کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(قسط 63)۔۔گوتم حیات

لاک ڈاؤن کو پندرہ جولائی 2020 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ “سمارٹ لاک ڈاؤن” ہے جس میں پبلک ٹرانسپورٹ رواں دواں ہے۔ ملک بھر کے ماہرینِ صحت ابھی بھی سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان کے جائز مطالبات نہایت ہی بےحسی کے ساتھ رد کیے جا رہے ہیں۔ اگر ابتدا سے ہی بروقت سخت لاک ڈاؤن نافذ کر کے شہریوں سے عملدرآمد کروایا جاتا تو آج حالات کنٹرول میں ہوتے۔ موجودہ حکومت کی غفلت کا خمیازہ اب عوام بھگت رہی ہے۔ اس وقت صرف کراچی شہر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ مجموعی طور پر ملک بھر میں کرونا کے مریضوں کی کُل تعداد دو لاکھ سترہ ہزار تین سو پینسٹھ ہو چکی ہے۔ اب دیکھتے ہیں پندرہ جولائی تک یہ ہندسہ کہاں تک پہنچتا ہے۔
پچھلی جمعرات کو میں تقریبا ً بیس مارچ کے بعد پہلی بار گھر سے باہر نکلا اور صدر کی طرف روانہ ہوا۔

اتنے دنوں بعد گھر سے باہر نکل کر عجیب سا احساس ہوا، شہر بھر میں کچھ بھی نہیں بدلا تھا، سوائے لوگوں کے چہروں کے، کیونکہ اب زیادہ تر چہرے ماسک کے پیچھے چُھپے ہوئے تھے مجھے یہ سب دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آخرکار عام لوگوں نے بھی احتیاطی تدابیر پابندی سے اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ میں چونکہ پبلک بس میں صدر کے لیے روانہ ہوا تھا اس لیے میری کوشش تھی کہ زیادہ سے  زیادہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو سکوں، اتفاق سے “بس” میں عام دنوں کی نسبت بہت ہی کم مسافر بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے سفر کے دوران مجھے وبا سے کسی بھی قسم کا خوف نہیں ہوا، اگر مسافر زیادہ ہوتے حیسا کہ عام معمول ہے تو میرا پورا سفر خدشات میں ہی گزر جاتا اور جب تک صدر نہ آتا تو میری سانس اٹکی ہی رہتی۔ کرونا کی وجہ سے میں عجیب کشمکش کا شکار ہو چکا ہوں، یہ بیماری اس تیزی سے پھیلی ہے کہ اب مجھے ہر وقت یہی ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں مجھے کرونا نہ ہو جائے، اس لیے میں اپنی طرف سے ہر ممکن احتیاط برت رہا ہوں۔ میں بخیر و عافیت   جب صدر پہنچا تو مجھے وہاں کی رونقیں دیکھ کر بےحد خوشی ہوئی کیونکہ تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد میں نے صدر کے بس  سٹاپ پر قدم رکھا تھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا، چہل پہل، دکانوں پر رش اور چائے کے بیشتر ہوٹلوں کے آدھے شٹر نیچے گرے ہوئے تھے، اندر یقیناً گاہک مزیدار چائے نوش کر رہے ہوں گے، میں نے چاہتے ہوئے بھی ہوٹلوں کے اندر جھانکنا مناسب نہیں سمجھا۔ عام دنوں میں یہ وہی میرے پسندیدہ ہوٹلز تھے جن کے اندر جانا میں سعادت سمجھتا تھا لیکن اس بار معاملہ صحت کا تھا اور میں کسی بھی صورت میں وہاں جا کر کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔

دل نے کہا اتنے دنوں سے ہوٹلوں کی چائے نہیں پی، ایک آدھ کپ پی لینے میں کیا حرج ہے، کوئی کرونا نہیں ہوتا اپنی پسندیدہ چائے پینے سے، لیکن اگر کرونا ہو گیا تو۔۔اس لیے ان ہوٹلوں کی چائے پینے کا ارادہ اچھے دنوں کے لیے ملتوی کر کے میں پیدل چلتا ہوا سڑک کراس کر کے ایمپریس مارکیٹ کے اندر داخل ہو گیا۔ مارکیٹ کی اندرونی دکانوں کے اطمینان سے دو، تین چکّر لگا لینے کے بعد میں نے کچھ سبزیاں خریدیں اور اچار لے کر شریف لوگوں کی طرح خاموشی سے بس میں بیٹھا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔ واپسی میں بھی “بس” میں مسافروں کی تعداد محدود تھی۔۔۔ وبا کے دنوں میں یہ میرا پہلا سفر تھا جو خوش اسلوبی سے انجام کو پہنچا۔ کئی سالوں بعد ایسا پہلی بار ہوا کہ میں سورج ڈھلنے سے دو گھنٹے پہلے اپنے گھر کے اندر پہنچ چکا تھا۔ عام دنوں میں یہ میری پکّی روایت تھی کہ جب صبح گھر سے نکلو تو رات گئے گھر واپس پہنچو۔۔۔ کرونا نے میری اس پکّی روایت کو بھی جانے کہاں گُم کر دیا ہے۔؟

جاری ہے!