسم پہ حملہ آور ہوچکے تھے۔ یوم آزادی کا پورا دن بلاول کے جسم اور روح کے درمیان لڑائی میں گزرا۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ماؤف تھیں۔ وہ فقط یہ آٹھ چہرے یاد رکھنے کی کوشش میں تھا مگر شاید یہ چہرے اسے بھولنا چاہتے تھے۔ 

رات گئے بلاول کو واپس نہ پا کر اس کے باپ نے خدا ترس تھانیدار کی منت سماجت کی اور اسے سرچ ٹیم بنانے پر آمادہ کیا۔ بلاول کا باپ، ہوٹل کا مالک استاد اور تھانیدار اس دوکان میں پہنچے جہاں کچھ مختلف تھا۔ شٹر لگی دوکان میں جشن آزادی کا نغمہ پوری آواز کے ساتھ سنائی دے رہا تھا۔ تھانیدار نے شٹر تڑوایا اور اندرونی کمرے میں پہنچے۔ 

چھت سے منسلک کئی ٹائر ٹیوبز جنہیں جوڑ کر بلاول کے گلے کا پھندا بنایا گیا تھا، آٹھ سالہ معصوم کی لاش تھامے جھول رہی تھیں۔ بلاول کا جسم نیلا، جگہ جگہ سے خون آلود اور لباس سے بے نیاز تھا۔ ڈھیلوں سے باہر نکلتی آنکھیں اپنے ہی ہاتھ میں تھمے لٹو پہ تھیں جن پہ گرفت سخت ہوچکی تھی۔ 

دوکان کے اندرونی کمرے میں رکھا ٹیپ ریکارڈ آنے والے یوم آزادی کی نوید سنائے جا رہا تھا۔ 

“جنون سے اور عشق سے۔۔ ملتی ہے۔۔ آزادی

قربانی کی راہوں میں۔۔۔ ملتی ہے۔۔۔ آزادی”

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *