مجھے لیڈر چاہیے۔۔۔۔ عارف خٹک

آج کی شخصیت عمر نواز ِخٹک بہادرخیل!

تحصیل بانڈہ داؤد شاہ میں تیل اور گیس کے ذخائر کی حالیہ دریافت نے جہاں پاکستان کی قسمت بدل ڈالی۔وہاں ساتھ ہی ساتھ کرک اور کوہاٹ کے کچھ مخصوص سیاسی خاندانوں کی قسمت بھی بدل گئی۔
مگر نہیں بدلی،تو بانڈہ داؤد شاہ کے لوگوں کی قسمت ، جو ویسی کی ویسی ہی رہی۔یہاں تعلیم کی مد میں کوئی نیا کالج یا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ نہیں کُھل سکا۔ پچھلے دورِ حکومت میں اس علاقے کو مکمل طور نظرانداز کردیا گیا۔بانڈہ داؤد شاہ کے لوگوں کا ذریعۂ آمدن کرک کے لوگوں سے اوسطاً پچاس فی صد کم ہے۔ پہاڑی علاقہ اور نمک کے وسیع ذخائر نے زمین کو کاشت کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔لہٰذا ننانوے فی صد لوگوں کا دارومدار نوکریوں یا اندرون ملک اور بیرون ملک مزدوری پر ہوتا ہے۔

تعلیم اور روزگار کی کمی کی وجہ سے آج تک سیاسی طور پر کوئی مضبوط لیڈرشپ سامنے نہیں آسکی۔ بانڈہ داؤد شاہ کے باسی آج بھی کرک سے تعلق رکھنے والی سیاسی لیڈرشپ کے محتاج ہوتے ہیں۔
بانڈہ داؤد شاہ میں ٹیری اور بہادرخیل سب سے زیادہ آبادی والے قصبے ہیں۔ لہٰذا یہاں سے جن سیاسی لیڈروں نے سر اُٹھانےکی کوشش کی،اُن کی آواز کو برے طریقے سے دبا دیا گیا۔ اور اسی دباؤ کا نتیجہ یہ سامنے  آیا کہ حالیہ الیکشن میں بانڈہ داؤد شاہ کا کوئی باسی سیاسی طور پر آگے نہیں آسکا۔ علاقہ مکوڑی کے شمس الزمان کی سیاسی قوت بھی کرک کی مقامی لیڈرشپ کی مرہون منّت ہوتی ہے۔ جس سے اس تحصیل کا احساسِ محرومی اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کے پچھلے دور حکومت میں لوگوں نے متوقع تبدیلی کےلئے ذہنی طور پر خود کو تیار رکھا تھا۔مگر روایتی کرپشن کی وجہ بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹوں کی خریدوفروخت کے لئے پارٹی کے کرپٹ سربراہوں نےکُھلے عام پیسے لئے۔اور دوسری پارٹیوں کے نمائندوں کو ٹکٹ دے کر جہاں اقربا پروری کی بدترین مثال قائم کی۔وہاں تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے اُبھرتے سیاسی رہنماؤں کو مایُوسی کےعمیق غاروں میں دھکیل دیا گیا۔
کرک میں کچھ تعلیم یافتہ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس اہم ایشو کو اُٹھایا۔اور مقامی طور پر نئے لیڈرشپ کےلئے کوشاں ہوکر ہر فورم پر آواز اُٹھائی۔ اس سلسلے میں شاہد خٹک ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ جس نے پیسہ، مضبُوط سیاسی بیک گراؤنڈ اور تجربہ کے بغیر محض تعلیم اور واضح موقف کےساتھ بھرپُور کامیابی حاصل کی۔اور کرک سے غیر روایتی سیاست کا خاتمہ کرڈالا۔جو عام پاکستانیوں کے علاوہ مقامی سیاست کےلئے بھی ایک سبق ہے۔

ہم کوشش کریں گے،کہ بانڈہ داؤد شاہ جیسے پسماندہ تحصیل سے غربت کے سائے تلے پلے بڑھے ان گُمنام سیاسی رہنماؤں کو سامنے لےکر آسکیں۔جنہیں یہ باور کرایاگیا،کہ سیاست ان کے بس کی بات نہیں۔حالانکہ یہاں سیاسی طور پر بُہت مضبوط اُمیدوار ہیں۔ لیکن بس پہچاننے کی ضرورت ہے۔
عمرنواز خٹک کا تعلق کرک کے شمال میں واقع بہادرخیل سے ہے۔ دورانِ طالب علمی 1998ء میں پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہوئے۔ سیاسی طور پر ایک مضبوط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
کمیونزم کے بانی ولادی میر لینن کے ذاتی دوست، سُبھاش چندر بوش کے اتالیق اور انگریز سرکار کو ٹف ٹائم دینے والے بین الاقوامی شخصیت خوشحال کاکاجی کے پوتے ہیں۔ ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انتہائی نرم دل اور سُلجھی ہوئی طبعیت کے مالک ہیں۔ دھیمے لہجے میں بات کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے سامع بھی ہیں۔

سابقہ بلدیاتی الیکشن کے لئے یُوسی ناظم کے ٹکٹ کے اُمیدوار رہے۔ مگر سابقہ ایم۔پی۔اے نے پیسے لےکر ن لیگ کے ایک کارکن کو پارٹی دے کر جہاں عمر نواز خٹک کو سیاست سے کنارہ کش کرنے پر مجبور کردیا۔وہاں عقریب خٹک جیسے نظریاتی کارکن بھی منظر نامے سے غائب ہوگئے۔ جو پہلے دن سے ہی عمران خان کےساتھ کھڑے نظر آئے تھے۔ جنہوں نے علاقے میں پہلی بار تحریک انصاف کا پرچم لہرایا۔
حالیہ الیکشن کمپیئن کے دوران یوسی بہادرخیل اور ملحقہ علاقوں میں ان نظریاتی کارکنوں نے جس طریقے اپنی مدد آپ کے تحت پارٹی کمپیئن چلائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

عمر نواز خٹک اسلام آباد میں مقیم ہیں اور پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ان کو دوبارہ اپنے رابطے علاقائی سطح پر بحال کرنے ہوں گے۔ تاکہ سیاست میں ایک خوشگوار تبدیلی آسکے۔

سیاست میں انھیں جمُود پسند نہیں ہے۔ اور لامحالہ ایک اچھی لیڈرشپ کی خصوصیات رکھنے والا یہ بندہ اب سیاست سے جزوی طور پر کنارہ کش ہوچکا ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *